کیا پاکستان میں کورونا زیادہ تباہ کن نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاتون پتھالوجسٹ (مائیکروبیالوجسٹ) کو اپنے شعبے میں پچیس سال کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور ان کی بہترین کارکردگی کی بنا پر تمام ڈاکٹر اس کی رائے کو ہمیشہ بہت اہمیت دیتے ہیں، اس لئے میں نے بہت احتیاط کے ساتھ اپنا سوال ان کے سامنے رکھا تو مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کا تفصیلی جواب بلکہ تقریر مجھے کس قدر خوشگوار حیرت سے دوچار کر دے گی ۔

اُنھوں نے کہا کہ وائرس دو قسم کا ہوتا ہے یعنی Benign اور Malignant اول الذکر یعنی Benign کی شکل میں وائرس عام سا وائرس ہوتا ہے جو کسی خاص نقصان کا سبب نہیں بنتا لیکن اگر واٹر س Malignant صورت اختیار کرے تو یہ زندگی کے لئے خطرناک روپ دھارتا ہے۔

مزید کہا کہ وائرس عمومًا اپنی ہیئت (ڈھانچہ ) تبدیل کرتا رہتا ہے، اس لئے اس کا ویکسین نہیں بنایا جا سکتا، مثلًا زکام کے لئے ایک مخصوص دوائی اس لئے نہیں بن سکی کہ وہ بنیادی طور پر ایک وائرس ہی ہے یہی حال مختلف دوسرے امراض کا بھی ہے یعنی وائرس معمولی اور خطرناک دونوں امراض میں ہو سکتا ہے۔ (بعض وائرس اپنی ہیئت تبدیل نہیں کر تے اس لئے ان کے میڈیسن بھی دریافت ہوئے ہیں )

مزید کہا کہ وائرس کی نسبت بیکٹیریا ایک خول (cover) ہی میں ہوتا ہے، اس لئے اس کی تشخیص ممکن ہے۔ جس کی بنیاد پر آسانی کے ساتھ میڈیسن یا ویکسین بنتے ہیں۔

میرا یہ سوال چونکہ کورونا وائرس کے حوالے سے تھا اور نامور پتھالوجسٹ کو میری بے چینی کا احساس بھی تھا۔

اس لئے ایک تمھید باندھنے (بلکہ مجھے سمجھانے ) کے بعد وہ اصل سوال کی طرف مڑی اور کہا کہ وائرس عمومی طور پر ایک ہی ہوتا ہے لیکن آب و ہوا اور ماحول کے مطابق اس کا اثر بعض اوقات الگ بھی ہو سکتا ہے اور یہ صرف وائرس نہیں بلکہ بیکٹیریا میں بھی ہے کہ اس کا اثر وھاں کے لوگوں کے بودوباش یعنی خوراک موسم رہن سہن اور طرز زندگی کے مطابق ہی ہوتا ہے جن میں اہم ترین ان کی جینیاتی قوت مدافعت ہی ہے۔ جس طرح نمونیا ہر سال یورپ اور امریکہ میں لاکھوں زندگیاں نگل جاتا ہے لیکن ہمارے ملکوں میں اس کا نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہر خطے کے لوگوں کا مدافعتی نظام (system immunity) اپنے اپنے ماحول کے مطابق ہی پروان چڑھتا ہے اسی لئے مختلف ممالک کے لوگ ایک جیسی بیماریوں کا مقابلہ بھی مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔

اس لئے کورونا وائرس نے یورپ یا چین میں زیادہ تباہی اس لئے مچا دی کہ وھاں کے لوگوں کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے سامنے کمزور پڑ گیا تھا جبکہ برصغیر اور عرب ممالک کے لوگ چونکہ پہلے ہی سے سخت ماحول اور اس سے ملتی جلتی مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اس لئے فطری طور پر ان کا مدافعتی نظام کہیں زیادہ مضبوط ہے اور کورونا وائرس آسانی کے ساتھ ان کے اعضا پر حملہ نہیں کر سکتا اور اگر ایسا ہو بھی تو ان ملکوں کے لوگوں کا فطری طور پر مضبوط مدافعتی نظام اس وائرس کو توڑ دیتا ہے۔ (قدرے بے تکلفی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے ) لیکن بہرحال میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں کرونا وائرس زیادہ نقصان نہیں کر پائے گا۔

ڈاکٹر صاحبہ کی اس بات پرمیں چونکا اور فورًا ہی سوال کر ڈالا کہ گویا آپ کہہ رہی ہیں کہ کورونا وائرس ان ممالک میں Malignant یعنی خوفناک شکل میں ہے جبکہ ہمارے ہاں Benign یعنی کم نقصان دہ شکل میں ہے؟

میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اُنھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ کورونا وائرس کے حوالے سے اُن ممالک کا ڈیٹا نکال دیں اور پھر پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے ابوظہبی اور سعودی عرب تک کا ڈیٹا بھی نکال دیں اور اس کا تقابل کرلیں۔ آپ کو اپنے سوال کا جواب خود بخود مل جائے گا۔

ان کی اس بات پر میں ایک خوشگوار تاثر کے ساتھ ششدر رہ گیا کیونکہ پاکستان، انڈیا، افغانستان اور دبئی وغیرہ گزشتہ دو تین ہفتوں سے کورونا وائرس کی زد میں ہیں لیکن اللہ تعالی کی مہربانی سے ابھی تک بڑی تباہی سے بھی بچے ہوئے ہیں۔

اس طرح کا تجزیہ ایسے حالات میں معمولی سی غیر ذمہ داری کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا، اس لئے میں نے کئی طبی ماھرین کے ساتھ ساتھ مختلف ماھرین عمرانیات، علمائے کرام، دانشوروں اور روحانیت سے دلچسپی رکھنے والے احباب سے اس سلسلے میں بات کی تاکہ میں اپنے تجزیے کو مضبوط شہادتوں کی بنیاد فراہم کر سکوں، میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اپنے اپنے شعبے کے ان تمام ماھرین نے اس تجزئیے سے اتفاق کیا بلکہ ثبوت کے طور پر کئی مثالیں بھی فراہم کردیں۔

ممتاز دانشور منظر جاوید نے بتایا کہ اگر چین میں چار سو مریضوں میں کورونا وائرس پائی گئی تو وہ سب کے سب وینٹی لیٹر پر تھے جبکہ ہمارے ہاں یہ تناسب نہ ہونے کے برابر ہے اس کے علاوہ چین اور مغربی ممالک کا موسم تقریبا ایک جیسا یعنی انتہائی ٹھنڈا ہے جبکہ جنوبی ایشیائی اور عرب ممالک کا موسم نیم گرم یا مرطوب ہے جبکہ لوگوں کا رہن سہن بھی الگ طرز کا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس وبا کی شدت ان ممالک کی نسبت یہاں قدرے کم ہے۔

ماھر عمرانیات صفت اللہ خان نے بتایا کہ اٹلی کی آبادی میں زیادہ تناسب بوڑھے لوگوں کا ہے اس لئے نقصان زیادہ ہوا جبکہ ہمارے ہاں آبادی کی زیادہ تعداد یوتھ یعنی نوجوان نسل کی ہے اس لئے مضبوط مدافعتی نظام کے سبب نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

ممتاز دانشور ناصر علی سید نے بتایا کہ چونکہ اس خطے کے ممالک کے گرم موسم اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے عام آدمی کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہے اس لئے کورونا وائرس اس کے سامنے ہار جاتا ہے۔

روحانیت میں دلچسپی رکھنے والے ایک بیروکریٹ ڈاکٹر فصیح الدین کا کہنا ہے کہ فطرت کا قانون ہے کہ طاقت کے ساتھ سرکشی آئے تو اس کے لئے کم ترین چیز کو عذاب بنا دیتی ہے۔ جیسے نمرود کے لئے مچھر کیونکہ تب وائرس کی نشاندہی نہیں ہوئی تھی اور مچھر ہی زمانے کے سامنے کمزور ترین مخلوق تھی۔ مزید بتایا کہ فطرت توازن کی قائل ہے اور وہ مختلف زمانوں میں اس طرح کے اقدامات کر کے انسانیت کو توازن میں لاتی ہے۔

مشھور ای این ٹی سرجن ڈاکٹر شفیع اللّہ کی رائے ہے کہ ہمارے ممالک میں چونکہ لوگوں کو بار بار فلو وغیرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے خود بخود جسم میں اینٹی باڈیز وائرل انفیکشن کے خلاف بن جاتا ہے۔

اس سلسلے میں وہ خسرہ کی مثال دیتا ہے کہ وہ دوبارہ اس لئے حملہ نہیں کرسکتا کیونکہ پہلی ہی بیماری کی صورت میں مدافعتی نظام اس حد تک توانا ہو جاتا ہے کہ دوبارہ یہ وائرل انفیکشن اس کے سامنے نہیں ٹھر سکتا۔

محترمہ ثمینہ قادر کی رائے ہے کہ تین ہفتے میں صرف چار اموات ہوئیں، جن میں سے تین افراد پہلے ہی شدید بیماریوں کا شکار تھے اس لئے حالات کو زیادہ تباہ کن نہیں کہا جا سکتا۔

لیکن اس سب کے باوجود بھی ہمیں یکسوئی کے ساتھ احتیاط کو تھامنا ہوگا کیونک اس نازک صورتحال میں ہم معمولی سی غلطی اور لاپرواہی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے اور یہی نجات اور چھٹکارے کا حتمی راستہ بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply