اہل پاکستان کو 64ویں یوم جمہوریہ پر 80واں یوم پاکستان مبارک ہو‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر؛ پاکستانی قوم 23 مارچ کے دن اپنے 64 ویں یوم جمہوریہ کو 80 ویں ”یوم پاکستان“ کے طور پر روایتی جوش و جذبے اور تزک و احتشام کے ساتھ منا رہی ہے۔ من حیث القوم تاریخ اور تاریخی عوامل سے کھلواڑ کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ بدقسمتی سے مملکت خداداد طلسم ہوش ربا میں تاریخ کو سبالٹرن اسٹڈیز کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے ڈپٹی کمشنر کی پریس ریلیز یا پی آر او کے ہینڈ آوٹ کے طور پر سمجھنے کا رواج ہے۔

مورخین تاریخی ڈھٹائی کا قصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 29 فروری 1956 ء کو پاکستان کا پہلا آئین منظور کیا جو 23 مارچ 1956 ء کو نافذ العمل ہوا۔ یہ وہ تاریخی دن تھا جب پاکستان اپنی آزادی کے 9 سال بعد باقاعدہ طور پر تاج برطانیہ کی عاطفت سے مکمل آزاد ہو کر جمہوریہ قرار پایا تھا۔ اس دستور کے نفاذ سے تاج برطانیہ کے نمائندے ”گورنر جنرل“ کا عہدہ ختم کر دیا گیا لہذا ”آخری“ گورنر جنرل، میجر جنرل سکندر مرزا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

23 مارچ 1956 ء کو اپنے پہلے یوم جمہوریہ کی خوشی میں حکومت پاکستان نے جہاں شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام کیا، وہاں بعدازاں دو آنے کا یاد گاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔ حتی کہ سرکاری کیلنڈروں میں بھی 23 مارچ ”ری پبلک ڈے“ کے طور پر درج کیا گیا۔

2 برس بعد ہی اکتوبر 1958 ء کو کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کے زیر قیادت فوجی جنتا نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے 1956 ء کے آئین کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ مذکورہ آئین کو بنانے میں 10 برس جبکہ اسے توڑنے میں محض 2 برس لگے تھے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے اپنا آئین 26 جنوری 1951 ء کو نافذ کیا تھا کیونکہ آل انڈیا کانگرس نے 26 جنوری 1930 ء کو لاہور ہی میں ہندوستان کی مکمل آزادی کی قرارداد منظور کی تھی۔

پاکستان کی ”داغ داغ“ سیاسی تاریخ کے ”صابر“ طالب علموں کے لئے یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ وطن عزیز میں ”یومِ جمہوریہ“ شاید تین سال ہی منایا جا سکا کہ پھر ”جمہوریت“ ہی نہ رہی تھی۔ 1958 ء میں ”انقلاب اکتوبر“ کی کامیابی کے بعد ایوب خان راج سنگھاسن پر آ براجے تو ان کے زیر انتظام مارشل لاء حکومت کس منہ سے ”یوم جمہوریہ“ مناتی؟ سو کسی دفتری بابو نے 14 اگست کو ”یوم پاکستان“ کی بجائے ”یوم آزادی“ اور 23 مارچ کو ”یوم جمہوریہ“ کی بجائے ”یوم پاکستان“ قرار دے دیا۔ ”مرد مومن، مرد حق“ صدر جنرل محمد ضیا الحق کے ”سنہرے اسلامی“ دور حکومت میں بہت سے ”باوضو“ دانشوروں نے ”تاریخی حقائق“ کی مدد سے 23 مارچ کا تعلق دو قومی نظریہ کے ساتھ جوڑ کر پاکستان اور اہل پاکستان کا قبلہ درست کرنے میں حکومت کی بھرپور مدد کی۔

2009 ء میں بطور سیکرٹری کابینہ معروف دانشور ظفر محمود نے اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو تحریری ڈرافٹ میں یہ تجویز دی کہ پاکستان بنانے والی قیادت نے 23 مارچ کو ”قرارداد پاکستان“ کے حوالے سے منانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یہ دن پہلی دفعہ تاج برطانیہ کی حکمرانی سے رشتہ توڑنے اور پاکستان کو جمہوریہ بنانے کے حوالے سے منایا گیا۔ رفتہ رفتہ اس کا ربط ”قرارداد لاہور“ اور پھر ”قرارداد پاکستان“ سے قائم ہوا، لہذا اس دن کے تقدس کو ”یوم جمہوریہ“ کی اصل صورت میں بحال کر دیں۔ تاہم حکومت نے یہ کہہ کر تجویز کو رد کر دیا کہ ”اس وقت جمہوریت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، یہ مناسب وقت نہیں ہے“۔

23 مارچ 1940 ء اگر غیر ملکی غلامی سے آزادی کے اعلان کا دن تھا تو 23 مارچ 1956 ء اس آزادی کے حقیقی معنی کا اعلان تھا تاہم سرکاری ڈھنڈورچیوں نے اس ملک کی زندہ تاریخ کو ایسے دیمک زدہ مخطوطے میں تبدیل کر دیا جسے مفاد کی خوردبین کے نیچے رکھ کے جو چاہے معنی دے دیں۔

23 مارچ یوم جمہوریہ ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ پاکستان مافوق الفطرت ریاست نہیں، دنیا کی دوسری قوموں کی طرح پاکستان قائم بالذات ہے۔ یہاں کے 22 کروڑ لوگ اپنے مستقبل کی صورت گری کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں نہ تو کسی دوسری قوم کے تابع ہونے کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے دشمنی پالنے میں ہمارا تشخص ہے۔ ہمارا تشخص پاکستان کے باشندوں کی علمی، معاشی اور تمدنی ترقی ہے اور یہ ترقی جمہوریت کے جملہ تقاضوں کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔

23 مارچ 2014 ء کو اپنی ڈائری میں لکھی اس ”خرافات ناز“ کے ساتھ ہم اپنے اظہاریہ کا اختتام کرتے ہیں۔

اسلام کے

ناقابلِ تسخیر ایٹمی قلعے میں

بھوک (اور اب کرونا وائرس) سے مرتے

کچرے سے کھانا چنتے

علم و صحت کو ترستے

جہالت و بے روزگاری کی آگ میں سڑتے

پھندوں سے لٹکتے

چوراہوں میں پھٹتے

سنگسار ہوتے

زیادتی کے بعد قتل ہوتے

بغیر مقدمہ کئی کئی سال جیلوں میں رلتے

جعلی پولیس مقابلوں میں پھڑکتے

حصول انصاف کے لئے سسکتے

آئین کی سبز کتاب میں دفعہ 1 سے 28 تک کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بلکتے

درندگی اور شرمندگی کے درمیان پھنسی زندگی کے ساتھ روزوشب سلگتے

فکر و خیال و ضمیر و احساس کے آزار پہ لٹکی مقبوضہ روحوں کے گم شدہ جسموں میں تڑپتے

”آزاد“ لوگوں کو

یوم پاکستان ”مبارک!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *