کورونا اور اللہ کے ولی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کمربستہ نظر آرہی ہیں، اس جنگ میں سندھ حکومت کے اقدامات سب سے آگے دکھائی دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے پہلے عوام الناس کو پیکج دیا اور انہیں وائرس کے مہلک ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن اگلے روز جب عوام عام دنوں کی طرح سڑکوں پر نظر آئے تو پھر سڑک پر سرعام کان پکڑوا کر مرغا بنانے کا آغاز بھی سندھ حکومت نے ہی کیا۔ کالام میں بھی مرغا بنا کر عوام کو کورونا سے ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ابھی بھی کچھ ایسے لوگ سڑکوں پر دکھائی دیتے ہیں جو مرغا بنانے کے ساتھ ساتھ ”جوتا ٹھکائی“ کے بھی طلبگار ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بھی عوام کے لئے ایک ہزار ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا ہے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں 15 روپے فی لیٹر کم کرنے کا اعلان اگر چہ خوش آئند ہے لیکن اس وقت عوام یہ سستا پٹرول استعمال کرنے کے قابل نہیں ہے کیونکہ پٹرول ڈلوا کر نہ ننہال، نہ ددیال اور نہ ہی سسرال جایا جاسکتا ہے۔ اس لئے پٹرول سستا ہونے کے باوجود بھی استعمال میں نہیں آسکے گا۔ کورونا وائرس کے لئے اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ سب انسانی عقل کے مطابق ہیں۔ مثال کے طور پر شہریوں کو ایک دوسرے سے کم ملنے کی تلقین، ماسک پہننا اور ہاتھوں کو صابن سے باربار دھونا وغیرہ شامل ہے لیکن پوری دنیا ابھی تک مل کر یہ دوائی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائی جسے مریض کو پلایا جائے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس ہلاک اور مریض صحتیاب ہوکر گھر چلا جائے۔

دنیا کے 186 ممالک سے آنے والے نتائج بتا رہے ہیں کہ کورونا وائرس یاتو اپنے پہلے ہی شکار کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور خود اس کے ذریعے مزید پندرہ بیس لوگوں تک رسائی حاصل کرلیتا ہے اور اگر کورونا کا مریض اللہ تعالیٰ کے امر سے صحتیاب ہو بھی جائے تو اس کے باوجود وہ کئی صحت مند لوگوں کو بسترِ مرگ تک پہنچانے میں مددگار ہوچکا ہوتا ہے۔

کورونا کے زیادہ تر شکار ایسے مریض بتائے جارہے ہیں جو 60 سال کی عمر عبور کرچکے ہوتے ہیں کیونکہ ان میں قوت مدافعت کم ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس لئے کورونا اور پاکستان کا نظام دونوں جڑواں بھائی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ پاکستان کا نظام بھی ایسے شہریوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتا جو سیاسی اور معاشی لحاظ سے کمزور ہوں۔ ہمارا قانون ہر اس شہری کے لئے کورونا سے زیادہ خطرناک ہے جس میں اس سے لڑنے کے لئے قوت مدافعت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ البتہ کورونا میں یہ ایک خاص بات پائی گئی ہے کہ قوت مدافعت اگر کسی بڑے عہدیدار یا سیاسی طاقتور شخصیت میں دکھائی دی تو اس نے آگے بڑھکر اس پر حملہ کردیا اور اگر کسی غریب آدمی میں قوت مدافعت موجود تھی تو کورونا وائرس اس سے ”کنی کترا“ کر گزر جاتا ہے۔

بہرحال وفاقی دارالحکومت کو کورونا وائرس سے محفوظ بنانے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک بڑے بیوروکریٹ کا ساتھیوں کو مشورہ تھا کہ کوشش کرنا کورونا وائرس ایف سیکٹر کی پٹی میں داخل نہ ہوسکے اور اگر ایسا ہوگیا تو ہمارے پاؤں اکھڑ جائیں گے۔ البتہ مضافاتی علاقوں، بہارہ کہو، ترنول اور ترلائی وغیرہ میں کورونا کا لشکر نظر آبھی گیا تو سنبھال لیں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری اشرافیہ کی اب بھی خواہش ہے کہ کورونا کو کسی طرح سمجھا بجھا کر غریبوں کی بستیوں پر حملہ آور ہونے کے لئے آمادہ کیا جائے اور شہر کے مراعات یافتہ لوگوں کے دروازے تک اسے نہ جانے دیا جائے۔ مگر یہ اللہ کا نظام ہے اور وہی اس کو بہتر انداز میں چلا سکتا ہے۔ کورونا وائرس کو روکنے کے لئے حکومتوں کے انتظامات اپنی جگہ پر سہی ہیں لیکن یہ وائرس جس قدر مہلک ہے اسے کسی اللہ والے کی دعا ہی موڑ سکتی ہے۔

حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کے در پر جب ایک عورت آئی اور اس نے انصاف کے لئے چیخ وپکار کی تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے؟ تو اس عورت نے کہا کہ ہندو راجہ نے میرے بے قصور بیٹے کو پھانسی دی ہے اور آپ ہی مجھے انصاف دلا سکتے ہیں۔ کتاب ”اللہ کے ولی“ میں یہ واقعہ تحریر ہے اور حضرت معین الدین چشتیؒ نے بھرے مجمع میں اس پھانسی دیے گئے نوجوان سے سوال کیا کہ تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے؟ ، اللہ کی رضا سے وہ نوجوان بول اٹھا کہ ہاں میں بے قصور ہوں، اس پر مجمع پر ہیبت طاری ہوگئی اور وہ نوجوان اپنی والدہ کے ساتھ چلاگیا۔

درویشوں نے اپنے مرشد حضرت معین الدین چشتیؒ سے رات بھر اصرار کیا کہ یہ معجزہ آپ نے کیسے کر دکھایا تو نماز فجر کے بعد حضرت معین الدین چشتیؒ نے بہت خوبصورت جملہ کہا اور اپنے حجرے میں چلے گئے۔ آپؒ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ اور بندے کا اتنا تو تعلق ہونا چاہیے کہ بندہ درخواست کرے اور اللہ تعالیٰ اس کو قبول کرلے“۔

برصغیر پاک وہند اولیاء اللہ سے بھری پڑی ہے لیکن ہمارے کرتوت اللہ کی نافرمانیوں کی داستانیں سنا رہے ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اللہ، رسولﷺ اور اولیاء کے کسی سچے عاشق نے جب بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو گڑگڑا کر ہاتھ اٹھا دیے تو یہ مہلک مرض ہواؤں میں اڑ جائے گا۔ ڈینگی اور کورونا جیسے مہلک امراض کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہم سے سچی توبہ چاہتا ہے مگر نہ جانے ہم دیر کیوں کر رہے ہیں! ۔ ہر بندہ اللہ کا خاص بندہ ہے اس لئے اس وائرس کو ختم کرنے کے لئے توبہ کسی کی بھی قبول ہوسکتی ہے۔ اس لئے وائرس نے ہمیں ویسے بھی تنہا کردیا ہے اور حضرت علیؓ کا قول ہے کہ پاک وہ نہیں جس کی محفل پاک ہے پاک وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہے۔ آؤ اس تنہائی میں چپکے چپکے اپنے رب کو پکاریں تاکہ ساری مصیبتیں ٹل جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 80 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *