کووڈ۔19 ایک وبا ہے، اسے قومی المیہ بننے سے روکا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے ممتاز تبلیغی رہنما مولانا طارق جمیل سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے مذہبی رہنماؤں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے بارے میں وزیر اعظم ہاؤس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر وزیر اعظم نے مولانا طارق جمیل اور ان کے ساتھیوں سے ہاتھ نہیں ملایا۔ اس طرح بظاہر عوام تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وبا کی صورت میں مصافحہ سے گریز شریعت کے عین مطابق ہے۔
مولانا طارق جمیل تبلیغ تک محدود تھے تاہم انہوں نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے موجودہ حکومت کی سیاسی حمایت کی ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ عمران خان مدینہ ریاست کا منصوبہ پورا کرکے ملک میں حقیقی اسلام لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سیاسی حمایت سے قطع نظر بھی مولانا طارق جمیل اپنے خطبات اور جنت اور اس کے لوازمات کا ذکر کرنے کے حوالے سے بھی متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ان کا ایک خطاب سوشل میڈیا پر عام ہؤا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس وبا سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ موت برحق ہے اور اسے اپنے وقت پر ہی آنا ہے۔ اگرچہ اس بنیادی عقیدہ سے کوئی شخص اختلاف نہیں کرتا لیکن ایک ایسے وقت میں جب ایک وبا سے نمٹنے کے لئے پوری دل جمعی سے بچاؤ کی تراکیب پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، کسی عالم دین کی یہ تلقین کہ موت اسی وقت آئے گی جو کسی کی تقدیر میں متعین کیا جاچکا ہے، دراصل عوام میں ذہنی انتشار پیدا کرنے کے علاوہ مرض کی سنگینی سے لاتعلقی کا اظہار ہے۔ ایسے متنازعہ مذہبی لیڈر سے وزیر اعظم کی ملاقات سے یہ تاثر قوی ہوگا کہ حکومت نے ایک ایسے وائرس کا مقابلہ کرنے کا کام اللہ پر چھوڑ دیا ہے جس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پوری دنیا اپنے تمام تر وسائل اور کوششیں بروئے کار لانے کی کوشش کررہی ہے۔
کورونا ایک وائرس ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے کووڈ۔19 کا نام دیا ہے۔ اس جراثیم کو انسانوں میں پھیلنے سے روکنے کے لئے کوئی ویکسین ابھی تک تیار نہیں ہوسکی ہے۔ کسی نئے وائرس کا سراغ لگنے کے بعد عام طور سے نئی ویکسین تیار ہونے میں چھ سے نو ماہ کا وقت صرف ہوتا ہے۔ اس وقت جرمنی کے علاوہ متعدد ممالک میں محققین ، ڈاکٹر اور سائنسدان اس جرثومے سے مدافعت کے لئے ویکسین تیار کرنے کے لئے دن رات کام کررہے ہیں۔ تاہم جب تک یہ ویکسین تیار ہوکر عام لوگوں تک نہیں پہنچتی اور انسانوں کے مدافعتی نظام کو کورونا سے محفوظ کرنے کا بھرپور انتظام نہیں ہوجاتا ، اس وقت تک یورپ، امریکہ اور جنوبی امریکہ کے علاوہ متعدد عرب اور ایشیائی ممالک اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔
کووڈ۔ 19 سرعت سے ایک سے دوسرے انسان تک پہنچتا ہے، اسی لئے کثرت سے ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا جارہا ہے اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے فاصلے پر رہیں۔ بڑے اجتماعات کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے اور جن علاقوں میں اس وبا کے پھیلنے کا اندیشہ محسوس کیا جاتا ہے ، وہاں محلے، علاقے یا شہر بند کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اٹلی ، اسپین اور فرانس میں اس طریقہ پر ہی عمل ہورہا ہے۔ دیگر یورپی ملکوں میں اجتماعات پر پابندی کے علاوہ ریستوران اور سینما گھر بند کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لوگوں کو محتاط رہنے اور ایک دوسرے سے رابطے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور اپنے شہریوں کے علاوہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کو کسی ملک میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ بھی کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں، انہیں پندرہ روز کے لئے گھر تک محدود رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ اگر اس مدت میں بیماری کے آثار پیدا ہوں تو اس کا ٹیسٹ کرکے فیصلہ کیا جاسکے کہ مریض کو ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں بھیجا جائے یا اسے گھر پر رہ کر ہی اپنا علاج کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ دونوں صورتوں میں وائرس سے متاثرہ شخص کو دوسرے انسانوں سے ملنے سے روکا جاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایدھانوم نے بتایا ہے کہ ویکسین دریافت ہونے تک اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا واحد طریقہ اس کا سرکل توڑنا ہے۔ یعنی ان لوگوں کو باقی لوگوں سے علیحدہ کیا جائے جو اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس طرح امید کی جاتی ہے کہ وائرس کے متاثرین کی تعداد کم کی جاسکتی ہے اور آبادی کی بڑی تعداد کو اس سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا عملی تجربہ سب سے پہلے چین نے کیا تھا۔ اس کے شہر ووہان میں اس وبا کے پھوٹنے کے بعد جنوری میں ایک کروڑ آبادی کے اس شہر اور پورے صوبے ہوبے کو لاک ڈاؤن کیا گیا۔ چینی حکام نے مریضوں کا علاج کرنے کے لئے چند روز میں کئی نئے ہسپتال بنانے کے علاوہ شہروں کے متعدد ہوٹلوں اور ہوسٹلوں کو آئسولیشن مراکز میں تبدیل کردیا۔ جن لوگوں میں بھی اس وائرس کی موجودگی کا شبہ تھا، انہیں فوری طور سے عام لوگوں اور اہل خاندان سے علیحدہ کرکے ان مراکز میں رکھا جاتا تھا۔ شروع میں یہ اقدامات سنگدلانہ اور انتہائی محسوس کئے گئے تھے لیکن اس طریقہ سے چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک لیا گیا۔ اب وہاں صحت مند ہونے والے لوگوں کی تعداد متاثرین سے بڑھ رہی ہے اور نئے مریضوں میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔
یورپی ممالک اٹلی ، سپین اور فرانس میں بھی اب اسی طریقہ کو اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کسی طرح وائرس کا سرکل توڑ کر اس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ دیگر ممالک میں مریضوں کی تعداد اور وائرس کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فیصلے کئے جارہے ہیں۔ جنوبی کوریا نے اس وائرس کو شکست دینے کے لئے ایسے تمام لوگوں کا وسیع پیمانے پر ٹیسٹ لینے کا اہتمام کیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس طرح مریضوں کا بروقت علاج کرنے کے علاوہ ان متاثرین کی نشاندہی سے باقی آبادی کو محفوظ کرنے اور وائرس کے پھیلنے کا زور توڑنے کا اہتمام کیا گیا۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ نے بھی اسی طریقہ کا اعلان کیا ہے۔ قومی ایمرجنسی کے انتظامات کے تحت لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کروانے کی سہولت فراہم کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور ماہرین کی طرف سے صدر ٹرمپ پر اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے بروقت تیاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اس رائے کے مطابق اگر چین میں یہ وائرس پھیلنے کے فوری بعد امریکہ میں احتیاطی اور کنٹرول کا طریقہ اختیار کرلیا جاتا تو یہ مرض اس تیزی سے نہ پھیلتا۔ یورپی ملکوں میں بھی زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کا انتظام کرنے اور مشتبہ متاثرہ لوگوں کو آبادی سے علیحدہ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
پاکستان میں ابھی تک اس وبا کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ حکومت اسی بات پر مطمئن رہی ہے کہ ملک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ یہ تعداد صرف ایران و شام سے واپس آنے والے زائرین اور دیگر ملکوں سے آنے والے منتخب لوگوں کا ٹیسٹ کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک ملک میں مجموعی طور پر ساڑھے سات سو لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جاسکا ہے۔ حکومت یا اس کے کسی ادارے کے پاس ایسے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں کہ ایران یا افغانستان سے کسی امیگریشن یا کنٹرول کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے والوں کی تعداد کیا ہوسکتی ہے اور ان میں بھی کوئی لوگ وائرس کے کیرئیر ہوسکتے ہیں۔ یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی متاثرہ شخص اپنے اہل خاندان کے علاوہ اپنے گاؤں، بستی یا علاقے میں اسے پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس وبا کے حوالے سے علمی گفتگواور عملی اقدمات کی حوصلہ افزائی کی بجائے اسے عقیدہ و مذہب سے نتھی کرکے غیر ضروری مباحث کا آغاز کیا گیا ہے۔ یا نام نہاد سازشی نظریات کو پھیلایا جارہا ہے۔ اس طرح صورت حال کی سنگینی کو سمجھنے کی بجائے عام لوگوں میں لاپرواہی کا مزاج فروغ پارہا ہے اور پاکستان کے بیشتر شہری یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس وائرس سے کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ حکومت نے بھی وائرس کی روک تھام کے لئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوئی باقاعدہ مہم شروع نہیں کی۔ اسکول اور شادی ہال بند کرنے کا فیصلہ بھی نیم دلی سے کیا گیا ہے۔ ابھی تک دینی مدارس بند کرنے یا مساجد کے اجتماعات پر پابندی کا اقدام نہیں ہوسکا جو اس وائرس کو روکنے کے لئے فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے چوبیس گھنٹے میں ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد تین گنا ہونے کے بعد بھی یہی پیغام دیا ہے کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر اعظم قوم سے جلد خطاب کریں گے۔ حیرت ہے کورونا سے مقابلہ کے لئے حفاظتی تدابیر کاا علان کرنے یا اس بحران میں قوم کی حوصلہ افزائی کے لئے عمران خان کو ابھی تک خطاب کا وقت ہی نہیں مل سکا ہے لیکن وہ ایک عالم دین سے مل کر یہ تاثر قوی کرنے کا اہتمام ضرور کررہے ہیں کہ وائرس کا علاج دعاؤں یا استغفار سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
پاکستانی حکومت اور عوام کو سمجھنا چاہئے کہ کووڈ۔19 کا علاج دستیاب نہیں ہے لیکن اس کی روک تھام انسانوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یہ وائرس ایک وبا ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اہل پاکستان ابھی سے ہوشیار ہوکر اس وائرس کو قومی المیہ میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ حکومت نے اگر یہ وقت باتیں بنانے اور گھبرانا نہیں ہے کا ورد کرنے میں ضائع کردیا تو کورونا سے پاکستان میں شدید بحران اور مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1440 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *