کورونا وائرس ۔ پس چہ باید کرد؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی کےلیے شعور، عزم، احتیاط، وسائل، قومی یکجہتی اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں مگر صد افسوس کہ ہمارے لائحۂ عمل میں یہ سب عناصر نظر نہیں آ رہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا اٹلی سے زیادہ ٹرینڈ ہے۔ اگلے دو ہفتوں میں یہ سنگین صورت اختیار کر لے گا۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے جلد کرنا ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ کہیں دیر نہ ہو جائے۔

 وفاقی حکومت نے اگرچہ اب تھوڑی بہت فعال حکمت عملی اختیار کرلی ہے تاہم اس کی پالیسی بحران میں کم وبیش “سستی، چشم پوشی اور عوام پر چھوڑو” کی رہی ہے جبکہ عوام حکومت کی جانب سے نقل وحرکت محدود کرنے کی التجا پر کان نہیں دھر رہے۔

وبا کے علاج کےلیے درکار بنیادی وسائل جیسے وینٹی لیٹرز، تشخیصی کٹس وغیرہ کی شدید قلت ہے اور قرنطینہ مراکز کا معیار غیر تسلی بخش ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ سب جماعتوں اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے ہی حل ہوسکتا یے مگر قومی اتفاق رائے کیسے پیدا ہو جب ہمارے حکمران دوسرے سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرنے کو تیار نہیں۔

سندھ کے وزیر اعلٰی سید مراد علی شاہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مردِ میدان بن کر سامنے آئے ہیں۔ پی پی پی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان صاحب کو اپنا وزیراعظم کہتے ہوئےان پر تنقید سے گریز کیا اور کرونا وائرس کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل بنانے کی دعوت دی۔ خان صاحب نے مگر ابھی تک مراد علی شاہ کی تعریف کی نہ بلاول بھٹو کی پیشکش کا مثبت جواب دیا۔

ناقدین کہتے ہیں خان صاحب ابھی تک صرف تحریک انصاف کے وزیراعظم نظر آتے رہے اور خود کو پوری قوم کا وزیراعظم نہ دکھا پا سکے۔

کورونا وائرس سے بچنے کےلیے عوام کا میل ملاپ کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس اشد ضروری کام کو عوام کی مرضی پر چھوڑا گیاہے۔

وزیراعظم صاحب ابھی لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ اس سے ان کے خیال میں اشیائے خوردنی کی فراہمی میں تعطل آئے گا، ان کی قلت پیدا ہو جائے گی، مہنگائی آئے گی اور مزدوری ممکن نہ رہے گی۔ اس طرح ملکی آبادی کا پچیس فیصد غریب طبقہ بھوک سے مرجائے گا۔ نتیجے میں حکومت کی بدنامی ہوگی۔

ان کی یہ سوچ خوف اور اندیشوں پر مبنی ہے جبکہ یہ وقت جرات دکھانے، سخت فیصلے کرنے اور وبا کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا ہے۔

25  فیصد غرباء کو مشکلات سے بچانے کے نام پر لاک ڈاؤن نہ کرکے بظاہر پوری آبادی کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ خدانخواستہ اگر معاملہ بگڑ گیا تو لاکھوں مریضوں کا علاج کیسے ہوگا؟

جب ایک طرف شعور کی کمی ہے اور دوسری طرف سازشی نظریات اور خام تصورِ توکل عوام کو احتیاط سے روک رہے ہوں تو پھر، خاکم بدہن، ہمیں کسی بڑے سانحے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

حکومت کیا کرے؟

ریاست اور حکمران قوم کے ماں باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں اپنی اولاد کو کسی نقصان دہ چیز یا عمل سے روکنے کے لیے پہلے نرمی سے سمجھاتے ہیں۔ تاہم بچے اگر اپنی ناسمجھی، بے احتیاطی یا ضد کے باعث خود کو یا دوسروں کو خطرے و نقصان سے دوچار کرنے پر تلے ہوں تو پھر وہ سختی سے بھی روک لیتے ہیں۔

اگر خان صاحب کو یقین ہے کہ لوگ ان کی بات مان کر خود کو گھروں تک محدود رکھیں گے تو پھر ٹھیک ہے۔اگر اس کا یقین نہیں تو پھر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔

فوری طور پر تمام سیاسی و مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی کا اجلاس بلائے، قومی ایکشن پلان مرتب کرے اور قومی ایمرجنسی کا اعلان کرے۔

وبا کے علاج کےلیے درکار تمام لوازمات جیسے تشخیصی کٹس، لباس، دوائیاں، کمبل، وینٹی لیٹرز وغیرہ وافر مقدار میں درآمد کرے۔

وبا کے علاج معالجے کے انتظامات، وسائل کی فراہمی اور امدادی سامان کی تقسیم کےلیے فلاحی اداروں مثلاً جماعت اسلامی کے الخدمت سے مدد لے۔

ہر قسم کےمذہبی، سیاسی اور سماجی تقریبات پر پابندی لگائے۔ میڈیا، اساتذہ، علماء، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں اور غیر سیاسی گروہوں اور شخصیات سے مدد لے۔

عوام کو ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور مہنگائی سے بچانے کےلیے ٹھوس منصوبہ بنائے۔ فی الحال تو وہ شوگر مافیا، آٹا مافیا، دوائی مافیا اور منافع خوروں کے رحم وکرم پر ہیں۔

اشیاء خوردنی، پٹرول، بجلی، گیس اور دوائیوں کی قیمتوں میں فوری ریلیف کا اعلان کرے۔

غرباء کو مالی امداد دے۔ ایک دو مہینے تک گھر میں فوڈ پیکجز یا نقد رقم دینے پر تقریباً تیس ارب روپے خرچہ آئے گا۔ قوم کے وسیع تر مفاد میں اس کا انتظام کرنا زیادہ مہنگا سودا نہیں۔ اتنی رقم تو فوج بھی بخوشی اپنے بجٹ سے کٹوتی کرکے دے دے گی بلکہ وزیراعظم، صدر اور وزراء اعلٰی بھی اپنے اخراجات کم کر کے دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو یاد رکھیے کہ پاکستانی قوم سالانہ ڈھائی سو ارب روپے صدقات دیتی ہے۔ حکومت قوم سے تقاضا تو کرے۔

سرکاری ملازمین اور تاجروں کو ٹیکسز میں ریلیف دے۔ واضح رہے اس مالی سال سے سرکاری ملازمین کے ٹیکس واجبات پچھلے سالوں کے مقابلے میں کئ گنا بڑھائے گئے ہیں۔

عوام کیا کریں؟

آپ کورونا وائرس سے بیمار ہیں یا صحت مند، دوسروں سے غیرضروری اور غیر محفوظ میل ملاپ سے اجتناب اور احتیاط کریں۔ آپ نے خود کو گھر تک محدود رکھنا ہے یا پھر ہسپتال یا قرنطینہ میں قید رہنا ہے، انتخاب آپ کا ہے۔

حکومت عوام کے مفاد میں جو بھی حکمنامہ جاری کرتی ہے اس کی پابندی کریں۔ ہر معروف کام میں اپنے حاکم کی بات ماننا لازم ہے۔ وہ منع کرتی ہے تو انتہائ اشد ضرورت کے سوا باہر نہ نکلیں۔ گھر تک محدود رہیں۔

کسی سے دستانوں کے بغیر باالکل ہاتھ نہ ملائیں۔

سیر سپاٹے اور غیرضروری خریداری سے گریز کریں۔

شادی بیاہ اور دوستوں رشتہ داروں کو دعوت دیں نہ ان کے ہاں جائیں۔

حکومت وبا سے بچاؤ کےلیے مسجد جانے سے منع کرے تو گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام کریں۔

گھر میں رہتے ہوئے خاتون خانہ کے کچن کے فرائض میں اضافہ نہ کریں۔

گھر کے بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھیں کہ وہ وائرس سے خطرے میں ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply