ہماری حکومت اور نفرت کا وائرس


پنجاب، پاکستان کا دل گنا جاتا ہے اور لاہور، پنجاب کا دل۔ خاص طور جب سے پنجاب سمیت ملک میں شریفوں نے حکمرانی کی شروع کی ہے تو لاہور، تخت لاہور کے طور پر جانا جاتا ہے اور شاید ہمارے سرائیکی بھائیوں کی لاہور سے کچھ ٹھن سی گئی ہے جو کسی حد تک نفرت تک پہنچ چکی ہے۔ میر اخیال غلط بھی ہوسکتا ہے، لیکن چونکہ سرائیکی بیلٹ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے حقوق لاہوریوں نے ضبط کرلیے ہیں۔ رؤف کلاسرا بھی اکثر وبیشتر سرائیکی بھائیوں کی محرومیوں اور حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے اپنے سرائیکی ہونے کا حق ادا کرتے رہتے ہیں۔

کلاسرا صاحب، اب تو پورا ملک اس نفرت کے وائرس کا شکار ہوچکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے میرا لاہور آنا جانا لگا رہتا ہے، اور لاہور میں میری رہائش خالد پرویز صاحب کے ہاں ہوتی ہے۔ یہ ان کی شفقت ہے کہ جب بھی لاہور آتا ہوں چاہے کوئی بھی کام ہو، میری آرام گاہ ان کے دولت خانے پر ہوتی ہے۔ خالد پرویز صاحب کے ساتھ میری ملاقات ایک دوست کے توسط سے ہوئی تھی جو خود آج کل امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ پاک، یورو ورلڈ کے نام سے ایک میگزین چلاتے تھے لہذا اس میں میری خدمات درکا رتھیں، جو کچھ عرصہ تک جاری رہی مگر تعلق مستقل قائم ہوگیا۔

خالد پرویز صاحب بڑے ہی نفیس اور کم گو انسان ہیں، زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور ”ماحول“ کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ ان کے کام کا اپناہی انداز ہوتا ہے اور ان کے تجزیے اکثر ٹھیک ہی ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد سے لاہور کے لیے نکلا تو معلوم ہوا کہ وہ لاہور میں موجود نہیں، لہذا میں نے انہیں زحمت دینا مناسب نہ سمجھا اور اردگرد کی مصروفیات میں گم ہوگیا۔ اب کی بار میں کوئی ایک سال کے بعد لاہور آیا ہوں۔ یہاں میرے بڑے بھائی ایرک پرویز لگ بھگ تین دہائیاں پہلے آکر آباد ہوئے تھے، سال 2015 ء میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں بھائی کے انتقال کے بعد ہم بھائیوں نے کوشش کی کہ بھابھی اور بچوں کو راولپنڈی میں شفٹ کردیا جائے مگر بھابھی اس بات پر راضی نہ ہوئی۔

اب ہمارے خاندان میں جو بھی لاہور آتا تو کوشش ہوتی ہے تو بچوں سے ضرور ملاقات کی جائے، لہذا میں نے باٹا پور کے لئے اوبر Uber بک کی۔ کینال روڑ سے ہوتے ہوئے جب ہم جی ٹی روڑ کی جانب مڑے تو ہمارے سر پر اورنج ٹرین کابند منصوبہ نظر آیا تو میں نے حیرانگی کے انداز میں نے اوبر والے سے کہا کہ یہ منصوبہ ابھی تک شروع نہیں ہوا، وہ تو جیسے پہلے سے دکھی تھا اور میں نے اس کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہو۔ میں اس کی سیاسی وابستگی یا اصل دکھ تو نہیں جانتا البتہ وہ کہہ رہاتھا کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو ملکی دولت کے ضیاع یا عوام کی فکر ہوتی تو اورنج ٹرین یا عوامی سہولت کے اہم منصوبے بند نہ کرتے۔

اورنج ٹرین بند، عوام کی سہولت کے لیے سستی ٹرانسپورٹ بند کرکے کباڑ کے بھاؤ بیچ دی گئی ہے۔ حکمرانوں سے کسی کو ذاتی اختلاف ہوسکتا ہے مگر عوامی سہولت کے پروگرام سے کسی کو دشمنی نہیں ہوگی۔ موجودہ حکمرانوں نے پورے ملک میں کوئی ترقیاتی کام شروع ہی نہیں کیا البتہ جو سابقہ دور میں شروع کیے گئے منصوبوں کو صرف ذاتی عناد اور نفرت کی بنیاد پر بند کرکے نہ صرف سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے اربوں روپے برباد کیے ہیں بلکہ عوام سے سہولت چھین لی گئی ہے۔

راولپنڈی میں ائیرپورٹ کی جانب جانے والے میٹروبس منصوبہ بند، فیصل ایونیو، روات تک سگنل فری منصوبہ بند ہے جس کے باعث شام اور صبح کے وقت منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کتنے اور منصوبے ہوں گے جو صرف نفرت کی نذر ہوگئے ہیں۔ یہ صرف نفرت کا وائرس ہے جس کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جتنی گرفتاریاں، مقدمات اور الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ شاید اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ سیاست دان، بیورکریٹس، بزنس مین یہاں تک صحافیوں کے ساتھ ذاتی عناد رکھتے ہوئے ان کو نوکریوں سے برخاست کروانے سے لے کر میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کروائی گئی۔

نیب جس نے کرپشن کے نام سے شہرت حاصل کی تھی وہ صرف انتقام لینے کا ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے آپ کسی پر بھی الزام عائد کرکے انتقام کا نشانہ بناسکتے ہیں۔ آپ پر تو اپوزیشن میں بھی تنقید کرنے والا کوئی نہیں بچا، صرف میڈیا ہی رہ گیا تھاجس کو ایک ایک کرکے تقسیم کیا گیا ہے اور اب انتقام لیا جارہا ہے۔ اس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں کہ تما م تر کوششوں کے باوجود مہنگائی ہرگزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور حالات پریشان کن حدتک خراب ہیں اور ٹھیک ہونے کی کوئی امید نہیں۔ بظاہر تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ آپ ذاتی عناد کی خاطر تباہی کے دھانے پر لاچکے ہیں یا پھر آ پ سعودی یا چینی ماڈل کے تحت لانا چاہتے ہیں۔ لیکن معاف کرنا یہ جمہوریت نہیں ہے۔ صرف اندھے فالورز ہی ہوں گے جو جناب کی واہ واہ کرتے رہیں گے، کیونکہ زمینی حقائق تو بہت تلخ ہیں۔

Facebook Comments HS