قلم بولتا رہا: حماد حسن سچ بولتا رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگ بھگ ڈیڑہ سال قبل راقم نے اردو کالم نگاری کی مقبول ترین سائٹ ”ہم سب“ پر لکھنا شروع کیا تو اردو کے جیّد، اکابر اور ممتاز کالم نگاروں کی فکر انگیز، دماغ افروز اور جگر سوز تحریروں کے جلو میں جن دوسرے لکھاریوں نے ہمیں چونکایا، ان میں حماد حسن کا نام سر فہرست تھا۔ سو ہم نے وجاہت مسعود، عدنان خان کاکڑ، اظہر سیّد، رٶف کلاسرا، خورشید ندیم اور عطا الحق قاسمی جیسے کالم نگاروں کے ساتھ ساتھ حماد حسن کو بھی باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر دیا۔

حماد حسن کی تحریروں کے بانکپن، زندہ دلی، جرات آموزی، بے باکی اور صداقت شعاری جیسی خوبیوں کے علاوہ جس وصف نے ہمیں متاثر کیا وہ ان کا دلکش اور خوب صورت اسلوب تھا۔ کالم نگاری اگر محض کالم آرائی بن کر حقیقت نگاری سے دور ہو جائے تو لکھنے والا قارئین کے قلوب و اذہان پر اپنا مثبت تاثر مرتسم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حماد حسن کا ہر کالم کسی نہ کسی چبھتے ہوئے قومی یا بین الاقوامی مسئلے کی گتھیاں اس انداز سے سلجھاتا تھا کہ پڑھنے والا اش اش کر اٹھتا۔

ہم حماد کے موضوعات کے تنوع اور اسلوب کی رنگا رنگی پر رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم بھی کبھی ان کی طرح بقول ضمیر جعفری کالم آرائی میں عالم آرائی کا جادو جگا سکیں کہ ایک دن اس وقت ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا جب حماد نے ہمارے بلاگ پر تبصرہ کر تے ہوئے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ فیس بک پر ہونے والی دوستی کے طفیل ہم مختلف موضوعات پر گپ شپ بھی کرنے لگے۔ یہ جان کر ہمیں اور بھی خوشی ہوئی کہ بیشتر معاملات اور مسائل پر ہم دونوں ہمنوا و ہم خیال بھی ہیں۔ کچھ دن بعد ہم پر کھلا کہ حماد ایک کہنہ مشق کالم نگار کے علاوہ ایک صاحب اسلوب اور منفرد لب و لہجے کے شاعر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر کالم، اخباری کالم کے ساتھ ساتھ ادبی شہ پارہ بھی ہوتا ہے۔

چند روز پیشتر حماد حسن نے خاکسار سے اپنی بے پایاں محبتوں کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کالموں کا مجموعہ ”قلم بولتا رہا“ بذریعہ ڈاک بھیجا۔ کتاب دیکھ کر ہمارے دل کی کلی کھل اٹھی۔ اس میں کل 82 کالم شامل ہیں جن میں سے بہت سے ہم ”ہم سب“ کی سائٹ پر پہلے ہی پڑھ چکے ہیں تاہم قند مکرر نے لطف دو آتشہ کر دیا۔ ہمیں یہ دیکھ کر کچھ حیرانی بھی ہوئی کہ اس انتخاب میں ان کا مشہور کالم ”برفانی رات کا ہیرو“ شامل نہیں ہے جو ریکارڈ تعداد میں سوشل میڈیا پر پڑھا گیا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ انتخاب اس کالم کے لکھے جانے سے قبل ہی اشاعت کے آخری مراحل تک پہنچ چکا تھا۔

حماد کی کالم نگاری میں حب الوطنی کی باد بہاری بھی ہے، مشرقی روایات و اقدار کی پاسداری بھی ہے، آئین و قانون کی بالادستی کی مینا کاری بھی ہے، سماجی و معاشرتی مسائل کے نشاندہی کی گلکاری بھی ہے، مفلوک الحال افتادگان خاک کے دکھوں کی آہ و زاری بھی ہے اور جمہوریت و جمہوری رویوں کے فروغ کی سرشاری بھی ہے۔ حماد حسن عہد حاضر کے ان معدودے چند لکھاریوں میں شامل ہیں جو اپنے لکھنے کی قیمت وصول کرنے کے بجائے ادا کر رہے ہیں۔

ان کی تحریریں اپنے عہد کا نوحہ بھی ہیں اور جمہوریت کی پامالی کا ماتم بھی۔ جس طرح انہوں نے دیدہ و نا دیدہ آمریت کی زہر ناکی و سفاکی کے خلاف جمہوریت اور جمہوری قدروں و رویوں کے فروغ اور دروغ کے سد باب کے لیے قلم کی حرمت کا بے لاگ استعمال کیا ہے وہ حماد ہی کا خاصا ہے۔ ”قلم بولتا رہا“ ادبی شاہکار کے علاوہ ہمارے ہنگامہ خیز عہد کی ایسی مستند تاریخی دستاویز بھی ہے جو تاریخ کی درست اور غلط سمت کھڑے ہونے والوں کے درمیان حد فاصل قائم کر تی رہے گی۔ اللہ کرے حماد حسن کا قلم اسی طرح سچ اگلتا رہے اور ظلم و جبر کے ایوانوں پر لرزہ طاری کرتا رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply