وبا نے دو نمبر، تین نمبر اور رانگ نمبر کی پہچان کرا دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر میں حکمران ایک طرف مملکت کی حدود وسیع کرنے کے لیے قرب و جوار کے علاقے فتح کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو دوسری طرف وہ تبلیغِ دین کے ذریعے اقوام ِ عالم پر اپنی عددی برتری بھی ثابت کرنا چا ہتے تھے۔ مظلوم اور بے بس طبقے کی بڑی آبادی کو مذہب کی تبدیلی، اپنے حالات کی تبدیلی کا واحد حل نظر آئی۔ مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر دیگر مذاہب کے ماننے والے با اقتدار وبا اختیار طبقے بھی اسی روش پر چل پڑے۔

مذہب میں شمولیت کے لیے کسی نے تبلیغ، کسی نے ضرورت مندوں کی بنیادی ضروریات پوری کر کے، کسی نے اپنے اخلاق و محبت سے مرعوب کر کے، کسی نے طاقت کا اظہار سے اور کسی نے خوف دلا کر لوگوں کو اپنے مذاہب میں شامل کر کے عددی برتری ظاہر کی۔

اٹھارہ سو ستاون کے بعد برصغیر میں مسلمان جب معاشی اور اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہوئے، تو علمائے کرام نے ایک بار پھر انہیں دین کی طرف راغب کیا۔ ان کی کوششیں بار آور ہوئیں۔ عام مسلمان عبادات اور اخلاقیات کی طرف متوجہ ہوئے۔ علماء اور شعراء دربارسے وظیفے کے عوض ان کی ڈکٹیٹ کی ہوئی تاریخ لکھنے پر مامور تھے، اس لیے حکمران طبقے تک پندو نصائح کا گزر مشکل تھا۔ انہوں نے آفات و مصائب اور دل کی ویرانی کم کرنے کے لیے کبھی شیعہ مسلک اور کبھی ہندو مذہب کی رسومات اختیار کیں۔

علماء کی کوششوں سے برِ صغیر کے مسلمانوں میں اپنی حالت بدلنے کے لیے غور و فکر کا آ غاز ہوا تو بس اتنا کہ انہیں اپنی ہر چیز اچھی اور دوسروں کی بری نظر آنے لگی۔ اور وہ فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ ہندو ستان میں مختلف تحریکوں کا آغاز ہو گیا۔ یہ ہی وقت تھا جب ہندوستان میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، کیمرہ، ٹیلی فون، پرنٹنگ مشین جیسی ایجادات کی خبریں آنے لگیں۔ علمائے کرام نے ان ایجادات کے استعمال کے خلاف فتویٰ دیا۔ لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کے سائنس کے خلاف بیانات میں لچک آتی گئی۔

کئی برس سے ہم ضروری اورغیر ضروری باتوں پر ملول ہو کر ترقی یافتہ دنیا کی چیزوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے کے باوجود عمل پیرا نہ ہوتے تھے۔ کسی بھی دکان پر آگاہ فرد کی مانند ایک نمبر چیز کی ہر طرح سے تشفی کرنے کے بعد اسے مہنگے داموں بھی خریدنے کو تیار رہتے تھے۔

آج بھی، دو نمبر، تین نمبر اور رانگ نمبر کے بجائے ہم ایک نمبر کے مصدق ذرائع ہی سے اس بیماری کے بارے میں جان کاری لے رہے ہیں۔ مقدس مقامات سے آنے والوں کو مباک باد دینے کے لیے جسمانی طور پر حاضری کے بجائے ہم ان سے ایک نمبر کی معرفت مبارک باد دینے سے پہلے ان کی خیریت دریافت کر رہے ہیں۔ رحمتوں کی دعا ایک نمبر ہے، دل سے نکلی ہے، یہ کسی زبان میں ہو، کسی مسلک کی ہو، کسی مذہب کی ہو۔ دعا کرنے اور دعا لینے والے ایک نمبر ہیں۔ اس ایک نمبردعا نے دلوں کو مسکّن کر دیا ہے۔

کل شب ِمعراج تھی۔ مقدس ترین رات، لاکھوں آگاہ مسلمانوں نے مسجدوں میں عبادت کے بجائے گھروں میں عبادت کو ترجیح دی اور مبارک ساعتوں میں سائنس کی عظیم ایجاد ٹیلی ویژن کی اسکرینز پر اپنے پسندیدہ علماء کی دعاؤں میں شمولیت کے لیے اپنے ہاتھ بلند کیے۔

ہر مصیبت میں ایک سبق ہوتا ہے۔ اس وبا نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس دلا دیا ہے۔ صحیح معنوں میں یہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔ اس وبا میں مبتلا مریض کچھ وقت کے لیے ایک دوسرے سے دور ضرور ہیں۔ لیکن انسان قریب آگئے ہیں۔

شکریہ سائنس دانو! آپ کی فکری اورروحانی صلاحیتوں کے ساتھ آپ کی قربانیوں، جنون، شب وروز کی محنت، اپنے پیاروں سے دوری نے انسان کو انسان سے قریب کر دیا۔

ہے فنا دہر کا مقدور بقا ہو کہ نہ ہو

موت خود ایک حقیقت ہے خدا ہو کہ نہ ہو

(میر احمد نویدؔ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply