یہ عذاب نہیں، سنتِ الہٰی کا معاملہ ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1918 ء میں انفلوئنزا خاندان کے ہی ایک وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو پچاس کروڑ متاثرین میں سے پانچ کروڑ کے لگ بھگ جان کی بازی ہار گئے۔ انسانی تاریخ کی اس مہلک ترین وباء کو ’سپینش فلو‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس کو اس کے پھیلاؤ کی رفتار اور ممکنہ اثرات کی بناء پر ’سپینش فلو‘ سے ملایا جا رہا ہے۔

عام طور پر انفلوئنزا کا شکارکم سن بچے اور ادھیڑعمر افراد ہوتے ہیں۔ ’سپینش فلو‘ کے ہاتھوں مگر زیادہ تر اموات نوجوانوں کی ہوئی تھیں۔ نوجوان اموات کے صدمے سے دوچار اُس دور کے زندہ بچ جانے والے عمر رسیدہ انسانوں کی بقیہ عمریں یقینا نا ختم ہونے والی گہری اداسی میں ہی بسرہوئی ہوں گی۔ سوچ کر دم گھٹتا ہے۔

’سپینش فلو‘ کے ہاتھوں ہونے والی اموات کی بنیادی وجوہ غربت، خوراک کی کمی اور نامناسب طبی سہولیات کو بتایا جاتا ہے۔ چنانچہ کُل مرنے والوں میں سے تقریباً بیس فیصد صرف برٹش انڈیا میں بسنے والے غربت کے مارے ہندوستانی تھے۔ استعماری ممالک اپنے لامحدود وسائل کی بناء پر وباء کی ہولناکی سے نسبتاً محفوظ رہے تھے۔ ’سپینش فلو‘ کے برعکس کرونا وائرس نے نا صرف تنگدست بلکہ وسائل سے مالامال ممالک کو بھی بری طرح بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔ کرونا کے ’غیر متعصب‘ رویے نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ افلاس کے مارے ملکوں کے لا محدود وسائل پر قابض مٹھی بھرگھرانے جو چھینک آنے پر ان مغربی ملکوں کی راہ لیتے تھے، گھبرا کر اب کہاں جائیں گے؟ خدا کا ہاتھ کہیں نا کہیں تو کارفرما رہتاہے۔

خدا کے ہاتھ کا تو میں نے محض تمثیلاَ ذکر کیا ہے، وگرنہ میرا تو خیال ہے کہ کروناوباء کے تناظر میں مذہب کوغیرضروری طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ اگرکچھ لوگ مقدس مذہبی مقامات پر اجتماعات اور عبادات پر پابندی کے بعد آفاقی مذاہب کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں تو دوسری طرف مذہبی حلقے اس وباء کو طاقتو روں کی جانب سے کمزوروں، بالخصوص مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے جواب میں عذابِ الہٰی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دونوں آراء پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ کرونا وباء کا تعلق کسی مقدس مقام پر عبادات رکنے کی صورت میں کسی الہامی پیغام کی صداقت پر اٹھتے سوالات یا قربِ قیامت کی نشانیوں سے نہیں ہے۔ میری رائے میں یہ محکوموں کی دل جوئی کے لئے اتارا گیا اللہ کا عذاب بھی نہیں ہے۔

درحقیقت خدا اپنے بندوں کوراحتوں اور تکلیفوں کے ذریعے ہمیشہ سے ہی آزماتاچلا آرہا ہے۔ اس دنیا میں دی جانے والی سزا و جزا کے باب میں مگراللہ کی سنت ہے کہ جب وہ کسی سرکش قوم کوعذاب میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر تا ہے تو اس سے قبل وہ اپنے ایک برگذیدہ بندے کے ہاتھوں اتمامِ حجت کا اہتمام کرتا ہے۔ دعوتِ حق قبول کرنے والوں کو پورا موقع دیاجاتا ہے کہ وہ عذاب کے نزول سے قبل محفوظ مقامات کومنتقل ہو جائیں۔ اس موضوع پر بہتر رائے کا اظہار تو بہرحال علماء کرام کا ہی کا میدان ہے، تاہم انہی میں سے کئی ایک کو سُن، پڑھ کر میں تو یہی سمجھا ہوں کہ دنیا کے تمام مذاہب، بالخصوص ابراہیمی مذاہب دنیاوی زندگی میں انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے انہیں آخرت کی زندگی کے لئے تیار کرتے ہیں۔

لہٰذا ان کا موضوع بنیادی طور پر انسانی نفس ہوتا ہے جو تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اب بھی مادی علوم، یعنی سائنس کی دسترس سے باہر ہے۔ چنانچہ موت کو چھو کر واپس آنے والے لاتعداد انسانوں کے مافوق الفطرت مشاہدات کے باوجود سائینس دان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ موت کے بعد کیا ہوگا۔ ظاہر ہے اس کیفیت کے متعلق مذاہب ہی ہمیں تمام تر آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اسی پر ہم ایمان لاتے ہیں۔

دوسری طرف مادی دنیا سائینسدانوں کا میدان ہے، جہاں اللہ کے طے کردہ دائمی قوانین کی روشنی میں بلا امتیازِ عقیدہ و نسل معاملات طے پاتے ہیں۔ چرچ نے احیائے علوم کے زمانے میں سائینسی ایجادات کو بائبل کی تعلیمات کے خلاف قرار دیا تو بالآخر پادریوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ محل کی چھت پوپ پر آن گری تو ہی ان کو ادراک ہوا کہ یہ توہینِ کلیسہ نہیں بلکہ کشش ثقل کا کیا دھرا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنے مخاطبیں کو یہ بتانے کی بجائے کہ دنیا چپٹی ہے یا گول، ان سے بار بار سوال کرتا کہ تم کائنات اور اس کے اسرار پر تدبر کیوں نہیں کرتے!

سائینسی جزیات سے بالاتر رہتے ہوئے، کفار و مشرکین کے لئے اتمامِ حجت، مسلمانوں کے لئے انذارو بشارت اور تزکیہ نفس جیسے مضامین تک خود کو محدود رکھتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات و احکامات بنیادی طور پر دو ابواب یعنی ’ایمانیات‘ اور ’اخلاقیات‘ کا احاطہ کرتے ہیں۔ محض ایمانیات نہیں، بلکہ اعلٰی اخلاقیات اور کائنات کی مادی تسخیر ہی وہ آفاقی اصول و مبادی ہیں کہ قوموں کو اپنی زمین پر حاکمیت عطا کرنے کے لئے خالقِ کائنات نے طے کر رکھے ہیں۔

انہی کو اللہ کی سنت کہا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں کی تمام تر توجہ ایمانیات سے متعلق فلسفیانہ مو شگافیوں اور تفرقانہ مباحث پریوں مرکوز رہی کہ اعلٰی اخلاقیات اور سائینسی تدّبر کے باب میں قرآن کا پیغام کہیں پسِ پشت جا تا چلا گیا۔ مصیبت کے لمحات میں 20 روپے کا ماسک 100 روپے اور 80 روپے کا سینیٹائزر 300 روپے میں بیچنے والے جب ہر طرح کے وظیفوں کے باوجود، کرونا سے علاج کی دریافت کے لئے امریکہ، یورپ اور چین سے ہی امیدیں وابستہ کیے نظر آتے ہیں تویہ کسی ایک مذہب کی ’ایمانیات‘ کا مقدمہ نہیں بلکہ قوموں کی اخلاقی اور مادی برتری کا معاملہ ہے۔ یہ اللہ کی سنت کا معاملہ ہے۔

اللہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا۔ مگراس کے باوجود ایسا بھی نہیں کہ خدا نے دنیاوی معاملات سے خود کو یکسر لا تعلق کر لیا ہو۔ خدا کا ہاتھ کہیں نا کہیں کار فرما رہتا ہے۔ کرونا وائرس نے بنی نوح انسان کا تکبر چکنا چور کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعوی تھا کہ انہوں نے ’مالتھسی نظریے‘ کو شکست دے دی۔ اکیسویں صدی میں ’موت کی موت‘ کا سوچنے والاترقی یافتہ انسان آج اپنے گھروں میں چھپنے کو دوڑتا ہے۔ کرونا وائرس بنی نوع انسان کے لئے اگر ایک عذاب نہیں تو کم از کم ایک تنبیہ ضرور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *