کسان کرونا سے کیسے مقابلہ کرے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کا، اللہ کرے ارض پاک اور گلگت بلتستان سے جلد خاتمہ ہو مگر اللہ نے تدبیر کا حکم دیا ہے لہذا کسان برادری اس سال اپنے گھر کی کم ازکم چھے مہینے کا راشن خود اگائیں جو کسی بھی ایمرجنسی میں کام آئیں اور فوڈ سیکیورٹی کے حالت میں خاندان پریشان نہ ہوں۔ یہ بات اس لئے کہ رہا ہوں کہ خدانخواستہ پاکستان کی کثیر آبادی میں وائرس سرایت کرنے کی صورت میں ذرائع آمد و رفت جزوی یا مکمل بند ہوسکتی ہے جس سے کھانے پینے کی چیزوں کی قلت پڑ سکتی ہے، گلگت بلتستان کے بہت سے لوگوں نے خوراک خود اگانا چھوڑ دیا ہے، لوگ اب اپنی زمینوں سے آرگینک سبزیات اگانے کی بجائے زہر آلود بازاری سبزیات کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہ اس لئے کہ ہمارے اندر محنت کرنے کے جراثیم کم اور کام چوری کی جراثیم زیادہ سرایت کرچکے ہیں۔

آئیے ہم سب لوگ جنہوں نے اپنی زمینوں کو عرصہ ہوا چھوڑ دیے ہیں دوبارہ انہیں آباد کرنے کی مہم چلاتے ہیں۔ مثلا کرنے کے درج ذیل کام ہیں!

1۔ اس سال کم از کم پچاس پھلدار پودے اپنی زمینوں میں لگائیں اور انہیں اچھی دیکھ بھال کے ذریعے حیات بخشیں یہ مستقبل میں صحت بخش فروٹس کا وسیلہ بننے کے علاؤہ صدقہ بھی بن جائے گا۔

2۔ اس سال کم از کم دو کنال پر مختلف سبزیات کاشت کریں جنہیں تازہ اور خشک دونوں حالتوں میں استعمال کیا جاسکے۔ مثلا آلو، شلجم، پالک، میتھی، فراش بین یا رجمہ، بینز کے ورائیٹیز، کابلی چنے، ٹماٹر، پیاز، اور گاجر وغیرہ

3۔ کم از کم پانچ کنال پہ جو گندم اور باؤلی کاشت کریں جو آپ کی آٹے کی ضروریات اور مویشیوں کے بھوسے کے لئے کافی ہیں۔

4۔ اس سال ہر حال میں دوسری فصل کاشت کریں، زمین کو آدھے سال میں خالی چھوڑنا کفران نعمت ہے، آپ بک ویٹ ( بڑو) ناخٹن ( مٹھو) یا مویشیوں کے لئے بطور چارہ مکئی کاشت کریں۔

5۔ جو درخت آباؤاجداد نے لگا رکھے ہیں انہیں اس سال دیسی و کیمیائی کھاد دیں، شاخ تراشی کریں اور روزانہ پیار سے اس کو دیکھیں، آپ دیکھیں گے وہ اپنے پیار کو کثرت پھل کی صورت میں آپ پر نچھاور کریں گے۔

6۔ پھلوں کو معیاری طریقے سے محفوظ کریں، شہتوت کثیر تعداد میں ضائع کردیے جاتے ہیں انہیں جمع کرکے صحت مندانہ طریقے سے خشک کریں، خوبانی بھی اس سال ضائع نہ ہوں، کڑھی میٹھی جو بھی ہے اسے طریقے سے خشک کریں، اپنی خاندان کی ضروریات کے علاؤہ غریبوں میں بھی بانٹ دیں۔

7۔ سبزیات و پھلوں کو مربع جات، جام اچار وغیرہ بنائیں اور جارز میں محفوظ کریں جو ضرورت کے وقت کام آئینگے۔

اور آخر میں عرض ہے کرونا واقعی ایک سیریس خطرہ ہے احتیاطی تدابیر کا اہتمام کریں اور ہاں اللہ کی مرضی بھی یہ ہے کہ آپ تدبیر کریں، مذاق نہ بنائیں۔ اللہ ہم سب کو حفظ و امان میں رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غلام اللہ ثاقب (سکردو) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *