کرونا کراسسز اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی افادیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے دو سال پہلے ریلیز ہونے والی انگریزی فلم ”Quite Place“ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نوے منٹ کی یہ خاموش فلم بھرپور آوازوں سے آراستہ ہے۔ ان آوازوں کو صرف شعور کی سماعت محسوس کیا جا سکتا ہے۔ فلم کا موضوع تھا کہ شہر میں نامعلوم مخلوق کا قبضہ ہو چکا ہے اور پورا شہر کھایا پیا گیا۔ ایک خاندان بچتا ہے جو کہ مکمل طور پر گونگے بن کر زندگی گزذار رہا ہے کیونکہ وہ مخلوق شور کی آواز پر آنا فانا آتی ہے۔ گھر کا سربراہ اپنے خاندان کو بچاتے ہوئے جان دے دیتا ہے کیونکہ اس کے شیر خوار کے رونے کی آواز سے مخلوق متحرک ہو کر حملہ آور ہو جاتی ہے۔

کہانی آگے بڑھتی ہے اور اسی دوران خاتون خانہ اور اس کی بڑی بیٹی کو مخلوق کی کمزوری پتہ چلتی ہے کہ ایک مخصوص آواز کی گونج سے مخلوق کھٹن کا شکار ہو کر بے چین ہو جاتی ہے بس پھر کیا تھا ماں بیٹی شہر کو ان بلاؤں سے نجات دلانے کے لیے سرگرم عمل ہو جاتی ہیں۔ فلم کا پارٹ ٹو رواں سال آٹھ مارچ کو ریلیز ہو چکا ہے۔

ہدایت کار جون کراسنسکی کی ہدایت میں بننے والی یہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ جس میں خاندان خاموشی اور اندھیرے میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اور آخر کار روشنی اور بقاء کا سراغ پاتے ہی جیت کی جانب قدم بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ جون، ایک ماں کی جد و جہد، ایک بہن کی ہوشیاری اور ایک بھائی کی دوسرے شیر خوار بھائی کو سنبھالنے کے لیے کی جانب والی داستان کو بہت ہی خوبصورت انداز میں فلماتے ہوئے انسان کو سوچنے کی طرف مائل کرتا ہے کہ نامعلوم وباؤں اور بلاؤں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ان کی کمزوریوں سے فایدہ اٹھاؤ۔

اسی طرح وائرس کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے جو اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ کرونا وائرس جس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے اس کا راستہ روکنے کا اہم ترین ذریعہ سماجی روابط میں کمی نہیں بلکہ مکمل دوری ہے۔ دوسری جانب وائرس نے اب آہستہ آہستہ پاکستان اور ملحقہ ممالک ایران اور بھارت میں تیزی سے اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے ہیں۔ جس کی اہم ترین وجہ پیشگی حفاظتی انتظامات نہ کرنا ہے۔

جب چین کے شہر ووہان سے یہ وائرس اٹھا تو شہر میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کو حکومت پاکستان نے وطن واپس لانے سے انکار کر دیا جس پر طلباء اور ان کے خاندانوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا مگر چائنا حکومت نے ان طلباء کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا کہ طلباء اپنی سرزمین کے مقابلے میں یہاں زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ وبا کی سرزمین پر ہی ائیسولیشن میں رہ کر وہ اس بیماری کے عدم پھیلاؤ کا سبب بنیں گے۔ بات جب طلباء اور ان کے والدین کی سمجھ میں آ گئی تو ابھرتا ہوا Panic Attitude ختم ہو گیا جبکہ دوسری جانب ووہان شہر میں چینی ڈاکٹروں نے وبا کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔

اٹلی اور دیگر ممالک میں صورتحال خراب ہونے کی وجہ لاک ڈاؤن نہ کرنا تھا جبکہ لاک ڈاؤن، سلف آئسولیشن، قرنطینہ یا کرفیو، سماجی روابط میں کمی صرف کرونا ہی نہیں بلکہ اس نوعیت کی تمام وبائی امرض اور وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ لوگوں کا آپس میں ملنا ملانا یا اجتماع جتنا کم ہو گا، مریضوں کی تعداد اتنی ہی کم ہو گی۔ یاد رکھیں کہ انسان بھوک کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر سسکتی ہوئی اذیت کا نہیں۔ عالمی سطح پر جزوی طور پر ہر دوسرے ملک میں کرفیو یا لاک ڈاؤن کیا جا چکا ہے۔ کرفیو ایک عام اصطلاح ہے جو کہ نامساعد حالات میں ریاستی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے تاہم وبا کے دنوں میں یہ جزوی کرفیو کہلاتا ہے جس میں فرد اپنے آئی ڈی کارڈ کے ساتھ ناگزیر صورت حال میں گھر سے نکل سکتا ہے۔

قرنطینہ کی اصطلاح بھی نئی نہیں ہے اس کا بھی ایک مکمل تاریخی پس منظر ہے جس میں چھوت کا شکار مریضوں کو عام لوگوں سے الگ رکھا جاتا تھا تاکہ وبا نہ پھیلے۔ تاہم پاکستان میں لاک ڈاؤن کا لفظ پہلی بار شاید سب سے پہلے پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں 3 نومبر 2017 میں کیے جانے والے احتجاجی اقدام کے لئے استعمال ہوا تھا۔ جب انہوں نے ملک کی 25 فیصد غریبوں کی پرواہ کیے بغیر ملک کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سے پہلے بھی جب انہوں نے پاکستان کے تمام بڑے شہر لاک ڈاؤن کر دیے تھے کرسی کی خاطر اور 126 دن کا کریڈٹ آج تک لیتے آئے ہیں۔ تب کھانے پینے کے انتظامات ہو گئے تھے۔ مزدور کا تب خیال نہ تھا۔ اب لوگوں کی جان پر بن آئی ہے تو کھانے کی گنجائش نہیں لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔

لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ اس وقت شاید لاک ڈاؤن جائز تھا مگر آج جبکہ اس کی ضرورت ہے اسے تسلیم نہ کرنا پاکستانی عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ 25 فیصد مستحق افراد کا بوجھ اٹھا سکے؟ وہ 25 فیصد عوام جو آپ کی گذشتہ اٹھارہ ماہ کی پالیسوں میں مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔

خان جی، آپ کو یاد ہو یا نہ یاد ہو مگر ہم نہیں بھولے کہ آپ کے رفیقِ خاص جہانگیر ترین نے اربوں روپے خرچ کر کے ریاست مدینہ بنانے کے لیے ایم پی اے خریدے تھے تو لوٹوں کا خریدار اب عوام کے لیے راشن نہیں خرید سکتا یا پھر ہماری حیرت چہ معنی ہے کیونکہ اقتدار سازی ضروری ہے عوام کا کیا ہے یہ تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر مرکزی حکومت کا سرد اور امیچور رویہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی افادیت کو پوری طرح ثابت کر رہا ہے جس میں قائد اعظم کے چودہ نکات کے مطابق صوبائی حکومت کو مکمل خودمختاری دی گئی ہے۔

اٹھارویں ترمیم پاکستانی آئینی تاریخ میں ایک بڑا قدم تھا، ایک سیاسی سنگِ میل کیونکہ یہ ترمیم وفاقیت کے لئے کسی قسم کے کوئی مسائل پیدا نہیں کرتی بلکہ اس کو اسی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے جو ریاست چاہے۔ واضح رہے کہ یہ آئینی ترمیم ریاست کے تشخص پر کسی قسم کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرتی۔ اس ضمن میں یہ امر بھی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ ترمیم کی رُو سے لوکل گورنمنٹس کو مزید مضبوط، خود مختار اور فعال بنایا جائے تا کہ عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت ہو، ان کی ترقی کے راستے مزید کشادہ ہوں اور وطن عزیز کے ریاستی تشخص کو مزید بہتر ڈھنگ سے مضبوط کیا جا سکے۔

اٹھارویں ترمیم کے تحت ملنے والی صوبائی خود مختاری کراسسز کے دنوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور بروقت اور اہم فیصلوں میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں صرف وفاق کی طرف دیکھتی رہتیں تو امیچور وفاقی حکومت کی وجہ سے ابھی تک صورت حال بہت زیادہ بگڑ چکی ہوتی۔ سندھ حکومت اگر وفاق کے فیصلے کا انتظار کرتی تو پھر کسی بھی انسانی المیے کی صورت میں مرکزی حکومت نے ساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جانا تھا اور عوامی نفرت کا رخ سندھ حکومت کی طرف ہو جاتا۔ مگر سندھ حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات کا بروقت اور برمحل استعمال کر کے وبا پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے ہی وبا کے پھیلاؤ کا حل ہیں جبکہ ہماری مرکزی حکومت اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ملک کے مؤقر انگریزی اخبار ڈان کے رپورٹر آصف چوہدری نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہم بہت تاخیر کر چکے ہیں جبکہ دنیا بہت سیانی ہے۔ تمام ممالک نے وینٹیلیٹرز کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی ہے اور اپنے اپنے ملکوں کی کمپنیوں کو سخت ہدایات دی ہیں کہ کرونا بیماری کی وبا کے دوران وہ سب سے پہلے اپنے ملک کی ضروریات پوری کریں دوسروں کی فکر بعد میں کریں۔

جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہمارے پاس پورے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں 1155 وینٹیلیٹرز ہیں۔ ان میں سے تقریباً 400 لاہور اور باقی دیگر بڑے شیروں میں ہے۔ پنجاب نے فیڈرل گورنمنٹ کا بتا دیا ہے کہ انہیں انتہائی خطرناک صورتحال سامنا ہے اور فوری طور پر وینٹیلیٹرز چاہیے ورنہ آنے والے دنوں میں بڑا سانحہ ہو سکتا ہے۔ اب ہمارے پاس صرف چائینہ بچا ہے جس نے پابندی نہیں لگائی۔ تاہم پہلے نارمل حالات میں ایک portable ventilator تقریباً 600 امریکی ڈالر میں آتا تھا اب اس کی قیمت 1000 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں اس صورتحال کے مطابق سمجھ جائیں۔ بہر حال کل منگل ہے دیکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس مشکل مرحلے پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان عقل بندوں کی پٹاری میں سے کیا نکلتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply