مذہب اور سائنس دو الگ چیزیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(اس تحریر کا مقصد کسی کے عقائد و نظریات کی توہین کرنا نہیں۔)

میری جب بھی کسی سے سائنسی مضامین پر بحث ہوتی ہے تو جب اگلا فریق یہ کہتا یے کہ ہماری مذہبی کتاب میں یہ لکھا ہے تو میں فوراً مزید بحث سے گریز کرتا ہوں اور یہ کہ کر بحث کا ٹاپک کلوز کرتا ہوں کہ آپ درست فرما رہے ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی بندہ مذہب اور سائنس کو مکس کرتا ہے تو دراصل یہ قصور اس کا نہیں۔ اول تو اس کی بنیادی سائنس ہی کمزور ہوتی ہے دوسرا اسے مذہب کا مفہوم بھی نہیں پتہ ہوتا۔ ایسے لوگوں کو قصوروار میں اس لیے بھی نہیں سمجھتا کیونکہ ان کا آئی کیو لیول ہی نوے سے کم ہوتا ہے تو ایسے لوگوں سے بحث کرنا دراصل کبوتر کے ساتھ شطرنج کھیلنے کے مترادف ہے۔ اگر آپ کبوتر کے ساتھ شطرنج کھیلیں گے تو وہ شطرنج کا لطف ہی خراب کرے گا۔ دوسرا معاملہ یہ بھی ہے کہ اکثر دانشور یہ بھی فرماتے رہتے ہیں کہ جس فورم پر مذہب کو سائنس سے دور رکھا جائے تو دراصل وہ فورم ایک فتنہ ہے۔ لیکن یقین مانئیے، ان دانشورں نے سائنس اور مذہبی عقائد دونوں کا جنازہ نکالنا شروع کیا ہوا ہے اور مذہب اور سائنس سے ناواقف ہوتے ہیں۔

سوال یہ بنتا ہے کہ مذہب اور سائنس دو الگ چیزیں کیوں ہیں؟

مذاہب کا تعلق عقائد سے ہے جبکہ سائنس کا تعلق سائنٹیفک میتھڈ سے ہے۔

” سائنس سے مراد ایسا علم جو مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر ہو“

نا تو عقائد کو درست ثابت کرنے کے لیے کسی سائنسی سہارے کی ضرورت ہے اور نا ہی سائنس کو اپنی بات منوانے کے لیے کسی مذہبی سہارے کی۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ سائنس میں عقائد نہیں نظریات ہوتے ہیں۔ مذہب کا اپنا ایک ڈسپلن ہے اور سائنس کا اپنا۔ اور یہ دونوں نا ہی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور نا ہی ایک دوسرے کی نفی۔

اس کی مثال کچھ ایسی ہی ہے جیسی ایک فٹبال پلئیر اور ایک کرکٹ پلئیر کی۔ فٹبال پلئیر نے اپنے ڈسپلن میں رہ کر کھیلنا ہے اور کرکٹ والے نے اپنے۔ ان کھیلوں کے قوانین کا دور دور تک ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر یہاں کوئی فٹبال کے قوانین کو کرکٹ کی روشنی میں ثابت کرے گا تو وہ دراصل جہالت ہی ہوگی اور بالکل یہ معاملہ کرکٹ کے ساتھ ہے۔

اب دیکھو اس وقت دنیا میں انسانیت کی آبادی تقریباً آٹھ ارب ہے اور مذاہب کی تعداد چار ہزار ہے۔ ان مذاہب کے نظریات اور عقائد ایک دوسرے سے محتلف ہیں۔ جبکہ ان مذاہب کے آگے کئی اور فرقے بھی ہوتے ہیں جن کے عقائد بھی ایک دوسرے سے محتلف ہیں۔ جس طرع ہمارے نزدیک ہمارا مذہب ہی سچا ہے ان کے نزدیک بھی ان کا ہی مذہب سچا ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعہ معراج کو (جو کہ ہمارے نزدیک سچا معجزہ ہے) نظریہ اضافیت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو عیسائی بھی اپنے عقائد سائنس سے ثابت کرنا شروع کر دیں گے۔ جبکہ ہندو بھی لکشمن اور رام وغیرہ والے اپنے عقائد اضافیت سے ثابت کرنا شروع کردیں گے۔ تو یہاں سائنس گئی تیل لینے۔ جب کہ ان واقعات کا تعلق عقائد اور معجزات سے ہے۔

اگر ایسا ہی ہوتا تو آج ہر مذہب کی سائنس الگ ہوتی۔ اور نا ہی ہم آج زمین کو گول مانتے۔ ہمارے نزدیک کعبہ دنیا کا مرکز ہوتا جبکہ عیسائیوں سائنس سے روم کو کرہ ارض کا مرکز ثابت کرتے۔ ہندو انڈیا کو اور یہودی اسرائیل کو۔ قادیانی ربوہ کو تو بدمت والے مائنٹ ایورسٹ کو۔ جو سراسر سائنس اور مذیب دونوں سے ناواقفیت ثابت کرتا۔ ہندوؤں کی مثال سامنے ہے۔ ان کے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز سائنس سے گائے کے موتر کو صحت بحش ثابت کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔

آپ اس کی مثال چپٹی زمین (فلیٹ ارتھ ) کی مثال سے لے سکتے ہیں۔ آج بھی کچھ لوگ مذہب اور سوڈو سائنس سے اسے ثابت کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سائنس ایک ہی ہے اور وہ ”نیچرل سائنس“ ہے وہی حقیقی سائنس ہے۔ اور یہاں کسی بھی اور سائنس جیسے مذہبی سائنس اور الحادی سائنس کی کوئی ٹرم نہیں۔ اگر کوئی بندہ ایسا کرتا ہے تو یہ ”سوڈو سائنس“ کہلاتی ہے۔

لہذا عقائد کو سائنس سے ثابت کر کے عقائد کی توہین نا کریں۔ سائنس کا الگ ڈسپلن ہے اور مذہب کا اپنا ڈسپلن۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضرغام خاور وڑائچ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *