معذور بچے: خدا کے باغ میں کھلتے خوبصورت پھول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بچپن سے ایسے بہت سے مفروضات اپنے معاشرے میں سنتے آرہے ہیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر معذور بچوں کو اس طرح سٹگمٹائز کرتے ہیں کہ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ان کی عزّتِ نفس کو کُچلا جاتا ہے۔ جہاں ایسے بچے ہمیں ایسے معاشرے میں دوہرے چیلنج کا سامنا کرتے نظر آتے ہیں۔ درحقیقت ان کے والدین بھی اس سٹگما کا شکار ہوتے ہیں۔ جب بھی لوگ کسی جسمانی یا ذہنی معذور بچے کو دیکھتے ہیں تو اکثر ان کو یہ کہتے سناکہ اس نے کیا کرنا ہے۔

یہ جملہ سب سے زیادہ دل دکھا دینے والا اس لئے ہے کہ آپ ان کو انسان ہی نہیں سجھتے۔ آپ اس سوچ سے عاری ہیں کہ وہ دل رکھتے ہیں احساس رکھتے ہیں جذبات رکھتے ہیں۔ انہیں بس دو وقت کی روٹی کا مستحق قرار دینا شدید زیادتی ہوگی۔ معاشرہ جو بھی کہے ماں باپ کا رویہ بہت معنی رکھتا ہے۔ ایسے بچے خود تو عظیم ہیں ہی۔ ان کے ماں باپ کو بھی سلام جو یہ سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ہمارے بچے کو نارمل ہونے کا احساس دلانا بہت ضروری ہے۔

اس معاملے میں اتنا محتاط رہنا ضروری ہے کہ کوئی بچے پر ایسی نظر ڈالے کہ جو نارمل eye contact نہیں ہے اور فوراً سے یہ سوال کرنے لگے اس کو کیا مسئلہ ہے تو ماں باپ کو نارمل رویّہ اختیار کرنا چاہیے خاص کر بچے کے سامنے ایسی کوئی بات نہ کی جائے تاکہ اسے لگے کہ وہ کچھ مختلف نہیں۔ ایک بار نابینا بچوں کے مرکز جانے کا اتفاق ہوا۔ ان بچوں سے مل کر اس بات کا احساس شدّت سے ہوا کہ ایسے بچے ہم نارمل انسانوں سے کہیں زیادہ حساس اور انسان دوست ہوتے ہیں۔

اور ایسا اخلاص کہ نارمل انسانوں کی دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ وہ بار بار ہمارے ہاتھوں کو چھوتے۔ خوشی ان کے چہروں سے صاف جھلکتی تھی۔ ایسا خوش ہم جیسے نارمل لوگ کیوں نہیں ہو پاتے۔ انہیں محبت کا ایسا اظہار کرتے پایا جس کی مثال نہیں ملتی۔ بار بار بڑے چاٶ سے ہمیں کہتے پلیز مت جائیں کچھ دیر اور رک جائیں۔ ۔ جس لڑکی نے بہت دیر تک میرا ہاتھ تھامے رکھا میں نے اس نابینا بچی سے کہا تم سب کر سکتی ہو۔ تم بہت خوبصورت ہو تم دیکھ نہیں سکتی لیکن میں تمہیں یقین دلاتی ہوں۔ تم مخلص ہو۔ تم جھوٹ نہیں بولتی۔ دھوکا نہیں دیتی۔ مکّار نہیں ہو۔ تمہیں اپنے چہرے پر ماسک نہیں سجانا پڑتے۔ تم نامکمل نہیں۔ نا مکمل تو ہم جیسے لوگ ہیں۔ جب ان سے ملے تو ہماری مسکراہٹیں غائب ہوگئیں۔ ہم ان کو کیا دیتے۔ ویسا نہ مسکرا سکتے تھے نہ خوش ہو سکتے تھے۔ سچ میں اپنا آپ بہت کمتر اور بیچارا لگا۔ ایسے جیسے چہرے پہ پڑا ماسک اتر کر ہاتھوں میں آگیا ہو۔ معذور بچے خدا کے باغ میں کھلنے والے خوبصورت پھول ہیں۔ یہ کسی کے ناکردہ جرموں کی سزا نہیں ہیں۔ سزا کے مستحق ہم جیسے کھوکھلے لوگ ہیں جنہوں نے ان کی روحوں پر کیسے کیسے زخم لگائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *