شیر لوہے کے جال میں ہے


پاکستان کے سیاسی معاملات پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی مبصر نے کہا تھا کہ اگر میاں ن\"mujahidواز شریف موجودہ بحران سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ ملک کی تاریخ کے سب سے طاقتور لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن 2 نومبر سے پہلے حکومت نے اسلام آباد کو کھلا رکھنے کےلئے ملک بند کرنے کے جو ہتھکنڈے اختیار کئے ہیں، وہ حکومت کی مشکلوں میں شدید اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ صوابی کے نزدیک اسلام آباد آنے والی ہائی وے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے چند ہزار کارکنوں کا جلوس سوموار کو رات گئے تک پولیس سے مقابلہ میں مصروف تھا۔ ہجوم کرینوں کی مدد سے پولیس کی طرف سے شاہراہ بند کرنے کےلئے کھڑے کئے گئے کنٹینر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ پولیس آنسو گیس کے استعمال سے ان لوگوں کو پنجاب کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس دوران اسلام آباد میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تاہم اس قسم کے اقدام کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مسترد کریں گی اور حکومت کی بے بسی اور لاچاری میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے اب تک جو اقدام کئے ہیں، ان سے صرف یہی تاثر ملتا ہے کہ صورتحال کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر اقدامات کرنے کی بجائے افراتفری میں کسی مشکل پر قابو پانے کےلئے کارروائی کی جاتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں نئی بحرانی صورتحال جنم لے لیتی ہے۔

نواز شریف کی حکومت کو اس وقت سیاسی جماعتوں ، فوج اور عدلیہ کی جانب سے بیک وقت اندیشے لاحق ہیں اور وہ کسی بھی پہلو سے کوئی دانشمندانہ اور سوچا سمجھا قدم اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اسلام آباد بند کرنے کی دھمکیاں صرف عمران خان کی طرف سے دی گئی تھیں اور ملک کی باقی اہم سیاسی جماعتوں نے ان کے اس اعلان کو مسترد کیا تھا۔ حکومت اپوزیشن میں پیدا ہونے والے اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کے پاس اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت کرنے کےلئے چار سے پانچ ہفتے کا وقت تھا لیکن روایتی ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کی وجہ سے حکومت پارلیمانی اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ کا آغاز کرنے میں ناکام رہی۔ عمران خان اسلام آباد کو شٹ ڈاؤن کرنے کے اعلان پر بالکل تنہا تھے۔ پھر انہوں نے اپنی سخت کلامی کے سبب پیپلز پارٹی کو بھی مشتعل کیا تھا جو پاناما پیپرز کے معاملہ پر شروع میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر نواز شریف کے خلاف تحریک چلانے کی بات کرتی تھی۔ لیکن 2 نومبر رونما ہونے سے پہلے ہی حکومت نے اس قسم کے انتظامی اقدامات کئے ہیں کہ ہر مرحلے پر پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کی مذمت اور تحریک انصاف کے حق احتجاج کی حمایت میں بیان دینے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

اس کا بدترین مظاہرہ خیبر پخونخوا کو پنجاب سے بند کرنے کے اقدامات کرکے کیا گیا ہے۔ لاہور سے پشاور تک موٹر وے بند کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسلام آباد سے پشاور کے درمیان جی ٹی روڈ کو بھی بند کیا گیا ہے۔ آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک پارٹی کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہ رہے ہیں لیکن پولیس ان کا راستہ روکے کھڑی ہے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ٹیلی ویژن پر آنسو گیس پھینکنے، لوگوں کے بھاگنے، پھر جمع ہوکر کرینوں کے ذریعے کنٹینر ہٹانے کے مناظر ملک بھر کے لوگوں کو حکومت کی بدحواسی اور ناکامی کے شواہد دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ بیان مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک صوبہ وفاق پر حملہ کر رہا ہے۔ لیکن وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا یہ بیان جائز اور درست سمجھا جائے گا کہ آخر حکومت کس آئینی حق کے تحت ایک صوبے کو جانے والے راستے بند کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس لئے ملک کے سارے مبصر اور اپوزیشن پارٹیاں صوابی انٹر چینج پر حکومت کی زبردستی کو مسترد کر رہی ہیں۔ بجا طور سے یہ استفسار کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے تو اسلام آباد بند کرنے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔ لیکن حکومت نے اس کے خوف میں دارالحکومت کو چاروں طرف سے فصیل بند کر دیا ہے۔ اس خوف میں کہ تحریک انصاف کے کارکن دیگر علاقوں سے اسلام آباد نہ پہنچ پائیں، شہر کو آنے والے سارے راستے بند کئے گئے ہیں۔ اس طرح جو کام عمران خان اپنے چند ہزار حمایتیوں کے ساتھ کرنے میں ناکام رہتے، حکومت نے سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے اسے پورا کر دکھایا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکومت کو اخلاقی اور قانونی فتح حاصل ہوئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو شہری زندگی معطل کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ اپنا احتجاج اور دھرنا شکر پڑیاں کے قریب پریڈ گراؤنڈ جسے جمہوریت پارک بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ تک محدود رکھے۔ لیکن عدالت نے اس کے ساتھ ہی حکومت کو بھی پابند کیا تھا کہ وہ رکاوٹیں کھڑی کرکے اور کنٹینر لگا کر شہر کو بند نہیں کرے گی۔ اس کامیابی سے فائدہ اٹھا کر تحریک انصاف کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی بجائے حکومت نے تھوڑی ہی دیر بعد دفعہ 144 کا عذر تراشتے ہوئے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن پر دھاوا بولا اور سو سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ اسے سے اگلے روز راولپنڈی میں لال حویلی کا علاقہ کنٹینر لگا کر حصار بند کر دیا گیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد شیخ رشید بمشکل تھوڑی دیر کےلئے کمیٹی چوک پہنچے لیکن انہیں جلسہ کرنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ جانے والے سارے راستے بند کرکے عملی طور سے انہیں اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے خود بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن وہاں پہنچنے والے چند درجن کارکنوں کے ساتھ پولیس کی ہاتھا پائی اور زور زبردستی کے مناظر مستقل ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دکھائے جا رہے ہیں اور یہ سوال سامنے لا رہے ہیں کہ حکومت کس اختیار کے تحت ایک شہری علاقے کو بند کر رہی ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف کی شٹ ڈاؤن اپیل کے خلاف حکومت کی سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ کسی پارٹی کو شہر بند کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب حکومت خود ہی شہریوں کا جینا حرام کر رہی ہے اور ان کی نقل و حرکت کو ناممکن بنا رہی ہے تو اسے اس بات کا جواب تو دینا ہوگا کہ جو کام کسی سیاسی پارٹی کو کرنے کا اختیار نہیں ہے، حکومت کو شہریوں کے خلاف وہی اقدام کرنے کا حق کیوں کر دیا جا سکتا ہے۔

خاص طور سے جب ہائیکورٹ کا واضح حکم بھی موجود ہو کہ حکومت شہر کو بند نہیں کر سکتی۔ حکومت جب خود اس عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کر رہی ہے تو وہ تحریک انصاف کی طرف سے اس حکم پر احتجاج کو کیسے مسترد کر سکتی ہے۔ بنی گالہ اور لال حویلی کے راستے بند کرکے حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ طاقت کے بے دریغ استعمال سے سیاسی اپوزیشن کو ہراساں کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس بارے میں عدالت کے حکم کو بھی خاطر میں لانے کےلئے تیار نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے آج بھی اس مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے ایک مخصوص جگہ پر جلسہ کرنے اور دھرنا دینے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن ساتھ ہی حکومت کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے راستے بند نہ کرے۔ جس وقت اس عدالتی فیصلہ کی خبر سامنے آ رہی تھی تو مختلف ٹیلی ویژن چینلز کے رپورٹر یہ اطلاع بھی دے رہے تھے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کو محفوظ بنانے کےلئے کنٹینر منتقل کئے جا رہے ہیں۔ یعنی حکومت عدالتی حکم کو خاطر میں لانے کےلئے تیار نہیں ہے۔ تو کیا عجب ہے کہ تحریک انصاف بھی عدالت کا حکم ماننے سے انکار کرتی ہے یا اس کے خلاف سپریم کورٹ سے استدعا کرنے والی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم سامنے آنے اور حکومت کی طرف سے طاقت کے مظاہرہ کے باوجود تحریک انصاف کے لیڈر اسلام آباد بند کرنے کے اعلان سے منحرف ہونے لگے تھے۔ وہ یہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی کبھی بھی شہر بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن عمران خان کی اپیل پر اگر دس پندرہ لاکھ لوگ اسلام آباد آ گئے تو شہری زندگی از خود مفلوج ہو جائے گی، جس پر پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں ہو گا۔ حکومت نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور تحریک انصاف کے ساتھ رابطہ کے ذریعے متوازن حل تلاش کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنے ترجمانوں کے ذریعے یہ پروپیگنڈا جاری رکھا کہ تحریک انصاف شہر کو بند کرنا چاہتی ہے اور وہ اسی کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کے نمائندوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ راستے بند کرکے اور بنی گالہ کا محاصرہ کرکے تحریک انصاف کے عزائم کو قبل از وقت ناکام بنایا گیا ہے۔ اس کا جواب تو دو روز بعد ہی ملے گا کہ تحریک انصاف کس حد تک اسلام آباد میں اپنے کارکن داخل کر سکتی ہے اور حکومت کس حد تک شہری زندگی بحال رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن حکومتی اقدامات کی وجہ سے ایک تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، ایک صوبے کے راستے بند کرنے کے بارے میں آئینی سوال اٹھا ہے اور سیاسی لحاظ سے اگر تحریک انصاف اسلام آباد میں طاقت کا مظاہرہ نہ بھی کر سکی تو بھی یہ حکومت کی کامیابی کی بجائے عمران خان کی کامیابی کہلائے گی کہ انہوں نے حکومت کو بدحواس کیا اور اس کی مشینری کو معطل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

سامنے آنے والی خبروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اطراف سے تحریک انصاف کے چند ہزار کارکن اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسی طرح عمران خان بھی بنی گالہ سے نکلیں گے اور جس احتجاجی گروپ کو پولیس جہاں روکنے کی کوشش کرے گی، وہیں تصادم ہوگا۔ پولیس اور مظاہرین ایک دوسرے پر حملے کریں گے۔ کسی جانی نقصان کی صورت میں حکومت کو بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی۔ حکومت نے تحریک انصاف کے احتجاج سے نمٹنے کے تمام معتدل اور متوازن طریقے یکسر مسترد کئے ہوئے ہیں۔ حالانکہ عدالتی حکم کے تحت وہ مظاہرین کو جمہوریت پارک تک جانے اور جلسہ و احتجاج کرنے کا حق دینے کی پابند ہے۔ اگر ان مظاہرین کو راستے میں روک کر جمہوریت پارک جانے کا راستہ ہی نہیں دیا جائے گا تو عمران خان اور ان کے ساتھ اسے اپنی کامیابی سے ہی تعبیر کریں گے اور ملک کے عوام ان کی بات سے متفق ہوں گے۔

نواز شریف کی حکومت تحریک انصاف کی طرف سے سامنے آنے والے سیاسی چیلنج سے بھی اسی بدحواسی سے کسی باقاعدہ منصوبہ کے بغیر نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا مظاہرہ اس نے ڈان میں خبر کی اشاعت کے سوال پر اپنے ردعمل میں کیا ہے۔ حکومت نے پہلے سیرل المیڈا اور اخبار کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ اخبار نے جب خبر کی صداقت پر اصرار کیا اور فوج نے بھی اخبار کی بجائے حکومت سے جواب طلب کیا تو کافی سوچ بچار کے بعد پرویز رشید کو کابینہ سے نکال کر مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب اسی حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کے مقدمہ کی سماعت میں معاملہ کو موخر کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن مسائل سے نظریں چرانے اور کسی طرح مشکل صورتحال کو ٹالنے کی پالیسی اب کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نواز شریف کو بہرصورت اپنے خاندان کے وسائل کا حساب دینا پڑے گا۔ انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ وزیراعظم منتخب ہونے کی وجہ سے انہیں احتساب سے استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ مالی بدعنوانی کے الزامات کا جواب صرف تحریک انصاف کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ پوری قوم وزیراعظم اور ان کے بعد دیگر لیڈروں سے یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ ان کا ذریعہ آمدنی کیا ہے اور انہوں نے دولت کے انبار کس طرح جمع کئے ہیں۔

وزیراعظم کو تو مثال بن کر احتساب کا سامنا کرنا چاہئے تھا۔ وہ پہلے سب کا احتساب اور دوسروں سے بھی پوچھو، جیسے عذر تراش کر خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرسکتے۔ نواز شریف موجودہ سیاسی چیلنج اور فوج کے ساتھ تصادم کی صورتحال سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو بھی مالی بدعنوانی کے الزامات اس وقت تک ان کا پیچھا کریں گے جب تک وہ شفاف تحقیقات کے ذریعے خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali