ڈاکٹر مبشر حسن : ایک روشن چراغ تھا، نہ رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلز پارٹی کے بانی رکن، سابق وفاقی وزیر اور دانشور ڈاکٹر مبشر حسن بھی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ انتہائی بردبار، حلیم الطبع ، معاملہ فہم اور ترقی پسند تحریک کے عوام دوست رہنما تھے۔ ان کے انتقال سے پاکستان کی سیاست سے شائستگی، شرافت و نجابت، دوراندیشی، اور مجبوروں، ہاریوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے دور کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ بلاشبہ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔

 بنیادی طور پر ڈاکٹر صاحب کا تعلق انجینئرنگ کے شعبے سے تھا۔ اور ایک استاد کی حیثیت سے منفرد اور ہر دل عزیز شخصیت کے طور پر نوجوانوں میں مقبول تھے۔جب قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو ان معدودے چند لوگوں میں ڈاکٹر مبشر حسن بھی شامل تھے جنہوں نے بھٹو صاحب کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اور پاکستان کے معروضی حالات کے پیش نظر پارٹی منشور کی تشکیل اور ملک کو عوام دوست ، ترقی پسند فلاحی ریاست بنانے کیلئے بیش بہا مشورے دیئے۔ جن کی وجہ سے بھٹو صاحب کو پیپلز پارٹی کی تشکیل اور عوامی مفادات کی جدوجہد میں حوصلہ ملا۔

 اس دور کے انتہائی طاقتور آمر سے ٹکرانا اور بے شمار چھوٹی بڑی جماعتوں ، مذہبی گروپوں اور گماشتوں کی موجودگی میں ایک نئی سیاسی پارٹی کی داغ بیل ڈالنا ناممکنات میں سے تھا۔ پورا ملک مذہبی فرقہ واریت، لسانی اور علاقائی پریشر گروپوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی ریشہ دوانیوں میں گھرا ہو ا تھا۔ عام آدمی غربت، افلاس، ناداری، حق تلفی اور محرومیوں کا شکار تھا۔ اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے طاقت کا سرچشمہ عوام کا انقلابی نعرہ لگایا۔ تو گویا پوری قوم کے تن مردہ میں جان پیدا ہو گئی ۔ اور لوگ جوش ، خوشی و انسبا ط اور توانائی کے ساتھ اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بھٹو کو مقبول ترین رہنما بنا دیا۔ اس عظیم عوامی تحریک میں ڈاکٹر مبشر حسن نے کلیدی کردار ادا کیا۔

راقم الحروف کو ڈاکٹر صاحب سے نیازمندی کا شرف حاصل تھا۔ بابائے سوشلزم شیخ رشید اور ماڈل ٹاون سے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار مظہر علی خان کی وساطت سے ہماری ڈاکٹر مبشر حسن تک رسائی ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے عروج کے زمانے سے لے کر ابتلاء اور مصائب کے دور تک ڈاکٹر مبشر حسن کی شفیق اور دل نواز شخصیت سے ادنی سے ادنی اور سطح غربت سے کہیں نیچے تک کے مزدور کسان، ہاری، طلباءاور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فیض حاصل کرتے رہے۔ وہ ہر ایک سے خلوص اور محبت سے پیش آتے ، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع سے دور خندہ پیشانی سے پیش آتے۔

 ہمیں یاد ہے کہ بھٹو شہید انتخابی مہم کے سلسلے میں ملک بھر کے طوفانی دورے کررہے تھے۔ ایک مرتبہ لاہور سے ساہیوال کے لئے کاروں کا جلوس جانا تھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن اس جلوس کے چیف آرگنائزر، یوں کہیں روح رواں تھے۔ ہمیں بھی اس جلوس میں شرکت کا موقع ملا۔ ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب کا جوش مثالی تھا۔ وہ ہر گاڑی کے پاس جاتے ۔ انہیں فکر یہ تھی کہ کوئی محنت کش، مزدور اور پیپلز پارٹی کا جیالا پیچھے نہ رہ جائے۔ ہر گاڑی میں وہ زیاد ہ سے زیادہ غریبوں کو بٹھاتے اور تاکید کرتے کہ انہیں واپس بھی پہنچانا ہے۔ وہ ایک عظیم جلوس تھا۔ ساہیوال میں بھٹو شہید کا استقبال دیگر رہنماؤں کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے کزن عسکری حسن جو معرو ف دانشور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر مہدی حسن کے بھائی تھے، نے استقبال کیا۔

 ڈاکٹر مبشر حسن کا نسبی اور خاندانی سلسلہ تاریخ کی کتابوں میں بلند و بالا شخصیات اور اکابر سے مزین ہے۔ برصغیر میں مولانا الطاف حسن حالی خاندان کے مورث اعلی تھے۔ جنہوں نے اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے زندگی بھر اپنی خاندانی شرافت و وجاہت کو قائم رکھا۔ اور بڑے حوصلے اور جرات کے ساتھ عوام کی آواز کو بلند کیا اور اپنے اصولوں اور ترقی پسند نظریات پر قائم و دائم رہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر مبشر حسن کی وہ قدر نہیں کی، جس کے وہ مستحق تھے۔ کتنے دکھ اور کرب کی بات ہے کہ جس پارٹی کی ڈاکٹر صاحب نے خون جگر سے آبیاری کی، اسے انہیں چھوڑنا پڑا۔ ڈاکٹر صاحب پر ہی کیا موقوف ، پیپلز پارٹی کے تمام ترقی پسند رہنما رفتہ رفتہ پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ جس سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور پارٹی کی باگ دوڑ ایسے غیرذمہ داروں کے ہاتھ آ گئی جن کا کوئی وژن ہے، نہ صلاحیت، نہ ہی عوام کے دکھ درد کا ادراک۔

 ڈاکٹر مبشر حسن بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کتابوں کو علمی اور سیاسی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی۔ لیکن افسوس صد افسوس آج کے سیاسی رہنما بے مقصد بحثوں، غیر ذمہ دارانہ بیانات اور اہانت آمیز گفتگو تو کر سکتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ تاریخ انہیں معاف نہیں کر ے گی۔ جبکہ ڈاکٹر مبشر حسن جیسے اکابر ملت کا ذکر ہر دور میں احترام و عزت سے لیا جا ئے گا۔ اور ان کی تحریریں اہل علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply