مانسہرہ کے ہاشم بھائی: مثبت معاشرے کا سفیر
یہ کہانی ضلع مانسہرہ کے شہر بٹل آہل کے رہائشی ہاشم بھائی کی ہے جو پیشہ وارانہ طور پر ایک ڈرائیور ہیں، آج سے کم و پیش تقریباً دس بارہ سال قبل کی بات ہے اس وقت میں اسکول کا طالبعلم تھا جون جولائی کی چھٹیاں انجوائے کرنے اپنے آبائی گاؤں مانسہرہ بٹل جانے کا میرا طویل عرصہ کے بعداتفاق ہوا تھا،
میں بچپن کے بعد پہلی دفعہ گاؤں جارہا تھا مجھے اپنے آبائی شہر بٹل کا صرف نام ہی معلوم تھا باقی کسی شے کی کوئی خبر نہ تھی لاری اڈا مانسہرہ سے اچانک مجھے یہ شخص مل گیا اور دریافت کیا کہاں جائیں گے میں نے جواباً عرض کیا مجھے بٹل جانا ہے اس صاحب نے بڑے پر تکلف انداز میں میرا سامان اٹھایا اپنی ہائی رؤف جسے گاؤں میں کیری ڈبہ کہا جاتا ہے اس میں رکھا اور فرنٹ سیٹ پر پہلے سے براجمان ایک پسینجر سے معزرت کرتے ہوئے کہا سر ناراضگی معاف یہ مہمان ہیں کراچی سے آئے ہیں وہ صاحب منہ ٹیڑھا میڑھا کرتے ہوئے مونچھوں کو خوفناک انداز میں تاؤ دیتے ہوئے پچھلی سیٹ پر معنی خیز انداز میں گھورتے ہوئے جا بیٹھے گاڑی مانسہرہ سے بٹل کے لئے روانہ ہوئی راستہ تیزی سے کٹتا جارہا تھا اور ہاشم بھائی مجھ سے خیر وعافیت جاننے کے بعد گپ شپ میں مشغول ہوگئے اس لمحے ہم کالج دوراہا آن پہنچے لیکن مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے گاڑی میرے آبائی شہر بٹل جا پہنچی ہے میں نے معصومانہ انداز میں پوچھا بھائی بٹل پہنچ گئے؟
یہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے ناں ناں بٹل تو بہت دور ہے یہ مانسہرہ کالج دوراہا ہے اس شخص نے فوراً گاڑی کی سپیڈ آہستہ کرتے ہوئے مخلصانہ میزبانہ انداز میں مجھے ناشتہ کروانے کا اصرار کرنے لگا میں نے کہا ناشتہ میں کرچکا ہوں مگر اس صاحب نے کالج دوراہا سے گرما گرم پکوڑے خرید کر مجھے بھی کھلائے اور خود بھی کھاتے ہوئے راستے میں ایک ایک گاؤں ایک ایک سڑک کا نام احوال بتاتے ہوئے سیر کرواتے ہوئے شنکیاری پہنچا دیا وہاں چند پسینجر اتر گئے اس صاحب نے موقع غنیمت جان کر فوراً تازہ ٹھنڈا ٹھار آم کے جوس سے شرف مہمان نوازی بخشی اور پسینجر کی تعداد مکمل ہوتے ہی ہم نے پھر رخت سفر باندھا اور چل دیے یہوں ہم بٹل شہر جا پہنچے میں توقع کررہا تھا کہ یہ صاحب مجھ سے بکنگ کرائے کا مطالبہ کریں گے اور حق بھی بنتا تھا مگر اس سفیر وطن ہاشم بھائی نے پانچ سو کا ہرا بھرا نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا کہ میں کرایہ نہیں لوں گا مگر میرے اصرار پر کہنے لگے اچھا چلیں پھر سواری کے حساب سے ادا کردیں اس زمانے میں کراچی شہر میں سب سے زیادہ کرایہ 12 روپے ہوا کرتا تھا میں نے سوچا شاید اس صاحب کے 20 روپے بنتے ہوں گے میں اسے اس کے اعلیٰ اخلاق، شاندار مہمان نوازی، بے مثال عزت افزائی پر 10 روپے ٹپ کے ساتھ تیس روپے ادا کردیتا ہوں میں نے کرایہ ادا کیا اور یہ صاحب بخوشی پیسے جیب میں ڈالتے ہوئے اگلی منزل کی جانب روانہ ہوگے،
مجھے چند دن بعد معلوم ہوا کہ مانسہرہ ٹو بٹل کرایہ تو 50 روپے بنتا ہے میں کافی شرمندگی محسوس کرنے لگا کہ ایسے مہمان نواز، با اخلاق، مہذب شخص کو میں کم کرایہ ادا کرچکا تہیہ کہ اس شخص کو تلاش کرکے اس کا حق ضرور ادا کروں گا ایک روز اچانک یہ شخص مجھے مل ہی گیا میں نے بقایا ادا کرنے کی جسارت کے ساتھ مقررہ کرایہ سے بھی لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے اظہار ندامت کیا مگر ہاشم بھائی نے صاف انکار کرتے ہوئے پیسے واپس میرے جیب میں ڈال دیے، اس اعلیٰ اخلاق، بے مثال عزت افزائی، لاجواب مہمان نوازی، نے مجھے بے حد متاثر کیا اور میں خوشی کے مارے اش اش کر اٹھا، یوں میں نے اس شخص سے رابطہ نمبر لیا اور اس شخص نے مجھ ناچیز کا نمبر۔ یوں اس چند لمحوں پر محیط سفر کے ہمراہی سے میرا تعلق اچھی دوستی میں تبدیل ہوگیا میں جب جب گاؤں جاتا ہوں اس دوست سے ملاقات کیے بغیر اپنا سفر ہی ادھورا سمجھتا ہوں اگر کبھی خدانخواستہ اس شخص سے شرف ملاقات حاصل نہ ہو تو پھر گلے شکوے ایسے کہ دوبارا ملاقات تک ختم ہونے کا نام ہی نہیں، اس شخص کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اج تک اس کی زبان سے کبھی حالات کا رونا دھونا کوئی شکوہ شکایت نہیں سننے کو ملی یہ جب بھی ملے پہلے سے زیادہ خوشحال اور خندہ پیشانی سے ملے ہر بار پہلے سے بڑھ کر مہمان نوازی کی،
یقین جانئے جب پیٹرول 50 روپے لیٹر تھا ڈالر 70 روپے کا تھا تب بھی یہ شخص خوشحال تھا آج ڈالر 160 اور پیٹرول 114 روپے کا ہے یہ شخص آج بھی پہلے کی طرح خوشحال ہے اپنے کام، اپنے پیشے، اپنی زندگی سے خوب مطمئن ہے، جب بھی میں نے اس شخص سے پوچھا کام دھندہ کیسا ہے ہر بار یہ شخص یہی جواب دیتا ہے میرے رب کا بے حد شکر ہے بھوکا جگاتا ہے پیٹ بھر کر سلاتا ہے۔
یہ شخص تمام ڈرائیورز بھائیوں تاجر بھائیوں کے لئے ایک قابل تقلید شخص ہے سب کو چاہیے کہ اپنے پسینجرز اپنے گاہک خصوصاً مہمان حضرات کے ساتھ پیار محبت اخلاق سے اچھے رویے کے ساتھ پیش آئیں کیونکہ آپ اپنے علاقے کے اپنی ثقافت اقدار اور تہذیب کے سفیر ہیں آپ سب ڈرائیورز حضرات تاجر بھائی اس ہاشم بھائی کی تقلید کریں اس عمل سے اللّٰہ تعالیٰ ناصرف آپ کی شخصیت کو نکھار دیں گے بلکہ آپ کے رزق میں بھی برکت عطا فرمائیں گے۔
آخر میں اس عظیم معاشرتی علاقائی سفیر ہاشم بھائی کی عظمت کو میرا محبت بھرا سلام۔


