کرونا وائرس کس نے پھیلایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کے بارے میں مختلف سازشی نظریات پھیلائی جارہی ہیں۔ آئیے ان سب کا تجزیہ کرتے ہیں۔

1۔ امت مسلمہ کے خلاف غیرمسلموں کی سازش

کہا جارہا ہے یہ امت مسلمہ کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہے جس کا مقصد حج و عمرہ کی روک تھام، حرمین الشریفین کی بندش، مساجد میں نماز باجماعت اور دیگر مذہبی اجتماعات پر پابندی ہے۔

یہ بے بنیاد بات ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک کرونا وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ ان میں مسلم اکثریت کے ممالک بھی ہیں، عیسائی اکثریت والے بھی، ہندو اکثریت والے بھی، یہودی اکثریت والا اسرائیل بھی اور بدھ مت والے بھی۔ اٹلی، سپین، فرانس، امریکہ اور برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی ہیں اور پسماندہ بھی۔ مذہبی معاشرے بھی ہیں تو سیکولر ممالک بھی۔

یہ کسی ایک مذہب یا خطے کے ممالک کے خلاف نہیں۔ دنیا کے تقریباً سب ممالک خطرے سے دوچار ہیں اور دنیا بھر میں 11000 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دو لاکھ سے زیادہ متاثر و بیمار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں سکول، مارکیٹیں اور دفاتر بند اور آمد ورفت محدود یا بند کردیے گئے ہیں۔

2۔ چین کی بدنامی اور تباہی کی امریکی سازش

کوئی یہ بات سازشی نظریہ پھیلا رہا ہے کہ کرونا وائرس امریکہ نے چین میں پھیلایا ہے ہے اور مقصد چین کی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔

یہ بھی ایک لایعنی بات ہے۔ اس بات پر تقریباً اتفاق رائے ہے کہ کرونا وائرس چند سال پہلے اٹلی میں پہلی بار سامنے آیا تھا لیکن موجودہ بحران پر قطعی رائے نہیں کہ آیا یہ اٹلی سے چین کے شہر یوہان میں آیا یا چین سے اٹلی منتقل ہوا۔

اگر یہ چین کے خلاف امریکی سازش ہوتی تو اب تک چین یہ سب کچھ سرکاری سطح پر کہہ چکا ہوتا۔ پھر چین اس کو خفیہ رکھ کر اپنی معیشت کو بدنامی سے بچا سکتا تھا مگر یہاں تو سب سے پہلے چین نے کرونا وائرس کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے اور اسے تقریباً قابو میں لاچکا۔

3۔ امریکی معیشت کی بہتری کا منصوبہ

کوئی بتا رہا ہے کہ اس وائرس کو تیار کرکے اور دنیا بھر میں پھیلاکر امریکہ دراصل اپنے وہ ویکسین بیچنا اور ڈالر کمانا چاہتا ہے جو اس نے تیار کیے ہیں۔

یہ بھی ایک بے بنیاد بات ہے۔ امریکہ میں اب تک کرونا وائرس سے 9000 افراد بیمار ہوئے جبکہ 150 اموات ہوئی ہیں۔ امریکی حکومت اب تک وائرس کوپھیلنے سے روکنے اور امریکی عوام کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ کانگریس نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو بہت بڑی رقم کی منظوری دی ہے۔

4۔ سرد ملک نشانہ مگر روس ترکی بچے ہوئے ہیں۔ کیوں؟

کہا گیا ہے کرونا وائرس سرد آب و ہوا میں پھلتا پھولتا ہے مگر روس اور ترکی اس سے بچے ہوئے ہیں کیوں کہ یہ دراصل امریکہ نے چین کے خلاف سازش کی ہے اور اسے روس کے اندر اسے پھیلانے کی جرات نہ ہوسکی۔

یہ بھی غلط اور ناواقفیت پر مبنی بات ہے۔ ترکی اور روس میں کرونا کے سینکڑوں مریض سامنے ائے ہیں اور کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ وہاں سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں اور عوامی نقل وحمل محدود کرنے کے لیے حکومت نے احکام جاری کیے ہیں۔

5۔ بیرونی امداد کا حصول

کہا جارہا ہے کرونا وائرس یا تو سرے ہے نہیں اور اگر ہے تو اس کی موجودگی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جارہا ہے تاکہ بیرونی دنیا سے معاشی امداد اور بیرونی قرضوں کی معافی یا ان کی ادائیگی میں وقفہ و سہولت حاصل کی جاسکے۔ یہ بھی اپنی منتخب حکومتوں کے بارے میں انتہائی بدگمانی پر مبنی بات ہے۔ اسلام اور انصاف ایسی بدگمانی کی اجازت نہیں دیتا۔

6۔ سائنس یا مذہب کی جیت

کسی کے خیال میں ایران جیسے سخت گیر مذہبی معاشرے میں اس وائرس کا نفوذ، اس کی وجہ سے مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی عبادات کے لیے بندش اور عیسائیوں کے ویٹی کن سٹی میں دعائیہ تقریبات کی منسوخی اور لوگوں کے جدید سائنس کی طرف علاج کے لئے رجوع اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب سائنس کے مقابلے میں ہار چکا۔

اس کے برعکس کچھ اور لوگ دنیا بھر میں ہر قسم کے کنسرٹس پر پابندی، سیاحتی مقامات اور ساحلوں پر ویرانی اور مبینہ طور پر چین میں قرآنی نسخے عوام میں تقسیم کرنے کے عمل کو اس کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ مذہب سائنس کے مقابلے میں جیت چکا۔

سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لاکھڑا کرنا اور ان میں سے کسی ایک کی ہارجیت کی بات سادہ لوحی ہے۔ یہ نئی انتہاپسندی ہے۔ ایک طرف مذہبی انتہاپسند ہیں اور دوسری طرف سیکولر غالی۔ نہ سائنس کے حقائق مذہب کے خلاف ہیں (سائنسی نظریات کی بات الگ ہے) اور نہ مذہب سائنس کا منکر ہے۔ کوئی مذہب بیماری کی صورت میں علاج معالجے کی اجازت نہیں دیتا تو وہ مذہب کہلانے کے قابل نہیں۔

7۔ بداعمالیوں کی سزا اور عذاب الٰہی

کوئی کہتا ہے یہ اللہ کی طرف سے لوگوں کی بداعمالیوں کی سزا اور عذاب الٰہی ہے۔ اس سلسلے میں چین کے یوہان شہر میں کتوں، چمگادڑوں اور چوہوں وغیرہ کے کھائے جانے کی ویڈیوز بطور ثبوت پوسٹ کی جارہی ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش اور خبرداری ہے کہ راہ راست پر آجاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے وہ رجوع الی اللہ کو کافی سمجھتے ہیں۔

اگر کرونا وائرس صرف آزمائش اور خبرداری ہے تو یہ دنیا کے اکثر ممالک میں کیوں آیا؟ صرف ان ممالک میں کیوں نہیں جو بظاہر غلط کاریوں میں زیادہ ڈوبے ہوئے ہیں اور سعودی عرب وغیرہ میں کیوں آیا جہاں حرمین الشریفین بھی بند کیے گئے؟ حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس کسی ایک عامل کا نتیجہ نہیں۔ کئی عوامل کے تعامل سے یہ مسئلہ پیدا ہوا اور اب گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے۔

حفظان صحت کے اصولوں سے عدم واقفیت یا لاپرواہی، خوراک میں عدم احتیاط اور غیرضروری تجربے کرنے کی عادت، میل جول میں بے احتیاطی اور اخلاقی قدروں کی پامالی، وبا کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے جھاڑ پھونک کی طرف وسیع پیمانے پر رجوع اور غیر شرعی توکل اختیار کرنے، ملک میں علاج معالجے کی ناکافی سہولتیں، وائرس سے متاثرہ افراد کو عام لوگوں سے دور رکھنے میں ناکامی، احتیاطی وسائل مثلاً چہرہ ڈھانپ کی کمی، تشخیصی سہولتوں کے فقدان اور صحت عامہ سے وابستہ اہلکاروں اور کاروباری افراد کی زیادہ سے زیادہ کمانے کی لالچ وغیرہ نے مل کر اس وبا کے خطرے میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کرونا سے نمٹنے کا لائحہ عمل کیا ہو اور اب کیا کیا جائے کہ عوام کی جانیں بچائی جاسکیں؟ اگلے بلاگ میں اس پر بات کی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *