عقل گھاس چرنے گئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گونج سنائی تو دے رہی تھی مگر اس حد تک اقدام کر ڈالا جائے گا اس پر شبہ بر قرار تھا۔ مگر شبہ رفع کردیا گیا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار جنگ گروپ اور ایک دوسرے میڈیا ہاؤس کے حوالے سے اعلانیہ اپنی تقاریر میں کیا جا رہا تھا اس پر عمل کر دیا گیا میر شکیل الرحمن گرفتار ہوگئے سفارتکار میر شکیل الرحمن کی گرفتاری اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کے حوالے سے جاننے کے لئے بے چین تھے۔ اسلام آباد کی خنک شام میں ایک سفارتکار نے مجھ سے یہ سوال بھی کر ڈالا کہ میر شکیل الرحمن نے آخر کمپرومائز کیوں نہیں کیا ورنہ وہ اس اقدام سے بچ بھی سکتے تھے۔

جواب سادہ تھا کہ ان کے صحافتی ادارے کی پالیسی ایک صحافی کی بنائی گئی ہے کسی بزس امپائر کے بغل بچے کے طور پر ان کا میڈیا ہاؤس موجود نہیں ہے جواب پر سوال تھا کہ کیا مطلب؟ مطلب بالکل سادہ جنگ کی پالیسی مرحوم میر خلیل الرحمن نے بنائی تھی اور وہ اپنی بات کہنے سے باز نہیں آتے تھے چاہے ردعمل جتنا مرضی سخت ہو سکتا ہو۔ مثال کے طور پر جب جنرل ضیاء کا دور تھا اس وقت میڈیا پابندیوں کی زد میں تھا اس کا امکان ختم کردیا گیا تھا کہ جنرل ضیا پر نام لے کر تنقید کی جائے لیکن تنقید تو بہرحال کرنی تھی جنرل پنوشے چلی کے ایک آمر تھے اور ایک دن جنگ میں پورا اداریہ جنرل پنوشیے کا نام لے کر لکھ ڈالا ایک ایک لفظ جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف مگر نام کہیں دور دور تک نہیں تھا مارشل لا حکام بری طرح تلملا گئے۔

جنگ کی ادارتی ٹیم کو طلب کرلیا کہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ کام صرف پنوشے نہیں بلکہ جنرل ضیاء بھی کر رہے ہیں اس لیے یہ سب جنرل ضیاء کا نام لیے بنا انہی کے خلاف ہے ڈرانا دھمکانا کچھ کام نہ آیا کچھ دن بعد اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے بیان دیا کہ ”مارشل لا عوام کے خلاف جنگ ہیں“ یہ بیان تو انہوں نے پولینڈ کے حالات کے تناظر میں دیا تھا مگر جنگ نے اس کو بہت بڑا کر کہ چھاپا اور نیچے پولینڈ کا بھی تذکرہ کردیا کہ وہاں کے عوام آمر کو ٹیکس نہ دے۔

حکومت پھر بری طرح تلملا گئی دھمکیوں بدترین نتائج کی گفتگو شروع کر دی گئی لیکن بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جنرل ضیا موجودہ کرتا دھرتاؤں سے اس معاملے میں زیادہ معاملہ فہم تھے انہوں نے دھمکیوں تک پر ہی اکتفا کیا سب سے بڑے اخبار کے مالک کو گرفتار کرنے سے بہرحال گریز ہی کرتے رہے لیکن اب عقل گھاس چرنے جا چکی ہے یہ گمان کرنا کہ میر شکیل الرحمن کسی کا پروگرام ان کی خواہش پر بند کروا دیں گے یا اخبار کی پالیسی میں مداخلت برداشت کر لیں گے کہ یہ چھاپے اور یہ نشر کریں بالکل احمقانہ ضد تھی۔

جنگ ایک پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے جہاں پر صاحبان اقتدار پر کڑی تنقید ہے وہیں پر ان کے حامی بھی اپنے کالموں کے ذریعے جنگ میں نظر آتے ہیں اور یہ طریقہ کار ہمیشہ سے جنگ کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ روزنامہ جنگ کی ایک اور بھی اہمیت پاکستانی سیاست میں موجود ہے پورے ملک میں یکساں طور پر پڑھے جانے کے سبب سے وہ وہ ملک کو جوڑنے والے ایک میڈیا گروپ کے طور پر بھی موجود ہیں ایک بائنڈنگ فورس ہے۔ گرفتاری کے اثرات وہاں تک جائیں گے کہ جہاں تک جانے کا ادراک کم ازکم موجودہ کرتا دھرتاؤں کو نہیں ہیں ”بات چل نکلی ہے اب جانے کہاں تک پہنچے“ بات چلتے چلتے امریکہ اور افغان طالبان کے معاہدے تک آ گئی۔

ایک گورے سفارتکار نے کہا کہ یہ تاثر کے امریکہ اس معاہدے سے صرف اپنا روانگی کا مقصد حاصل کر رہا ہے درست نہیں ہوگا افغان طالبان نے معاہدہ کرلیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے یعنی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اگر کوئی خطرہ افغانستان کی سرزمین پر موجود کسی گروہ سے ہوا تو امریکہ کی بجائے افغان طالبان اس کے مقابل کھڑے ہوں گے یہ کامیابی ہے یا ناکامی؟

ویتنام جنگ میں کم و بیش ساٹھ ہزار جبکہ افغانستان میں تقریبا چار ہزار امریکی کام آئے جتنا خرچہ افغانستان میں امریکہ کا ہوا ہے امریکی بجٹ کو دیکھتے ہوئے وہ مونگ پھلی کے دانوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور امریکہ اس کے اتحادی محفوظ بھی ہوگئے ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اس خوشی میں کے امریکہ نے واپسی کی راہ ٹھان لی ہے معاملے کے دیگر پہلوؤں سے پاکستانی پالیسی سازوں کو آنکھیں بند نہیں رکھنی چاہیے بلکہ اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اس معاہدے تک پہنچتے پہنچتے افغانستان میں اورکیا تبدیلیاں رونما ہو چکی ہے۔

پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ کس قسم کے گروہ جگہ بنا چکے ہیں لیکن اس سب کو سمجھنے کے لئے جو صلاحیت درکار ہے وہ مفقود نظر آتی ہے یہاں پر تو یہ صورتحال ہے کہ جاپان اولمپکس میں حلال فوڈ کی سپلائی پاکستان سے کروانا چاہتا تھا مگر یہاں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی ٹس سے مس ہی نہ ہوا یہ موقع ہاتھ سے چلا گیا۔ یہ 2015 کی بات ہے کہ جاپان کے سفیر اور ایک دوسرے سفارتکار اشیدہ نوری نے مجھ سے رابطہ کیا کہ پاکستانی آموں کی جاپان میں کھپت کے باوجود یہا ں بہت سارے مسائل پیدا کر دیے گئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہ مسائل وزیراعظم نواز شریف کے علم میں لائے۔

میں نے بغیر دیر کیے وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کیا اور معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا انہوں نے کسی تاخیر کے بغیر یہ معاملہ حل کروا دیا۔ مگر اب چیزیں ہاتھ سے نکلتی چلی جارہی ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی جاپان نے اتنی بڑی لیبر فورس پاکستان سے منگوانے کا معاہدہ کیا ہے اب معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کی غرض سے ضروری ہے کہ ٹوکیو میں پاکستانی لیبر اتاشی کا تقرر کیا جائے تاکہ یہ معاملات خوش اسلوبی سے پائے تکمیل تک پہنچ جائیں مگر یہاں یہ صورتحال ہے کہ اس لیبر فورس کی فراہمی کا ٹھیکہ وفاقی کابینہ کے ایک رکن اپنے والد کو دلوانے کے لیے بے قرار ہوئے پھر رہے ہیں اس سے قبل وہ دو ویزا ڈراپ باکس بھی حاصل کر چکے ہیں۔ باہر کی دنیا ان معاملات کو کس نظر سے دیکھتی ہے یہ بیان کرنے کے لیے کسی لمبی چوڑی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *