“کرونا وائرس سے پہلے اور بعد والی دُنیا”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابتدا میں تو سوائے چین  کے کسی نے بھی اُسے سنجیدگی سے نہ لیا ۔اب گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے دنیا میں ایک عجب طرح کی بے چینی  ،سراسیمگی، خوف، دہشت اور اعصاب شکن کیفیت درپیش ہے۔ امریکہ ہو یا  یورپ ،مڈل ایسٹ ہویا جنوبی ایشیاء ،کینڈا سے آسٹریلیا تک ایک خوف کا رقص ہے۔کوئی بھی خطّہ ہو یا ملک اِس ناگہانی وآفاقی بلا جسے کروناوائرس کا نام دیا گیا ہے سے محفوظ نظر نہیں آ رہا ہے۔بڑے  بڑے شہروں میں کرفیو کا منظر ہے۔ لوگوں کو زبردستی اپنے گھروں میں قید رکھا جا رہا ہے کہیں لوگ رضا کارانہ طور پر تنہائی میں رہنے کر ترجیح دے رہے ہیں۔

بازاروں ، مالوں ، عبادت گاہوں میں لوگوں کا آنا جانا بہت کم نظر آ رہا ہے۔ہر طرف حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کا شور ہے۔یہ عجیب مرض ہے جسکاعلاج اور احتیاط تنہائی ہے۔لوگوں سے اجتناب، ہر چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے ضروری ہیں۔لوگوں سے مناسب فاصلہ رکھ کر بات کرنا ہے۔

کروناوائرس کس قدر تباہی کرے گا اس کے بارے میں کچھ  کہنا تو قبل از وقت ہے البتہ یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر اس پر قابو پالیاگیااور عالم انسانیت اُسکے خوف سے باہر بھی نکل آئی تو آنے والا وقت دُنیا کو” کرونا سے پہلے اور بعد والی دُنیا”سے یاد رکھے گا۔

یہ  کوئی عذاب الہی ہے ۔قدرت کی وارننگ ہے۔ ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ترقی کے زعم اور گھمنڈ میں پڑی قوموں کو جھٹکا ہے یا کچھ اور ہے۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ کروناوائرس نے ہمارے معاشی اور معاشرتی رویّے  تبدیل کر دئیے ہیں۔ہمارے اخلاقی معیار کا ازسر نوتعین ہو رہا ہے کہ لوگ اس بحران میں کن اخلاقی اقدار پر کاربند ہیں۔کہیں خریداری مراکز پررش ہے۔ کہ لوگ چیزوں کا غیر ضروری اسٹاک کر رہے ہیں۔ کہیں منافع خور اور ذخیرہ اندوز دولت کی حوس میں اندھے نظر آ رہے ہیں اور کہیں لوگ راشن کے پیکٹ بنا کر مستحق لوگوں کی تلاش میں سڑکوں پر سرگرداں ہیں۔یہی تو وقت ہوتا ہے جب قوموں کی اخلاقی اقدار کھُل کر سامنے آتی ہیں ۔جو قوم بھی اس وبا سے باوقار انداز میں لڑے گی انشاء اللہ سرخرو ہوگی۔

 سوشل میڈیا اس وقت اس جنگ    کا سُرخیل  بن کر آبھرا ہے۔ایسے ایسے ٹوٹکےاور ایسے ایسے نسخے اس پر متواتر اور مسلسل آرہے ہیں کہ اللہ کی پناہ جہاں ایک طرف ساری دُنیاسراسیمگی کی حالت میں ہے اور ایک اعصاب شکن مرحلہ سے گزر رہی ہے۔وہاں پاکستانی قوم اپنے سابقہ مزاج اور روایات کو برقرار رکھے ہوئے  ہے۔

معاشرتی دُوری یا سوشل ڈسٹنس کا خوب مذاق بنایا جا رہا ہے۔مصافحہ بلکہ معانقہ کرنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسےایسے مذاحیہ خاکے اور لطائف بھیجے جا رہے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ یہ قوم واقعی چھٹیاں منا رہی ہیں۔ہماری حکومت اولاً حسب روایت سُستی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ مگراب صورتحال کی سنگینی کا ادراک کئے بیٹھی ہے۔کہیں مکمل لاک ڈاؤن اور کہیں جزوی۔جلدی جلدی اقدامات آٹھائے جارہے ہیں ۔صوبوں اور مراکز میں تال میل کم کم نظر آرہا ہے ۔اللہ کرے کہ ہم اس وبا کا مقابلہ جوانمردی ،جرات اور کسی منصوبہ بندی سے کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ہمارے پاس تو وسائل کی بھی کمی ہے اور ٹیکنالوجی تو بس رہنے ہی دیں۔

کروناوائرس کے اثرات عالمی معیشت پر بڑے تباہ کن ثابت ہونگے۔ پہلے  ہی دُنیا کی تمام بڑ ی اور چھوٹی ائیر لائنز کے جہاز گراؤنڈ ہو چکے ہیں ۔سیاحت کی انڈسٹری بمعہ ہوٹل انڈسٹری تقریباً بند ہوچکی ہے۔تقریباً بڑے بڑے صنعتی پراجیکٹ یا تو بند ہوچکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔

دیہاڑی دار،مزدور،چھوٹا کارباری،دکان دار اور متوسّط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہور ہا ہے بےشمار لوگ اپنی نوکریاں اور جاب کھوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔جب پیدواری یونٹ بند رہیں گے تو مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا شدیدبحران صرف چند روز بعد سر اٹھائے گا۔اس وقت سابقہ تیار شدہ مال مارکیٹوں  اور منڈیوں میں فروخت ہو رہاہے یہ ذخیرہ یا سٹور ایک ماہ سے زیادہ چلتا نطر نہیں آ رہا۔دُنیاایک شدید غذائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے ۔وہ تمام تگڑی اورمضبوط معشیتں اور سٹاک مارکیٹ کساد بازاری  کی طرف تیزی سے گامزن ہیں ۔

جنہیں اپنے سرمایہ،صلاحیت اور ہنرمندی پر ناز تھا۔غرضیکہ دُنیاایک بڑے انسانی بحران کی طرف بڑھتی نظرآرہی ہے۔ وہ ترقی یافتہ ممالک جو جدید اور مہلک اسلحہ سازی کو ہی اپنی بقا کا ضامن سمجھتے تھے۔بڑے بڑے ائر پورٹ ،بڑے عالی شان شاپنگ پلازہ  جدید موٹر وے ،انسانی عیاشی کے لئے بے شمار ایجادات پر نازاں تھے۔ اب اس سوچ میں غرق ہیں کہ اس سب کچھ کی بجائے اگر ہم جدید ہسپتال بنا لیتے۔

وافر مقدار میں ونٹی لیٹر ز ہی ہوتے جو آج خوف زدہ اور سسکتی انسانیت کو بچا سکتے۔اس کرونا وائرس کے بعد انسانی رویے تبدیل ہونگے سائنس دانوں کی سوچ بدلے گی۔انسانی جان کو بچانا ریاست کی اولین ترجیح ٹھہرے گی۔

ہم  پاکستانی تو ہمارے پاس تو پہلے بھی ایک کمزور معشیت تھی۔جو قرضہ زدہ اور بمشکل ہی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر ہی تھی۔اسلئے ہمیں شاید زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔صرف اللہ پر بھروسہ اور آسکی مدد اور نصرت پر یقین رکھیں کہ شاید اب وہ ہی اس خطرناک صورتحال سے ہمیں نکالے۔

یہ وقت دُعا ہے۔توبہ و استخفار کا وقت  ہے ۔یہ انسانی ہمدردی ،ایثار اور وفا کا وقت  ہے صاحب ثروت آگے آئیں اور ان لوگوں کی مدد کریں جن کا روز گار چھن گیا ۔جو غرض مند ہیں ۔حاجت مند ہیں ان لوگوں کو اپنے آس پاس تلاش کرنا ہوگا کہ زندہ معاشرے ایسے امتحان کے وقت ایسے ہی کرتے ہیں۔کہ ایسی خوفناک وبا نے پوری دُنیا کو ہلا کررکھ دیا ہے بلکہ دُنیا کو تبدیل کر دیا ہے۔اور واقعی کچھ عرصہ بعد دُنیا “کروناوائرس سے پہلے اور بعد والی دُنیا” سے یاد رکھی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *