وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اپیل عوام نے مسترد کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائر س سے بچاؤ کے لیے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی 3 دن آئسولیشن میں رہنے کی اپیل عوام نے مسترد کر دی۔ کراچی شہر میں مختلف علاقوں میں چائے کے ہوٹل کھلے ہیں اور شہر میں پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے عوام سے آج سے پیر تک گھروں میں رہنے کی اپیل کی تھی۔

وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے عوام 3 دن ’رضاکارانہ تنہائی‘ اختیار کریں تاکہ خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھ سکیں، آئندہ 3 دن دفاتر مکمل طور بند ہیں لہٰذا اِدھر اُدھر جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کورو نا وائرس کا پھیلاؤ سنجیدہ مسئلہ ہے، ہمیں نہ صرف خود کو بلکہ اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو بھی بچانا ہے، کورونا کی روک تھام کے لیے گھر میں رہنا عوام اور حکومت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے سوشل میڈیا پر اتوار سے کراچی میں کرفیو لگانے کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرفیو لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ تعطیلات کے 3 دن گھروں پر گزاریں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے اعلان کے بعد آئی جی سندھ مشتاق مہر نے 4 یا زائد افراد کے جمع ہونے یا گاڑی میں سفر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ آئی جی سندھ نے شہریوں کو خبر دار کیا تھا کہ چار آدمی شاہراہوں یا گاڑیوں میں جمع ہوئے یا گاڑی میں ساتھ سفر کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا، ادویات اور کھانا بنانے والی کمپنیاں جنگوں میں بھی بند نہیں ہوتیں، ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

صحافتی حلقوں نے گورنر سندھ کے بیان ہر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران اسماعیل صرف وزیر اعظم کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے جنگ اور وبائی آفت کو گڈمڈ کر رہے ہیں۔ جنگ میں کرفیو بھی لگایا جاتا ہے اور بلیک آؤٹ بھی ہوتا ہے۔ جنگ میں حفاظتی تدابیر اور ہوتی ہیں جب کہ ایک ایسی وبا کے لئے احتیاطی تدابیر بالکل مختلف ہوں گی جس کے بارے میں اب تک واحد دستیاب تدبیر عوام کے میل جول کو کم سے کم کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *