معذور نہیں منفرد بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معذور بچے خدا کا عذاب ہیں۔ ماں باپ کے گناہوں کی سزا ہیں۔ فیاض الحسن چوہان صاحب کے اس بیان پر جس کو دیکھو تنقید کررہا ہے۔ میں تو عالی مرتبت وزیر صاحب کو اس بیان پر سلیوٹ پیش کرنا چاہتی ہوں۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وزیر صاحب کے بیان پر اتنا واویلا مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کون سی انوکھی بات کی۔ ان کا تعلق اس جماعت سے ہے جس کواکثریت کی بنا پر حکومت ملی اس معاملے میں بھی انہوں نے اس اکثریتی مائنڈ سیٹ کی نمائندگی کی ہے جو بیماری، معذوری، پریشانیوں کو اللہ کی پکڑ قرار دیتی ہے۔ میں گارنٹی کے ساتھ کہتی ہوں کہ یہ بات ہر اس ”ماں“ کو سننی پڑتی ہے جو کسی ایسی اولاد کو پالنے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے جو کسی نہ کسی بیماری یا معذوری کا شکار ہے۔

دیکھا کیسا مزا آیا۔ بڑی بڑی باتیں کرتی تھیں نا۔ کیسا اللہ نے سبق سکھایا۔ تمھارے گناہوں کی سزا ہے۔ بھگتو اب۔

۔ یہ الفاظ نہیں ہیں پگھلا ہوا سیسہ ہیں لیکن یہ سیسہ ہر اس ماں کے کان میں انڈیلا جاتا ہے جو کسی ”منفرد“ بچے کی ماں ہو۔ پھر مجھے کیسے استثنیٰ مل سکتا تھا۔ میری بیٹی کو بھی گردن توڑ بخار نے اتنا کمزور نہیں کیا جتنا ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت نے اس کو ادھ موا کرکے چھوڑا۔ پے درپے ہونے والے چھ آپریشنزکے باعث ننھنی کلی کی زندگی داؤ پر لگی تھی، ساری عمر کی معذوری کے خطرات سر پر منڈلا رہے تھے۔ ایسے میں ارد گرد چوہان صاحب جیسی صاحب بصیرت شخصیات کے وعظ۔ سبحان اللہ، ۔

منسٹر صاحب اپنی ذبان سے لاکھوں افراد کی دل آزاری کرنے کے علاوہ آپ کا بیان آپ کے کمزور ایمان کی علامت ہے۔ خدارا بیماریوں، معذوریوں کو خداکا قہر اور عذاب سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ نے اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان کیوں کیا؟ دوسروں کو خداکا خوف دلانے کے بجائے یہ کام سب سے پہلے آپ خود کرلیجیے کہ چہرے پر داڑھی سجانے اور چہروں کو نقابوں سے چھپانے سے کوئی ولی اللہ نہیں بن جاتا۔ خدا کا خوف کیجیے کہ آپ اس رب کے بارے میں ایسا گمان کررہے ہیں جو اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ وہ معصوم بچوں کو ایسے گناہوں کی سزا دے گا جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو؟

اگر آپ کی بات درست ہے تو حضرت ایوب علیہ السلام تیس برس بیماررہے۔ وہ تو خدا کے برگذیدہ بندے تھے پھر وہ کیوں بیمار ہوئے اور بیماری بھی ایسی کہ دیکھنے والے کراہت سے منہ پھیر لیں۔ جسم پرکیڑے پلتے رہے، جسم گل سڑ گیا۔ وہ تو پہلے ہی اپنے رب سے لو لگائے ہوئے تھے پھر وہ کیوں بیمار ہوئے تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سب سے زیادہ مشکلیں تکلیفیں انبیاٗ اور پیغمبروں نے جھیلی ہیں کہ سیدھا راستہ دکھانے والوں کے راستے کٹھن رہے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ چوہان صاحب جیسی بصیرت افروز گفتگو کرنے والے آپ کے ارد گرد نہ ہوں تو حالات سے لڑنے کا حوصلہ بیدار نہ ہو۔ منفرد بچوں کے پیارے ماں باپ حوصلہ نہ ہاریے گا۔ ”چوہان“ نما پتھر، رکاوٹیں پہاڑ بن کر راستہ تو روکتی ہی ہیں۔ آپ کو منہ کے بل گرتا ہوا دیکھ کرخوشی سے تالیاں پیٹنا چاہتی ہیں، لیکن ڈٹ کر کھڑے رہنا ہی آپ کے بچے کی صحت اور زندگی کا ضامن ہے۔ منفرد بچوں کو پالنا آپ کا وہ کارنامہ ہے جس پر نہ تو کوئی آپ کی تعریف کرے گا نہ ستائش سے نوازے گا لیکن اللہ کی عدالت میں اس کا صلہ سب سے بڑھ کر ہے۔ صحت مند خوبصورت بچہ ماں کا لاڈلا تو ہوتا ہی ہے، باپ کی آنکھوں کا تارا بھی ہے اور ننھنیال ددھیال میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے لیکن کمزور بیمار بچہ شاید ماں کے علاوہ کسی کا نہیں ہوتا۔ کیونکہ بات سچ ہے کہ فتح پر ہر ایک نازاں ہوتا ہے لیکن جو شکست پر بھی حوصلہ نہ ہارے اصل فاتح وہی تو ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply