دل دریا سمندروں ڈونگے

اپنی کتاب ”عدل بیتی“ میں جب دوستوں نے میرا یہ فقرہ پڑھا کہ ”میں نے زندگی میں زیادہ فیصلے دماغ کی بجائے دل سے کیے اور حیرت انگیز طور پر اکثر فیصلوں کے رزلٹ بھی مثبت آئے“ تو کئی دوستوں نے اس پر حیرانی اور بعض نے ستائش کی۔ بات بڑی سادہ اور عام فہم ہے صرف غور و فکر اور حسن تدبر کی طلب گار ہے کہ انسانی جسم میں اللہ تعالٰی نے بے شمار اجزا ترتیب دیے ہیں

Read more

بعد از ریٹائرمنٹ زندگی بے مقصد نہیں

ریٹائرمنٹ ہر سرکاری و غیر سرکاری ملازم و افسر کے حصہ میں ضرور آتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کے غیر معمولی استعمال اور اس پر شیئر ہونے والے ہر طرح کے جملے، اقوال اور لطائف وغیرہ منٹوں میں وائرل ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ریٹائرمنٹ کے حوالہ سے بے شمار لطائف اور کہانیاں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔ کہیں تو ریٹائرڈ افسران کو چلے ہوئے کارتوس اور کہیں بجھے ہوئے سگریٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہمارے خیال

Read more

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

چند روز قبل سوشل میڈیا پر مرحوم وزیراعظم لیاقت علی خان جو تحریک آزادی پاکستان کے روح رواں، قائد اعظم کے دست راست اور قافلہ حریت کے سالاروں میں صف اول کے مجاہد تھے ان کی بہو کا ایک دلخراش اور ناقابل یقین خط شائع ہوا۔ سچی بات تو یہ کہ اس خط نے رلا دیا۔ کس طرح ایک نواب فیملی اور سابق وزیراعظم پاکستان کے وارثان کسمپرسی اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ذاتی گھر بھی نہ ہے۔ اور علاج معالجہ کے وسائل بھی نا پید۔

یہ وہی لیاقت علی خان ہیں جو ایک نواب گھرانا سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے ناز و نعم میں پلے مگر اپنی ہر چیز اس ملک پر قربان کر دی

Read more

نور مقدم کیس اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں جواں سال پڑھی لکھی لڑکی نور مقدم کا اس کے ایک دوست کے ہاتھوں المناک قتل کی واردات بہت سے گنجلک سوالات کو جنم دے کر معاشرہ میں خوف و ہراس کا باعث بھی بنا اور ہمارے معاشرتی رویوں کے ازسر نو جائزہ لینے کے کئی امکانات پیدا کر گیا۔ ملزم اور مقتولہ دونوں کھاتے پیتے، پڑھے لکھے اور معاشرتی طور پر با رسوخ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ دونوں کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور کون زیادہ قصور وار ہے۔

Read more

ارض فلسطین پھر لہو لہو

یوں تو ارض فلسطین گزشتہ 70 سال سے آگ و خون کا دلخراش منظر پیش کر رہی ہے۔ یہودی اس خطہ فلسطین میں کس طرح آباد ہوئے، اسرائیلی ریاست کا منصوبہ کہاں بنا اور کیسے روبہ عمل ہوا۔ فلسطینیوں کو اپنے ہی گھر میں کس نے کس کی شہ پر بے آباد اور مہاجر کیا، کس طرح 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی اور کتنی قیمتی اور نایاب زمین اسرائیل کے ہاتھ لگی۔ پھر وقتاً فوقتاً

Read more

چاند کس شہر میں نکلا ہو گا

پاکستان میں عید الفطر کے چاند دیکھنے کا تنازعہ کچھ نیا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ حالیہ عید الفطر پر بھی دیکھنے کو ملا۔ ہر دفعہ چاند کو دیکھنے یا چھپانے کا طریقہ واردات مختلف ہوتا ہے۔ اس مرتبہ نہ صرف منفرد طریقہ تھا بلکہ کچھ مزاحیہ اور ناقابل یقین بھی تھا۔ آغاز رمضان المبارک سے ہی سابق وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری با تکرار فرماتے رہے کہ ”اس مرتبہ رمضان میں تیس روزے ہوں گے اور عید جمعۃ المبارک کو ہو گی“ ۔

ان کی اس اطلاع کا انحصار محکمہ موسمیات، سائنس ٹیکنالوجی، سپارکو وغیرہ کی ”فرسودہ“ مشینری پر تھا۔ جبکہ رویت ہلال والوں کے پاس لمبی لمبی دوربین نما کیمرے اور دیگر ”جدید“ آلات تھے۔ پھر مفتی صاحبان کا جذبہ ایمانی بھی ان جدید آلات کے ساتھ شامل ہو کر رویت ہلال کی طاقت کو دو آتشہ کر رہا تھا۔ لہٰذا محکمہ موسمیات کے ریڈار تو چاند کے بارے میں غلط اطلاع دے سکتے تھے مگر رویت ہلال کمیٹی کا طریقہ تحقیق و تفتیش تو غیب کی خبریں دے رہا تھا۔

Read more

دلچسپ معاشرتی رویے

حضرت انسان اشرف المخلوقات کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے کے باعث دیگر تمام مخلوقات سے اعلٰی و ارفع گردانا جاتا ہے۔ انسانی شخصیت ہمہ جہت پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ انسانی شخصیت کی جاذبیت اور حسن و دلکشی نمایاں اوصاف کے ساتھ ابھرتی ہے۔ جس طرح شکل و صورت، خد و خال، وضع قطع اور آواز و بیان میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے مشابہت رکھنا ایک مشکل امر ہے اسی طرح انسانی سوچ، عقل، جذبات، خیالات، تصورات، ذہانت و فطانت اور ویژن میں ہر انسان دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے۔ مگر سب سے منفرد، حیرت انگیز اور خیال افروز انسانی رویے اور ان سے متشکل ہونے والی روز مرہ سماجی زندگی کی صورت گری ایک الگ اور مفصل بحث کی متقاضی ہے۔

Read more

علامہ اقبال ایک آفاقی شاعر

شاعر بے مثل، فلسفی شاعر، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا آج یوم ولادت تزک و احتشام سے تو نہیں البتہ سادگی سے منایا جا رہا ہے۔ اقبال جو ایک آفاقی شاعر تھا جس نے خواب غفلت میں گم ایک بے آواز قوم کو ایک واضح نظریہ اور سمت دی۔ تحریک آزادی پاکستان میں اقبال کا کردار اس کی ولولہ انگیز اور انقلابی شاعری سے مترشح ہے۔ جو روشنی کا ایک منارہ ہے۔ مگر افسوس ہم نے اقبال کی شاعری کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے یا اس سے رہنمائی لینے کی بجائے اس شاعری کو قوالوں کے سپرد کر دیا ہے۔ ہم اچھے سروں پر گائے جانے والے کلام اقبال پر سر تو دھنتے ہیں۔ مگر اس سے کوئی رہنمائی نہیں لیتے۔ اقبال کتنا بڑا شاعر ہے اس کا تعین شاید ابھی نہیں ہو سکا۔ وہ مستقبل کا شاعر ہے۔ ایران میں اقبال پر زیادہ کام ہوا ہے کہ اس کا زیادہ پر مغز اور اثر انگیز کلام فارسی میں ہے۔ جبکہ ہم نے فارسی کو مدت سی اپنی درسی کتابوں سے نکال دیا ہوا ہے۔ اقبال اپنے بارے میں فرماتے ہیں۔

Read more

سانحہ موٹروے اور ہمارا نظام انصاف

یہ بحث بالکل لاحاصل ہے کہ رات کے اس حصہ میں ایک ویران اور بغیر سکیورٹی کے سڑک پر ایک تنہا عورت کو اپنے معصوم بچوں کے ساتھ سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس سڑک پر سکیورٹی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ چھ ماہ سے مکمل شدہ اس سیالکوٹ موٹروے پر ابھی تک موٹروے پولیس کیوں تعینات نہ ہوئی۔ کون سی فائل کس دفتر میں رکی اور اس کے ذمہ دار کون کون لوگ ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ رات کے تقریباً بارہ بجے جب وہ مظلوم عورت موٹروے پولیس سے اور پھر ان کے بتائے دیگر نمبر پر مقامی پولیس سے گاڑی میں پٹرول ختم ہونے کی اطلاع کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ اس ویران سڑک پر اپنے معصوم بچوں کے ساتھ تنہا بے یارو مددگار کھڑی ہے۔ تو رات دو بج کر پچاس منٹ کے قریب ڈولفن پولیس کے کچھ جوان جنگل میں اسے تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ بقیہ سب کچھ میڈیا پر آ چکا ہے۔ دہرانے کی ضرورت نہ ہے۔ جس المیے کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ قابل غور ہے کہ لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک بے بس عورت ہر قسم کی پولیس سے مدد طلب کرتی ہے۔ ایک راہ گیر رات دو بجے 15 ایمرجنسی نمبر پر عورت کی لوکیشن اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی اطلاع دیتا ہے۔ اور وہ راہ گیر یہ اطلاع دیتے دیتے اور جوابی سوالات سے پولیس حکام کو مطمئن کرتے کرتے موٹروے کا سفر مکمل کر کے اپنی منزل مقصود سیالکوٹ پہنچ جاتا ہے۔ مگر پولیس پورے پچاس منٹ بعد حرکت میں آتی ہے۔ یہ کس طرح کا ایمرجنسی پولیس نظام ہے۔ یہ اصل لمحہ فکریہ ہے۔

Read more

لاہور میں ایک جج کے تجربات

دسمبر 1993 میں خیر پور ٹامیوالی سے میری خواہش کے برعکس لاہور میں تبادلہ ہو گیا۔ میں لاہور کے قرب و جوار میں پوسٹنگ چاہتا تھا مگر قدرت کو شاید ہمیں داتا کی نگری میں رکھنا مطلوب تھا۔ لاہور کے بارے میں اپنے تاثرات، تجربات اور یادیں قلمبند کرنے سے قبل ایک جملہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 1993۔ 1996 والا لاہور آج کے لاہور سے بالکل مختلف تھا۔ کوئی مناسبت، کوئی مطابقت، کوئی تقابل ممکن ہی نہ ہے۔ یہ تقابل کس طرح ممکن ہے؟ 50 لاکھ کی آبادی والا شہر 2019۔ 2020 میں ڈیڑھ کروڑ کے انسانی بحر بیکراں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور جو ٹھوکر نیاز بیگ پر ختم ہو جاتا تھا اب وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ 1994۔ 1995 میں 40 کے قریب سول جج، پندرہ ایڈیشنل سیشن جج اور تین چار ہزار ممبران پر مشتمل لاہور بار اب 225 سول ججوں، 75 سے زائد ایڈیشنل سیشن ججوں اور بیس بائیس ہزار کے قریب ممبران پر مشتمل بار ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی بار ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق لاہور بار اس وقت صرف ایشیا نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور منفرد بار ہے کہ وکلا کی اتنی بڑی تعداد دنیا کے کسی بھی شہر میں موجود نہیں ہے۔

2017 میں جب میں سیشن جج لاہور تھا تو صوبہ خیبر پختونخوا سے سینئر سیشن ججوں کا ایک 15 رکنی وفد سیشن کورٹ لاہور کے وزٹ پر بھی آیا۔ بریفنگ کے بعد میں نے انہیں وہ کمرا دکھایا جہاں ہم نے ویڈیو وال کے ذریعہ لاہور کی تقریباً 220 عدالتوں کی کوریج کا انتظام کر رکھا ہے۔ وہ سارے جج صاحبان بڑے متاثر ہوئے اور مجھ سے پوچھا اتنی زیادہ عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور میں کتنے سیشن جج کام کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ صرف ایک ہی سیشن جج ہے تو کورس کی صورت میں ان کے یہ الفاظ اب بھی کانوں میں گونجتے ہیں کہ ”یہ انسانی بساط سے باہر ہے“ ۔

Read more

چٹی شیخاں سے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج تک

31 دسمبر 2019 اس لحاظ سے میرے لیے قابل ذکر رہا کہ اس روز 6 جولائی 1982 سے جوڈیشل سروس کا ہونے والا آغاز بخیر و خوبی اود باعزّت طریقہ سے اختتام پزیر ہوا۔ دوست احباب نے  سوشل میڈیا پر جس طرح سے اپنے جزبات کا اظہار کیا میں شاید اس خراج تحسین کا مستحق نہ تھا۔ یہ سب اللہ تعالٰی کا کرم اور بے پایاں عنایات اور  میرے والدین کی دُعایئں تھیں کہ یہ تقریباً 38 سال پر محیط

Read more

کرونا وائرس۔ منفی اور مثبت اثرات

  کرونا وائرس کے مہلک اور جان لیوا اثرات نے جس طرح عالم انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا اور اس وقت کرہّ ارض کا کوئی خطّہ، علاقہ اور بستی اسکی چیرہ دستیوں  سے محفوظ و مامون نہیں ہے۔ ہر دل اور دماغ پر  وائرس اور اسکے اثرات کا غلبہ ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہو کر نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ کاروبار زندگی تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔ بازار اور گلیاں سنسان۔ دفاتر اور فیکٹریاں ویرانی کا

Read more

لسّی کے کٹورے سے گوگل ابّا تک

  اپنے وقت کے فاسٹ باولر اور قومی ہیرو شعیب اختر کی ایک ویڈیو کرونا وائرس سے متعلق آجکل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اسکے ایک جملہ نے کہ انٹرنیٹ اور گوگل کی وجہ سے “ آج کی دنیا اتنی پاس ہو کر بھی دور ہو گئ ہے” چونکا کر رکھ دیا۔ یہ جملہ سیدھا دل کو جا کر لگا۔ کیا سادے سے جملہ میں اتنی بڑی بات کر دی۔ پھر کیا تھا ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا شروع کیا۔

Read more

یہ وقت بھی گزر ہی جائے گا

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ محمود غزنوی نے اپنے چیہتے مگر زیرک غلام ایاز کو کہا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ کہ اگر میں خوش اور مسرور ہوں تو اُسے دیکھ کر نارمل ہو جاؤں اور اگر غم اور پریشانی کی کیفیت ہو تو طبعیت میں سکون اور قرار آ جائے۔ ایاز نے کاغذ کا ایک ٹکڑا پکڑا۔ اس پر کچھ لکھا اور کاغذ کی اچھی طرح تہہ لگا کر بادشاہ کے حوالہ کیا اور کہا بادشاہ سلامت جب کبھی متذکرہ بالا دو کیفیتوں کا سامنا ہو اس کاغذ کو کھول کر پڑھ لینا۔ طبعیت میں سکون اور قرار آ جائے گا۔ کچھ عرصہ گزرا کہ بادشاہ کو امور سلطنت کے کچھ معاملات میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی قسم کے خطرات نے اسے گھیر لیا۔ اسے یاد آیا کہ ایاز نے کاغذ پر کچھ لکھا تھا اور ایسے ہی کسی موقع پر پڑھنے کا کہا تھا۔ اس نے حفاظت سے رکھا ہوا وہ کاغذ نکالا اس پر لکھا تھا ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“

Read more

آفت جو خدا کے قریب کر دے رحمت ہوتی ہے

کرونا وائرس نے جس طرح دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے. یورپ اور امریکہ جس طرح اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں. بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران اس وائرس کا شکار ہو کر گھروں میں نظر بند ہیں.دُنیا کی تقریباً سات ارب آبادی ایک خوف.وہشت اور بے چارگی کی تصویر بنی گھروں میں دبکنے پر مجبور ہے۔ پوری دُنیا خصوصاً ترقی یافتہ ممالک اس بیماری سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہے. مگر

Read more

"کرونا وائرس سے پہلے اور بعد والی دُنیا”

ابتدا میں تو سوائے چین  کے کسی نے بھی اُسے سنجیدگی سے نہ لیا ۔اب گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے دنیا میں ایک عجب طرح کی بے چینی  ،سراسیمگی، خوف، دہشت اور اعصاب شکن کیفیت درپیش ہے۔ امریکہ ہو یا  یورپ ،مڈل ایسٹ ہویا جنوبی ایشیاء ،کینڈا سے آسٹریلیا تک ایک خوف کا رقص ہے۔کوئی بھی خطّہ ہو یا ملک اِس ناگہانی وآفاقی بلا جسے کروناوائرس کا نام دیا گیا ہے سے محفوظ نظر نہیں آ رہا ہے۔بڑے  بڑے شہروں

Read more

"کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”

پوری دُنیا اس وقت ایک عجیب خوف کا شکار ہے۔انسان بے بسی سے مر رہے ہیں ۔بے شمار کرونا وائرس  کا شکار ہو کر الگ تھلگ جگہوں پر انتہائی نگہداشت وارڈوں میں زیر علاج ہیں۔بازار اور شاپنگ مال سنسان ہیں۔ عبادت گاہیں خالی کرائی جا رہی ہیں ۔بین الاقوامی پروازیں بند ہیں۔ سیاحت کی انڈسٹری ٹھپ ہو چکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ کریشں اور تیل کی قمیتں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔دُنیا ایک عظیم تجارتی ،مالی اور

Read more

بھارتی مسلمانوں کی بے بسی اور سویا ہوا عالمی ضمیر

ارضِ ہند پر گرتی ہوئی مظلوم مسلمان کے خون  کی ہر بوند  بے کس و لاچار مسلمانوں کی آہ وبکا، درندگی کا شکار مسلمان عورتوں کی چیخ و پکار، مساجد اور مذہبی درس گاہوں کی پامالی ومسماری، مسلمانوں کے گھر اور دکانوں کی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہم ٹویٹ پر مذمت کر رہے۔ اور عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔ خون مسلمان  کس قدر ارذاں

Read more

اندھا دھند انصاف

آج سے پانچ دس سال قبل سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والے لوگ بڑے خوش قسمت تھے کہ سوشل میڈیا کی کارِ سرکار میں بے جا مداخلت سے محفوظ و مامون رہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا ہماری نجی، سماجی، سیاسی، سرکاری زندگیوں میں غلبہ ہوا ہے اب کوئی بات راز نہیں رہی۔ ہر اہم اور غیر اہم بات کا تذکرہ سورج غروب ہونے یا طلوع ہونے سے قبل چہارِ عالم میں ہوچکا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک خبر چند

Read more

بہن یا بیٹی کو عزت کے نام پر قتل کر سکتے ہیں، وراثت میں حصہ نہیں دے سکتے

  عورت خواہ ماں کے روپ میں ہو بہن کے، بیوی ہو یا بیٹی۔ اسکے تمام روپ دلکش، خوبصورت، محبت آمیز اور پر خلوص ہیں۔ یہ وفا اور محبت کی علامت ہے۔ کہ وجودِ زن سےہے تصویرِ کائنات میں رنگ ۔بد قسمتی سے ظہور اسلام سے قبل عورت معاشرہ کی مظلوم ترین مخلوق تھی۔ نہ عزت، نہ توقیر، نہ وراثت، نہ حفاظت۔ بیوہ کو خاوند کی وفات پر ساتھ ہی مار دیا جاتا ۔ بیٹی کو بوجھ تصور کیا جاتا

Read more

اصغر سودائی: ایک عظیم استاد کی باتیں

گذشتہ چند روز سے غالباً ملتان میں ہونے والے ایک انتہائی دلخراش اور افسوس ناک واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ جس میں چند نوجوان اپنے ہی کالج کے استاد پر تشدد کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ دکھ کا مقام یہ ہے کہ شاگرد اور استاد ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات بھی لگا رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات ہمارے معاشرہ میں سماجی افراتفری، اخلاقی قدروں کے فقدان،عدم برداشت اور اخلاقی

Read more

باپ کو بیٹا اور بیٹے کو ب فارم مل گیا

پاکستان میں شناختی کارڈ کار اجراء سال 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی حکومت کے دوران شروع ہوا۔ ہم نے بھی زمانہ طلب علمی میں بڑی ہیرو نما فوٹو کے ساتھ شناختی کارڈ بنوایا۔ قانون کے مطابق ہر پاکستانی جو اٹھارہ سال سے زائد عمر کا ہو اس کیلئے شناختی کارڈ بنوانا لازم ہے۔ 18 سال سے کم عمر لوگوں کیلئے رجسٹریشن آفس میں ب فارم تیار کیا جاتا ہے۔ آج کل یہ کام نادرا کر رہی ہے۔ سچی

Read more