کرونا کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوف، خدشات، کیا ہو گا، کیا ہونے والا ہے؟

کوئی کسی کو تسلیاں دے رہا ہے، کوئی اعداد و شماربتا رہا ہے، کسی کو پوری دنیا کی فکر ہے، کوئی اپنے گھر والوں کے لئے فکر مند ہے، تو کسی کو صرف اپنی پڑی ہے۔

دوستو، ساتھیوں، صورتحال مشکل ضرور ہے لیکن اس صورتحال کا مقابلہ بھی ہم نے ہی کرنا ہے۔

تو سب سے پہلے تو جسٹ چِل۔

اس کے بعد اس وقت تک، سب سے خوشی کی بات ہے کہ وفاق، صوبائی حکومت اور میڈیا کا رویہ اس وقت تک بہت مثبت رہا ہے۔ احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں، حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جا رہا ہے، احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔

اب میری، آپ کی اور ہم سب کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس پوری صورتحال کا سنجیدگی سے اور اپنی اپنی صلاحیتیوں کے ساتھ حکومت کا ساتھ دیں، اورجس حد تک مکن ہو سکے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں۔

اس وقت تک سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ، موبائل اور ٹی وی نیٹ ورکس اس صورتحال سے متاثر نہیں ہیں، تو میں، آپ اور ہم سب مندرجہ ذیل دس ( 10 ) اقدامات کر سکتے ہیں۔

1۔ یقینا اس صورتحال کا اثر معاشی معاملات پر بھی ہونا ہے، اس لئے اگر آپ دودھ والے ہیں، اخبار والے ہیں، سبزی والے

ہیں، میڈیکل اسٹور والے ہیں، مٹھائی والے ہیں، بیکری والے ہیں، فلٹر پانی والے ہیں، کریانہ والے ہیں، تو ایک چھوٹا سا پمفلٹ چھپوا کر اپنے علاقے میں بانٹ دیں، جس میں آپکی سروسز اور رابطہ نمبر موجود ہوں، اور لوگ فون کے ذریعے آپ کو آرڈر لکھوا دیں اور آپ ان کے دروازے پر انہیں اپنی اچھی، صحت مند اور معیاری سرسز مہیا کر سکیں، جس سے آپ کی ناصرف آمدنی اچھی ہو سکے گی، بلکہ لوگوں کو بھی سہولت ہو جائے گی۔

2۔ اگرآپ ٹیوشن پڑھاتے ہیں، سپارہ پڑھاتے ہیں، کمپیوٹرسیکھاتے ہیں، تو واٹس ایپ وڈیو، اسکائپ، زوم کو استعمال کریں اور ان چھٹیوں میں بھی آپ گھر بیٹھے اپنی سروسز جاری رکھ سکتے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز بھی موجود ہیں جو آپ کو باقاعدہ اس طرح کی سروسز مہیا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، تلاش کریں اور انہیں جوائن کریں۔

3۔ اگر آُپ ڈاکٹر ہیں، پیرامیڈکس ہیں، تو لوگوں کو آپ واٹس ایپ، اسکائپ، فیس بک، زوم کے ذریعے بھی اپنی سروسز جاری رکھ سکتے ہیں۔

4۔ اگر آُپ کریم، اوبر، سیارہ، ایس ڈبلیو وی ایل، یا آئیر لفٹ میں سفر کرتے ہیں یا اس بزنس میں شامل میں تو آپ کے اس وائرس سے متاثر ہونے کے چانسز زیادہ ہیں، اس لئے اپنی گاڑیوں کے دروازوں کو مناسب طور پر صاف ستھرا رکھیں۔ اگر ممکن ہو سکے تو اپنی گاڑیوں میں سینیٹائزررکھ لیں اور اپنے تمام کسٹمرز کو اس کے استعمال کی تاکید کریں حفاظتی ماسک ضرور پہنیں، ۔ تاکہ آپ اور آُپ کے کسٹمرز محفوظ رہ سکیں۔

5۔ اگر آپ میوزیشن ہیں، سنگر ہیں، تولوگوں کے لئے موٹیویشنل گانے لکھیں اور انٹرنیٹ پر جاری کریں۔

6۔ کیونکہ اس صورتحال میں لوگوں سے میل جول کم سے کم رکھنا ہے اس لئے، کچھ اچھی کتابیں اگر خرید سکتے ہیں تو خرید لیں ورنہ آج کل آن لائن لائبریز موجود ہیں وہاں سے فری ڈاون لوڈ کرلیں اور ایک اچھا وقت ان کتابوں کے ساتھ گزر سکتا ہے۔ اگر آپ استاد ہیں، تو چھوٹی چھوٹی یوٹیوب پر بچوں کے لئے وڈیوز بنائیں، جو بچوں اور ان کے والدین کی گھر بیٹھ کر اپنے بچوں کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں۔

7۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرلیں، اور اس سلسلے میں وفاقی، صوبائی اور متعلقہ اداروں کے پیجز کو لائک کرلیں تاکہ کسی بھی خبر کی تصدیق فوری کر سکیں، اور جن کو نہیں پتہ انہیں بھی آپ درست اطلاع پہنچا سکیں۔

8۔ اس وقت تک اللہ کا شکر ہے پاکستان میں وائرس کے بہت کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن اس کا مطب ہرگز یہ نہیں کہ ہم احتیاط نا کریں، جہاں تک ہو سکے خود بھی، اپنے گھر والوں کو بھی، اپنے دوست اور ملنے والوں کو بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تاکید کریں۔ کسی بھی رش والی جگہ پر جانے سے گریز کریں، بہت ضروری ہو تو تمام حفاظتی اقدامات کومد نظررکھیں، ماسک پہنیں، لوگوں سے ہاتھ نا ملائیں، سینیٹائزر کا استعمال کریں، پانی زیادہ استعمال کریں۔

9۔ اپنے ساتھ ساتھ، اپنی ماسی، ڈرائیورز، خانساماں، اپنے گھر، آفسز، کارخانوں اور دکانوں پر کام کرنے والوں کا بھی خیال رکھیں، انہیں اگر ممکن ہو سکے حفاظتی ماسک اور سینیٹائزمہیا کردیں اور انہیں بھی حفاظتی اقدامات سے آگاہ کریں۔ خود بھی عمل کریں انہیں بھی کروایں، کیونکہ صرف آپ کا محفوظ رہنا ہی کافی نہیں ہے، کینیڈا کی وزیراعظم کی بیوی بھی متاثر ہو چکی ہیں۔ اس وائرس کا پھیلاؤ امیر یا غریب دیکھ کر نہیں ہو گا۔ صرف احتیاط، ذمہ دارانہ رویہ ہی بچا سکتا ہے۔

10۔ اپنی ہر ممکن کوشش کے ساتھ ساتھ اللہ پر یقین رکھیں، اپنے، اپنے گھروالوں، اپنے عزیز و اقارب اور تمام لوگوں کے تحفظ کے لئے دعا بھی کرتے رہیں۔ لیکن صرف دعا پر اکتفا نا کریں۔ اپنی ہر ممکن حفاظتی تدابیر بھی جارکھیں۔

اللہ آپ کا، میرا اور اس پاکستان کا حامی و ناصر رہے۔ آمین

شکریہ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

راشد محمود خان

بلاگر تعلیم کے حوالے سے سافٹ وئیر انجینئر ہیں اور نوجوانوں کی ایک غیرسرکاری تنظیم میں چیف ایگزیکٹیو افسر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

rashid-mehmood-khan has 15 posts and counting.See all posts by rashid-mehmood-khan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments