پشتو زبان کے فلسفی شاعر غنی خان


دنیا کی کوئی زبان ادب کے بغیر طرقی حاصل نہیں کرسکتی، پشتو زبان کی کامیابی اور مقبولیت میں ادب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشتو دنیا کے قدیم زبانوں میں سے ایک ہے، جو سنکڑوں لہجوں کے ساتھ ابھی تک ایک مکمل حالت میں زندہ ہے۔ پشتو ادب سے وابستہ افراد نے پشتو ادب کی شع کبھی بجھنے نہیں دیا، اور قلم کی طاقت سے اس کی حفاطت اور پرورش بہتر انداز میں کرتے ارہے ہیں۔

پشتو ادب کے اس وسیع میدان میں امیرکروڑ سے لے کر رحمان بابا، خوشال خٹک، کاکاجی صنوبر حسین، قلندرمومند، خمزہ شینواری، خاطر افریدی، غنی خان، اجمل خٹک، ایوب صابر، صاحب شاہ صابر، راج ولی شاہ خٹک، رحمت شاہ ساحل، نورلبشرنوید سمیت ہزاروں ادبی شخصیات نے نثر اور شعر کے ذریعے اپنا لوہا منوایا ہے۔

ہم نے اس کالم میں ”لیونے فلسفی“ کے نام سے مقبول پشتو زبان کے نامور شاعر، دانشور، مجسمہ ساز اور سیاستدان عبدالغی خان المعروف غنی خان کے کی بائیو گرافی اور شاعری پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔

غنی خان سال 1914 کو چارسدہ کے معروف گھرانے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے ہی حاصل کی، قران پاک کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے، اور مٹرک کرنے کے بعد والد نے ان کو مزید تعلیم کے لئے دہلی بھجوایا، جہاں جامعہ مدینہ مدرسہ میں داخلہ لیا۔

غنی خان 23 جولائی 1929 کو اعلی تعلیم کے لئے بحری جہاز کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوئے۔ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان اس طویل سمندری سفر میں غنی خان نے اپنی پہلی نطم تحلیق کی، یو پشتو ادب کے ایک اور اچھے باب کا اغاز ہوا۔

برطانیہ کے بعد انجنئرنگ کی تعلیم کے لئے غنی خان امریکہ چلے گئے، مگر اس دوران انگریزوں نے ہندوستان میں باچا خان کو گرفتار کرلیا، والد کے گرفتاری پر غنی خان کو مجبورن ہندوستان واپس لوٹنا پڑا۔

غنی خان جب ملاقات کی عرض سے والد سے ملنے جیل گئے تواس وقت باچا خان کے ساتھ ایک بیرک میں جواہرلعل نہرو اور مولانا عبدالکلام ازاد بھی ایک ہی بیرک میں قید تھے۔ باچا خان نے غنی خان کو پینٹ شرٹ میں دیکھا تو بہت ناراض ہوئے، مولانا عبدالکلام ازاد اور جوہر لعل نہرو باچا خان کے پریشانی کو بھانپ گئے۔

بعد میں غنی خان کو ہندوستان کے سابق وزیراعظم جواہرلعل نہرو کی بیٹی اندراگاندھی کے ساتھ ٹیگور انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا۔ اسی دوران غنی خان نے فن مصوری سیکھا شروع کیا، اپنے دوستوں کی تصویریں بہت اچھے انداز میں بناتے۔ کالج کے پرنسپل عبدالغنی خان کے مصوری سے بے حد متاثر ہوئے، یوں غنی خان نے فن مصوری میں اپنا سکھا جما لیا۔

1935 کو عبدالغنی خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، اور عملی سیاست کا اغاز کیا، مسلم لیگ سمیت ہندو قامپرست جماعتوں کی شدید محالفت کے باوجود غنی خان متحدہ ہندوستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ یہاں سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ غنی خان سب سے کم عمر ممبر تھے، ساتھ میں تین پارلیمنٹیرین میں سے ایک تھے جو بہترین مقر ر ہونے کے ساتھ گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔

عبدالغنی خان نے ازادی سے قبل پشتون کی بھلائی کے لئے ”پشتون زلمے“ نامی تحریک بنائی جس میں اسی ہزار نوجوان شامل تھے۔ نوجوان کے لئے یہ ایک بہترین پلیٹ فارم تھا۔ ازادی کے بعد 1950 کو غنی خان جیل چلے گئے جہاں شاعری کا پہلا مجموعہ ”د پنجرے چغار“ لکھ دیا، جس کو 1056 کو شائع کیا گیا، غنی خان کے اسی مجموعے پر خان عبدالقیوم خان اور ایوب خان نے دو مرتبہ پابندی لگائی تاکہ کوئی اسے پڑھ نہ سکے۔

1960 میں غنی خان کی دوسری کتاب فانوس شائع ہوا، جبکہ 1980 میں ”د غنی خان لٹون“ کے نام سے تیسرا کتاب شائع کیا گیا۔

غنی خان ’دی پٹھان‘ کے نام سے انگلش کتاب کے مصنف بھی ہے جو امازون پر انلائن دستیاب ہے۔

غنی خان نے پشتو ادب میں جس طرح اظہار کیا ہے، پشتو زبان کے دیگر شعرا سے بالکل مختیلف ہے، جیسا کے غنی خان کا ایک شعر ہے،

چغی وھی اجل تھ ملا تۀ اوری ک۔ ۀ ناوری؟

تشھ خاورہ نۀ دھ غنی څنګھ بھ شی خاوری!

ترجمہ کچھ یوں ہے کہ، اجل کو پکار رہا ہے وہ سنے یا نہ، غنی صرف مٹی نہیں جو مٹی ہوجائے۔

غنی خان کی خیالات، شاعری پڑھے والے انسانوں جینے کا حق چھیننے والی، پیارو محبت سے روکنے والی، اور حقیقی ازادی کا حق چھیننے والی قوتوں کے خلاف جدوجہد، جستجو اور مقابلے کی ضرورت بیدار کرتی ہے۔ جس کا اندازہ غنی خان کی کتاب پر دو دفعہ پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔

غنی خان کی شاعری میں تصوف، طنز، رزم بزم شامل ہیں۔ غنی خان کا ایک اور شعر ہے،

ھشنغر کی نور نو څھ دی

یو غنی دی نور ګنی

ترجمہ، ہشنغر میں اور کیا ہے، ایک غنی ہے باقی گنے ہیں۔ ( ہشنغر چارسدہ میں جگہ کا نام ہے )

غنی خان کا ایک اور شعر ہے،

داسی مستی غواړم چی یی مرګ نشی وژلی

زھ دی د غ۔ م۔ ون۔ و د ب۔ یګا او س۔ با نھ یم

ترجمہ: ایسی مستی چاہتا ہوں، جس کو موت بھی نہیں مارسکتی، غموں کا کیا، وہ مجھے صبح شام نہیں چھوڑتے۔

پشتو ادب اور مصوری میں اعلی خدمات پر 23 مارچ 1980 کو غنی خان کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا تھا۔

پشتو زبان کا یہ عظیم شاعر اور فلسفی 15 مارچ 1996 کو یہ فانی دنیا چھوڑ گئے، مگر اج بھی غنی خان کی اشغار ہر زبان زد عام ہے، غنی خان کے لکھے گئے شاعری گیتوں کے صورت میں پوری دنیا میں لوگ سنتے ہیں۔ غنی خان کی یادیں، باتیں اور اشعار اج بھی بڑے تعداد میں لاگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔

Facebook Comments HS