پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 195 کیسز سامنے آ گئے، مجموعی تعداد 690

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 690 ہوگئی ہے جبکہ اب تک ملک میں کورونا وائرس سے 3 افراد ہلاک جبکہ پانچ صحت یاب ہوچکے ہیں۔ جمعے کی رات 12 بجے تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 495 تھی جو مزید 195 کیسز سامنے آنے کے بعد 690 تک پہنچ گئی ہے۔ ہفتے کو 195 نئے کیسز میں سے سندھ میں 105، پنجاب میں 41 ،گلگت بلتستان میں 34، بلوچستان میں 10، خیبر پختونخوا میں 4 اور اسلام آباد میں ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔

ہفتے کو اسلام آباد میں زیر علاج ایک مریض صحتیاب بھی ہوا جس کے بعد اس وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ اس سے قبل کراچی میں 2، حیدرآباد میں ایک اور اسلام آباد میں ایک مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں کورونا سے 3 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سے 2 خیبر پختونخوا اور ایک کراچی میں ہوئی ہے۔

سندھ میں آج مزید 105 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 357 تک پہنچ گٗی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت کے مطابق تفتان میں موجود زائرین میں سے مزید 105 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وائرس میں مبتلا زائرین کی تعداد 255 ہوگئی اور کراچی میں مجموعی طور پر 101اور حیدرآباد میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 357 ہوگئی ہے جن میں سے تین مریض صحت یاب ہوئے جب کہ 353 کا علاج جاری ہے اور 3 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 2 کراچی اور ایک حیدرآباد میں صحتیاب ہوا۔ گزشتہ روز کراچی میں وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی جو پاکستان میں تیسری ہلاکت ہے۔

پنجاب میں کورونا وائرس کے کنفرم کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور پنجاب حکومت کے مطابق 24 گھنٹے میں مزید 41 کیسز سامنے آنےکےبعد مریضوں کی مجموعی تعداد 137 ہوگئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب کے اندر کورونا وائرس کے تصدیق شدہ 137 کیسز میں سے 106 ڈی جی خان قرنطینہ مرکز، لاہور میں 20 گجرانوالہ میں 4 راولپنڈی میں 1ملتان میں 1 اور جہلم میں 2 کیسز ہیں جب کہ مزید 3 کیسز کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بلوچستان میں ہفتے کے روز کورونا کے مزید 10 کیسز سامنے آئے جس کی تصدیق صوبائی چیف سیکرٹری کی جانب سے کی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری کےمطابق صوبے میں اب تک 103 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے میل جول پر پابندی ہے، یہ وائرس میل جول سے پھیلتا ہے لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ گھروں میں محدود رہیں۔

خیبرپختونخوا میں ہفتے کو کورونا وائرس کے مزید 4 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 27 ہوگئی ہے۔  مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملائیشیا سے آنے والے 41 سالہ شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ شخص کو پولیس سروسز اسپتال قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ باڑہ روڈ کے رہائشی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، متاثرہ شخص 9 مارچ کوعمرہ کی ادائیگی کرکے واپس آیا تھا اور اس کی عمر 46 سال ہے۔

اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جس کی نگرانی وزیراعلیٰ محمود خان خود نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ صوبے میں شادی ہالز، اتوار بازار اور مویشی منڈیاں بند رہیں گی جب کہ 5 اپریل تک تمام ریسٹورنٹس پر بیٹھ کرکھانا نہیں کھا سکتے وہاں سے لے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مزید 34 کیس سامنے آنے کے بعد کل تعداد 55 ہوگئی ہے۔ آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا اب تک ایک ہی کیس رپورٹ ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ ریلیف و بحالی نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کا غسل اور تدفین کرنے والوں کو ماسک، دستانے اور دیگر حفاظتی تدایبر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کو پلاسٹک کور میں بند کرکے تابوت میں دفن کیا جائے، غسل کے دوران استعمال ہونے والے اشیاء کو فوری تلف کیا جائے جب کہ قریبی رشتہ داروں کو میت تابوت کے گلاس پین ونڈو میں دیکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے آئندہ 3 روز تک گھروں میں رہنے کی اپیل کردی۔ وزیراعلیٰ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ آئندہ تین دن تک سب مکمل طور پر آئسولیشن میں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا گھروں میں رہناخود آپ کے لیے اور ہم سب کے لیے ضروری ہے۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ کورونا کے باعث ضرورت پڑی تو لاک ڈاؤن کریں گے، لاک ڈاؤن کیا تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے پریشان ہوں گے، ملک میں ابھی ایسی صورتِحال نہیں کہ لوگ ذخیرہ اندوزی شروع کردیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیے۔

بشکریہ: جیو نیوز 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *