کورونا وائرس: ریاستی ترجیحات پر نظر ثانی کا بہترین موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس سے کتنی اموات ہوں گی اور بچ جانے والوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس کا فیصلہ تو آنے والے وقت میں ہو گا۔ لیکن اس وبا نے پوری دنیا سمیت ہمیں بھی اپنا گریبان دیکھا دیا ہے اور نئے سرے سے اپنی سمت طے کرنے اور اہداف مقرر کرنے کا موقع دیا ہے، یہ بات قبل از وقت ہے اس سے پہلے ہمیں اپنے ماضی میں اٹھائے گئے ہر قدم کا بھاری حساب چکانا ہو گا۔

پچھلی چار دہائیوں سے اس ملک کی عوام کی سائیکی ٹریٹمنٹ سے ان کا احساس چھین لیا گیا سوالوں، دلیل اور سوچ کی راہیں مسدود کر دی گئیں ہیں مکالمے کی گنجائش ختم کر کے ایک مخصوص سوچ اور بیانیے کو مسلط کر دیا گیا ہے۔ جس نے اس بیانیے پر سوال اٹھایا یا اس کے تباہ کن نتائج کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔

ہر شہر محلے گلی اور گھر میں عسکری رومانیت کو فروغ دیا گیا۔ ایک احساس عدم تحفظ کا رگ رگ میں انجیکٹ کر دیا گیا۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں ہماری بقا ڈھیر سارے جنگی ساز و سامان جہازوں میزائلوں اور تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں میں نظر آنے لگی۔ ہر کوئی عسکری رومانیت پر مبنی گن گنانے لگا۔ ہمارے اوپر پرائی جنگیں مسلط کی گئیں مسلسل جنگ کی فضا قائم کر کے اس ریاست کو ایک قومی سلامتی ریاست بنا دیا گیا ہے جس میں بات بندوق، جہاد سے شروع ہو کر ٹینک، دفاع اور بیرونی دشمنوں اور سازشوں پر ختم ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو غربت کی وجہ سے ہاتھ منہ سے نکالنے کی فرصت نہیں نہ یہ شعور کہ وہ اپنا لیے بنیادی سہولیات اور اپنے ٹیکس کے پیسے کے استمعال کے متعلق پوچھ سکیں۔ بہت سے سارے ممالک کی طرح ہماری اقتصادیات بھی جنگ پر مبنی ہے مگر ہم دوسروں سے مختلف ہیں دوسرے اپنی سرزمین کو جنگ کا میدان نہیں بناتے اور اپنی عوام تک اس کے اثرات کم سے کم پہنچاتے ہیں۔

مجھے اپنے آپ پر ترس آتا ہے مقتدر حلقے لاشیں ہاتھوں پر رکھ کر ہم سے داد تحسین وصول کرتے ہیں۔ ان لاشوں کے عوض اربوں ڈالرز وصول کرتے ہیں۔ ریاست موت کو گلوریفائی کر کے اور اسلحہ بندی کر کے ڈھیر سارے ڈرامے، فلموں اور گانوں سے عوام کے جذبات کو کیش کرا کے اور ہر چوک پر ٹینکوں اور جہازوں کے ڈھانچے رکھ کر آخر کب تک اپنی ناکامی چھپائے گی۔ بقول کسے ہم ایک ایف 16 طیارے کی قیمت سے دس ہزار ہسپتالوں کو ساز و سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ میرا سوال ہے ریاست پاکستان کے ہر شہری سے اور ارباب اختیار سے کیا فائدہ ہے ہمیں ہمارے جنگی ساز و سامان سے کیا ایٹمی میزائلوں سے ان پانچ سے سولہ سال کے بائیس ملین سے زائد بچوں کو تعلیم دی جا سکتی جو سکولوں سے باہر ہیں۔

کیا ہمارے جنگی جہاز ان 100 ملین لوگوں کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی سہولت مہیا کر سکتے ہیں جو رسائی نہیں رکھتے۔

دنیا کی کی چھٹی بڑی ایٹمی قوت اور زائد آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ریاست میں صرف دو ہزار وینٹی لیٹرز ہیں۔

جس ریاست میں بنیادی انسانی سہولیات کا اتنا فقدان ہو اس کی معیشت کے معتدبہ حصے پر عسکری ادارے کی اجارہ داری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم آگ اور بارود کے رومان سے نکل کر انسانی فلاح اور بہبود کی طرف بڑھیں۔

کل ایک خبر آئی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فنڈ قائم کرنے کے لیے میرے خیال وہ تمام ریاستی اہل کار جنہیں کھانے پینے اور رہائش کی سہولت ریاست نے فراہم کی ہوئی ہے ان سب کی دو مہینوں کی تنخواہ ریاست کو کورونا سے نمٹنے کے لیے فنڈز میں دینی چاہیے۔ اور وہ تمام ریاستی اہل کار جنہیں ریٹائرمنٹ پر سینکڑوں ایکڑ زمین ملتی ہے اس زمین میں سے پانچ پانچ ایکڑ زمین بیچ کر ساتھ ہی ڈیم فنڈ کی رقم کو بھی کورونا سے نمٹنے کے لیے استمعال کرنی چاہیے اور طبی عملے کو سہولیات فراہم کرنی چاہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *