کیچ یاترا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2006 کو گریجویشن مکمل ہو چکی تھی۔ ذرائع آمدن ختم ہو چکے تھے۔ غمِ روزگار ستانے لگا۔ تو کسی نے بتایا کہ پوسٹ آفس آواران میں پوسٹ مین کی پوزیشن خالی ہے۔ ڈیلی ویجز بنیاد پر کام کرنا پسند کرو گے۔ جھٹ سے ہاں کردی۔ حصولِ ملازمت کے لیے اپنے ڈاکومنٹس کیچ روانہ کر دیے۔ مکران کے ساتھ آواران کے زمینی رابطے تو ختم ہی ہو گئے تھے۔ مگر ڈاکخانہ آواران اب بھی قدیم نام ”کولواہ“ سے نہ مٹا سکا تھالفظِ کولواہ مکران کے ساتھ وابستگی کا واحد وسیلہ تھا۔ چند دنوں کے بعد اطلاع آئی کہ تقررنامہ تیار ہو چکا ہے۔ فیکس ہونا باقی ہے۔ اس وقت ای میل ذرائع سے ناآشنا تھے۔ فیکس کی سہولت فقط ایک جگہ دستیاب تھی۔ کوششوں کے باوجود مجھے وہ تقررنامہ بذریعہ فیکس نہیں ملا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ تقررنامہ کا حصول مجھے کیچ کا دیدار کرنے کا جواز فراہم کر چکا تھا۔

اگلے روز لوکل ٹرانسپورٹرز کے ذریعے سے کیچ کے لیے روانہ ہوا۔ روانگی سہ پہر کے وقت تھی۔ ہمیں 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ سڑکیں خستہ حال تھیں۔ گریڈر کے ذریعے سے جن سڑکوں کی مرمت اور ان کی بھرائی کا کام قلی ورکرز کے ذریعے سے ہوا کرتا تھاوہ سلسلہ تھم چکا تھا۔ کیچ میرے لیے اجنبی شہر تھا وجہ پہلی بار وہاں جا رہا تھا۔ جیب میں فقط کرائے کا پیسہ تھا۔ راستے میں سوچتا رہا کہ قیام کا کیا ہوگا۔ اگر یہ نہیں ہوا تو کیا ہوگا۔

عصر کے وقت وین نماز کے لیے رکی۔ تو سفر کے ایک ساتھی جن کا نام عطاء اللہ تھا سے کہنے لگا ”عطاء اللہ بھائی میں تو پہلی بار کیچ جا رہا ہوں۔ علاقہ میرے لیے اجنبی ہے۔ ٹھہرنے کا کوئی بندوبست ہوگا؟ “۔ عطا اللہ کاروبار کے سلسلے میں کیچ آتا جاتا رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فکر نہ کریں رہائش کا انتظام موجود ہے۔ ان کی باتوں نے حوصلہ دیا۔ تین گھنٹے کا سفر ہم نے دس گھنٹے میں طے کیا۔ تربت سٹی کے اندر داخل ہوئے تو شب کے 4 بج چکے تھے۔

ہم مسجد میں پناہ لے چکے تھے۔ نیند کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ موزن کی آواز بھی نہ جگا سکا۔ کسی نمازی نے آکر جگا دیا۔ نو بجے جب ڈاکخانہ کھل گیا۔ تو پہلے سے ہی وہاں انتظار کی گھڑیاں گنتے موجود تھا۔ آرڈر جب موصول ہوا تو 11 بج چکے تھے۔ آرڈر موصول ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کی طرف لپکا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ سوار نکل چکا تھا۔ گاڑی کے انتظار میں مزید 2 دن انتظار کرنا پڑا۔ دو دن کے لیے قیام گاہ کا انتخاب آب سر میں واقع مولوی عبدالرحیم کا مدرسہ تھا۔

مولوی عبدالرحیم کا بنیادی تعلق آواران کے علاقے مشکے سے بتایا جاتا ہے۔ مشکے میں ان کے لیے حالات سازگار نہیں ہوئے تو انہیں مشکے سے نقل مکانی کرنی پڑی۔ اور وہ گزشتہ چار دہائی سے یہیں آب سر کیچ میں آباد ہیں۔ چوتھے روز جب واپس آواران پہنچا تو شب کے 4 بج چکے تھے۔ ہلکی سے نیند کرنے کے بعد جب کولواہ ڈاکخانہ پہنچا تو ڈاک کا ایک انبار میرا منتظر تھا جسے تقسیم کرنا تھا۔ مگر کولواہ ڈاکخانہ کے ساتھ سفر فقط چار ماہ پر محیط رہا اس کے بعد الوداع کہا۔

پنجگور سے کیچ کا 3 گھنٹے کا سفر طے کرکے جب ہم کیچ سٹی میں داخل ہوئے تو موجودہ تربت سٹی 14 سالہ پرانے تربت شہر سے یکسر مختلف تھا۔ اب کی بار ہم نے محسوس کیا کہ تربت کشادہ سڑکوں، مارکیٹ کی ترتیب اور تعلیمی اداروں کے قیام کی وجہ سے کافی ترقی پا چکا تھا۔ ہم نے اپنی آمد کی اطلاع کسی کو نہیں دی تھی۔ جس کی بنیادی وجہ کمیونیکیشن کا ناقص نظام تھا۔ پنجگور کی طرح کیچ بھی مجموعی طور پر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے سے بے بہرہ تھا۔

انٹرنیٹ کی جان بوجھ کر بندش نے دورِ جدید کی تمام تر اکائیوں کو پس پشت ڈال کر تمام تر سلسلوں کی نفی کیا تھی۔ جس کرونا وائرس کے وبا کا خوف کراچی اور دیگر شہروں پر طاری تھا۔ انٹرنیٹ اور معلومات تک عدم رسائی نے یہاں کے لوگوں کو اس وبا سے بیگانہ کیا تھا۔ بس یہی چیز ان علاقوں کو ممتاز بنا رہی تھی کہ یہ خوفِ کرونا سے آزاد تھے۔

وین سے اترتے ہی انتخاب مین روڑ تربت پر واقع ”النعیم ہوٹل“ تھا۔ ہوٹل پہنچتے ہی ہماری نگاہیں پیارے دوست نعیم شاد کی متلاشی تھیں۔ تین بار جب ہم نے انہیں پکارا تب انہوں نے سر اٹھایا۔ ہمیں دیکھتے ہی انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ ”یہ چون۔ تو ءُ ڈاکٹر چہ کجا۔ شما ہال بھی نہ دات ءَ“۔ گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ ”کون سی چائے پیئیں گے؟ “۔ سلیمانی اور دودھ پتی چائے کا آرڈر ہوا۔

ہوٹل نعیم کے والد گمشاد عادل کی تخلیق ہے۔ جب وہ بیرون ملک مسافرانہ زندگی سے تنگ آیا تو اپنے آبائی علاقہ کیچ میں قیام کے لیے منصوبہ بندی کی اور یہاں آئے ”النعیم ہوٹل“ کے نام سے روزگار کا آغاز کیا۔ میں نے از راہِ مذاق بات چھیڑ دی۔ لگتا ہے لفظِ ”ال“ سے بلوچ کو کافی انسیت ہوگئی ہے۔ عربوں کے ساتھ محبت کے اظہار کے لیے لفظِ ”چ“ کے بجائے ”ش“ بھی فخریہ لگا لیتا ہے جو بلوچ کو البلوش بنا کر عربوں کے ساتھ قربت کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اس کی کہانی نعیم شاد یوں بتاتے ہیں۔

شادی کے بعد جب والد کو غمِ روزگار ستانے لگا۔ تو انہوں نے چوری چپکے اور گھر والوں کو بن بتائے عرب ممالک جانے کا فیصلہ کیا۔ براستہ سمندر جب وہ دبئی پہنچا۔ تو انہیں گرفتار کیا گیا۔ جہاں تین ماہ تک وہ قیدِ مشقت کاٹ کر سب کی نگاہوں سے اوجھل یعنی لاپتہ رہا۔ خاندان پریشان، دوست پریشان۔ گمشاد عادل کو ڈھونڈنے اس کے دوست نکل آئے تب پتہ چلا کہ وہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ دوست اسے قید وبند سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

شام کے وقت جب اس کا دوست اسے دبئی میں واقع ایک ریسٹورنٹ لے آیا۔ ریسٹورنٹ سے اسے روزگار کی آفر آئی۔ یوں غمِ روزگار سے انہوں نے نجات پائی اور پانچ سال تک وہ دبئی میں واقع ”النعیم ریسٹورنٹ“ میں کام کرتے رہے۔ وہاں سے نکل آئے۔ تربت پہنچ کر اپنا ہوٹل کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ہوٹل کا نام ”النعیم ہوٹل“ رکھ دیا۔ اسمِ نعیم سے انہیں گہرا لگاؤ تھا۔ دوسرے بیٹے کا نام نعیم رکھ دیا۔

بڑے بیٹے ندیم سول ہسپتال تربت میں اپنا کیفے چلاتے ہیں۔ نعیم سول ایوی ایشن میں ملازم ہیں۔ ادب کے ساتھ گہری لگاؤ رکھتے ہیں۔ شاعری کرتے ہیں افسانہ لکھتے ہیں اس سے بڑھ کر یہ سماج کے لیے دردِ دل ررکھتے ہیں۔ ملازمت سے فراغت پاتے ہی والد کا ہاتھ بٹھانے النعیم ریسٹورنٹ آجاتے ہیں۔ والد کو بیٹوں کے ساتھ لگاؤ ہے اور ان کو والد کے ساتھ۔ باپ بیٹوں کے درمیان دوستانہ رشتے کی بندھن کا یہ عالم ہے کہ بڑے بیٹے ندیم نے ان کے نام کا پہلا حصہ اپنا نام کے ساتھ بطور لاحقہ لگا دیا ہے۔ ”ندیم گم“ کہلاتے ہیں۔ نعیم اپنے کے ساتھ لفظِ شاد کو بطور لاحقہ استعمال میں لے آتے ہیں۔ رشتوں میں محبت، اپنا پن اور احترام کا جذبہ دیکھ کر دل ہی دل میں ان کے لیے دعاؤں کا سلسلہ امڈ آیا۔

شب نے کیچ پر اپنی بانہیں بھیلانا شروع کیے تھے۔ ہم ایک بار پھر سے آبسر کے لیے روانہ ہوئے۔ اب کی بار ہمارا ٹھکانہ مولوی عبدالرحیم کا مدرسہ نہیں بلکہ نعیم شاد کا مہمان خانہ تھا۔

(سفرنامہ جاری ہے ”)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *