کرونا سے بچاؤ میں خوراک کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی وبا سے بچنے کے لئے لازم ہے کہ اس کے متعلق صحیح معلومات حاصل ہوں۔ کرونا وائرس ایک نئے طرز کا وائرس ہے جو ابھی تک ویکسین دریافت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے۔ مگر جس قدر تیزی سے یہ وائرس رہا ہے اس سے بھی کافی تیز رفتار سے کرونا سے متعلق غلط معلومات دنیا میں گردش کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان میں تو سوشل میڈیا پر مختلف طبقات کیطرف سے کرونا کی ملک میں آمد سے پہلے ہی علاج تجویز ہونے لگا۔ ایسی صورتِحال میں یہ جاننا نہایت ہی ضروری ہے کہ کون سی معلومات سچائی پر مبنی ہیں اور کون سی حقیقت کے برعکس۔

جہاں تک بات ہے خوراک سے کرونا کے علاج کی تو چاہے وہ پیاز ہو یا کوئی بھی اور اشیائے خوردونوش یہ بات سچ ہے کہ ان کے اندر موجود بہت سارے مرکبات ہمارے جسموں پر اثرانداز ہوتے ہیں مگر یہ عمل تیزی سے پھیلتے ہوئے وائرس کے علاج کے لئے بہت سست ہے چنانچہ کرونا وائرس کے علاج کے لئے جدید طبی سہولیات درکار ہیں۔ تاہم جب بچاؤ کو مدنظر رکھا جاتا ہے تو صفائی اور خوراک سب سے بنیادی عوامل ہیں جن کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے۔

اسلام میں بھی صفائی کو خاصی اہمیت حاصل ہے یہاں تک کہ اسے نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے۔ صرف ماسک یا دستانے پہننا ہی ضروری نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ ہاتھوں سے منہ کو چھونے سے گریز کیا جائے، مصافحہ کرنے کیبجائے ذرا فاصلے سے اسلام علیکم پکار لیا جائے، چھینکتے ہوئے شخص سے فاصلہ رکھا جائے، بلا وجہ بھیڑ میں جانے سے گریز کیا جائے اور ہاتھوں کو بار بار دھویا جائے۔

خوراک وہ واحد قدرتی ذریعہ ہے جو ہماری قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے کیونکہ اس میں بے تحاشا وٹامنز جیسے کہ وٹامن اے، سی، ڈی، ای وغیرہ، معدنیات جیسے کہ زنک، سیلینئم وغیرہ اور کثیر تعداد میں نباتی کیمیا موجود ہیں جو مختلف قسم کے جراثیموں سے لڑنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اگر ہماری قوتِ مدافعت پہلے سے ہیں کمزور ہو تو یہ کرونا جیسے وائرس کے لئے بلاشبہ ایک بلاوا ہے کہ وہ آئے اور ہمارے نظامِ تنفس پر حملہ کرے۔

پانی سے متعلق جاپانی طبیب کا ایک پیغام سوشل میڈیا کے حلقوں کی زینت بنا ہوا ہے کہ اگر بار بار پانی پیا جائے تو وائرس پانی کے ساتھ بہہ کر ہمارے معدے میں چلا جاتا ہے جہاں تیزاب اسے ختم کر دیتا ہے۔ لیکن دنیا کے اکثر ماہرین اس پیغام کو رد کر چکے ہیں البتہ ان کا کہنا ہے کہ جسم میں پانی کی معقول مقدار ایسی وبا سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔

قوتِ مدافعت کو بڑھانے کے لئے ناشتے میں انڈے یا دہی کا استعمال کریں۔ کھانے میں مچھلی، دالیں یا سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ سلاد کو اپنے دسترخوان کی زینت بنائیں۔ سبز چائے، بادام، ادرک، لہسن اور لیموں قوتِ مدافعت میں اضافے کے لئے بہترین انتخاب ہیں۔ سوتے وقت دودھ میں تھوڑی سی ہلدی ملا کر پینے سے جراثیموں سے لڑنے کی جسمانی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

خوراک کے ساتھ ساتھ روزانہ کم از کم بیس منٹ کی ورزش، خوش مزاجی اور سات سے آٹھ گھنٹے کی بھر پور نیند بھی طاقتور مدافعت کے لئے ناگزیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد عثمان میانوالی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply