وبا کے دنوں میں سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر اُس روز فون پر امی کی آواز میں یہ پوچھتے ہوتے اتنی اُداسی نہ ہوتی کہ ”کیا اب تم کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان نہں آؤ گی؟ تو میں کبھی بھی کینیڈا سے پاکستان جانے کا ارادہ کم از کم اُس وقت نہ کرتی جب دنیا کو ایک مہلک وبا نے اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے۔

امی دسمبر 2019 میں شدید بیمار رہنے کے بعد اب تھوڑی تھوڑی صحت یاب ہورہی تھیں اورمیرا بہت شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ میں اُن سے ملنے پاکستان جاؤں۔
ملازمت سے چھٹی لے کر فلائیٹ بُک کرواتے ہی کرونا وائرس کی خبریں آنا شروع ہوگئیں اور میرے ارادے کمزور پڑنے لگے۔

ابھی میں ہاں اور نہیں کے بیچ میں فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ فون پرامی کی آواز میں بے پناہ اُداسی محسوس کرتے ہی فیصلہ کیا کہ بس اب جانا ہے تو جانا ہے اور جیسے ہی فیصلہ کیا سارے اچھے خیالات ذہن میں خود بخود آنے لگے جیسے کہ موت اور زندگی تو اللہ کے ہاتھ ہے، یا اگر وائرس سے متاثر ہونا قسمت میں لکھا ہے تو وہ کہیں بھی ہوسکتی ہوں پھر کینیڈا ہو یا پاکستان کیا فرق پڑتا ہے۔

میں نا صرف خود پاکستان گئی بللکہ اپنے تیرہ سالہ بیٹے دانیال کو بھی جو اس سے پہلے کبھی پاکستان نہیں گیا تھا ساتھ لے گئی۔

ٹورنٹوائیرپورٹ پر زیادہ تر لوگ تھوڑے خوف زدہ اورماسک پہنے ہوئے تھے۔ میں امی اوربہن بھائیوں سے ملنے کے خیال کو بار بار ذہن میں دُھرا کر اپنے دل میں پیدا ہونے والے خوف اور خدشوں کو جھٹک رہی تھی۔

فلائیٹ کافی حد تک خالی تھی اور ہمارا سفر کافی آرام دہ رہا۔ مگر کراچی ائیرپورٹ پر وائرس اسکرینگ کے دوران ایک انجانے خوف نے مجھے پھر سے اپنے گھیرے میں لے لیا۔

بہرحال جیسے ہی ائیرپورٹ سے گھر پہنچے اور امی سے ملاقات ہوئی تو وائرس کا خیال ہوا ہوگیا اور یاد رہا تو بس اتنا کہ امی کی بیماری نے اُنہیں نہ صرف بے پناہ کمزور کردیا ہے بللکہ ایک مستقل اُداسی نے اُن کے چہرے کی مُسکراہٹ کو پھیکا کردیا ہے۔

خاموش خاموش امی کو دیکھ کر دل ہی دل میں بہت تکلف ہورہی تھی۔ ماں باپ جب بوڑھے ہوجائیں تو بالکل چھوٹے بچوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ جیسے اگر بچوں کو ماں باپ کی توجہ نہ ملے تو وہ اپنی کسی حرکت سے یہ بتا دیتے ہیں کہ ہمیں آپ کی توجہ اور پیار کی ضرورت ہے اور پھر ماں باپ کی توجہ پاکر خوش اور مطمعین ہوجاتے ہیں امی کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہورہا تھا لہذا میں اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشیش کرنے لگی۔

ایک طرف تو وہ خوش تھیں کہ میں اور دانیال اُن کے پاس ہیں اور دوسری طرف پریشان بھی کہ ہم کہنیں کرونا وائرس سے متاثر نہ ہوجائیں۔ باوجود اس کے کہ میں پوری احتیاطی تدابیر کررہی تھی اور دانیال کواپنے ساتھ گھر سے باہر کہیں بھی نہیں لے جارہی تھی۔ امی میرے گھر سے بار بار باہر جانے پر تھوڑی ناراض سی تھیں۔

میں نے ان دو ہفتوں میں میں ہر روز گھر سے باہر نکلتے ہوئے بتدریج وائرس کا خوف لوگوں میں بڑھتے دیکھا۔ جیسے ہر سنجیدہ بات کا مذاق اُڑانا ہم پاکستانیوں کے لئے مشکل حالات سے نبٹنے کی ایک ترکیب ہے۔ اسی طرح میرے قیام کے پہلے ہفتے میں لوگ وائرس کا مذاق اُڑانے سے لے کر دوسرے ہفتے تک توبہ استخفار تک کا سفر طے کرچکے تھے۔

راشن کی دکانوں پر دن بدن رش بڑھ رہا تھا۔ اسکول تو پہلے سے ہی بند تھے اب دفاتر اور دکانیں بھی بند ہونے کے اعلانات ہورہے تھے۔ ھاتھ دھونے کے لئے رفاحی تنظیمیں لوگوں میں مفت صابن بانٹ رہیں تھیں اور صاحب حیثیت افراد مفت اناج اور پکے پکائے کھانے مفت تقسیم کرنے کی پیشکش کررہے تھے۔

یہ مناظر دیکھ کر ایک ہندوستانی گانا ”میرے ذہن میں مستقل گونج رہا تھا۔
اپنی چھتری تمکو دے دیں
کبھی جو برسے پانی
کبھی نئے پیکٹ میں بیچیں
تم کو چیز پُرانی

عجیب قوم ہیں ہم پاکستانی بھی۔ کرونا وائرس کے ابتدائی دنوں میں 20 روپے کا ماسک 100 روپے میں بیچنے والوں نے معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہوتے ہی اپنے دل کے دروازے دوسروں کے لئے ایسے کھولے کہ اشیائے خوردونوش فری بانٹنا شروع کردیں۔

ایک طرف تو وفاقی انتظامیہ موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دُنیا سے امداد کی بھیک و قرضوں سے معافی مانگ رہی ہے اورمولوی حضرات حسب معمول کرونا وائرس کو مغربی دُنیا پر اللہ کا عذاب ثابت کرتے ہوئے نا صرف سوشل میڈیا اور ٹی وی پر لوگوں کو دُعاؤں اور وظیفوں سے وائرس سے بچاؤ کے لئے تدابیر بتا رہے ہیں بللکہ عورتوں کی آزادی اور بے حیائی کو اس کا مرتکب بھی ٹھہرارہے ہیں۔

دوسری طرف سمجھدار لوگ سب کچھ سُنی ان سُنی کرکے اپنی مدد آپ کے تحت ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں۔

اس برادری اور بھائی چارے کی روح کو دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا اور ایک بار پھر میرا ایمان اس بات پر اور مستحکم ہوگیا کہ ناگہانی آفات اور مشکلات چاہے ہماری زندگی میں انفرادی سطح پر آئیں یا اجتماعی، ہمیں کچھ نیا سکھانے اور غلط رویے سُدھارنے کے لئے آتی ہیں۔

زمین پر انسان بے تحاشا آبادی بڑھا کر اور تعفن پھیلا کر جو ظلم کررہا ہے۔ زمین اُس پر اپنا ردعمل ظاہر کررہی ہے۔ اب دُنیا کو نجی اورعالمی سطح پر آلودگی سے پاک کرنا ہوگا اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی لانا ہوگی۔

کیونکہ گھر میں اب ٹی وی اور موبائل فون پر خود بڑوں کا قبضہ تھا۔ لہذا گھر کے سارے بچے اب موبائل اور ٹی وی کا خیال چھوڑ کر لوڈو، کیرم بورڈ، کرکٹ، چُھپن چُھپائی کھیل رہے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں ہار جیت پر لڑائی اور ناراضگی بھی ہورہی تھی۔

اس دوران جب شور حد سے بڑھ جاتا تھا تو بڑے ڈانٹ کر اُنہیں بٹھا دیتے تھے اور میں موقعے کا فائدہ اُٹھا کر بچوں کے لئے جو کہانیوں کی کتابیں کینیڈا سے اپنے ساتھ لے گئی تھی پکڑا دیتی تھی۔ اس طرح میرے بیٹے دانیال کو اپنے کزنز کے ساتھ دوستی کرنے اور بہن بھائیوں کا پیار کیا ہوتا ہے سیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔

دانیال کو اپنے دا دھیال اور ننھیال میں سب ہی بڑوں چھوٹوں سے بہت پیار مل رہا تھا اور یہ دیکھ کر میرا سیروں خون بڑھ رہا تھا۔ مگرساتھ ساتھ کنیڈین آئیر پورٹس بند ہونے، فلاٹیس کینسل ہونے کی خبریں سُن سُن کر دل ڈوب بھی رہا تھا۔

جس روز میری فلائٹ تھی امی کو یوں چھوڑ کر جانے سے ایک طرف تو دل بہت اُداس تھا مگر ساتھ ہی اپنے گھر پہنچنے کی خوشی بھی تھی۔ فلائیٹ پر واپس کینیڈا لوٹ جانے والوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہہ سے بہت رش تھا اور سفر بہت تکلیف دہ تھا۔

تین دن پہلے میں اور دانیال واپس ٹورنٹو پہنچ گئے ہیں۔ کینیڈین حکومت کی ہدایات کے مطابق 14 دن گھر میں رہ کر دوسروں سے ملنے جُھلنے سے پرہیز کرنا ہے تاکہ آگر ہم کرونا سے متاثر ہوئے ہوں تو دوسروں کو اُس سے بچا سکیں۔ ہم سختی سے حکومتی ہدایات پر عمل کررہے ہیں اور بہت پُرامید ہیں کے سائنسدان جلد ہی کرونا وائرس کا کچھ توڑ نکال لیں گے۔

میں خوش ہوں کہ میں نے نا چاہتے ہوئے بھی زندگی کو ایک بار پھر اُسکے تمام خطروں سمیت بہت قریب سے محسوس کرلیا اور اس کے بھرپور رنگوں کو اپنے پور پور میں محسوس کرلیا ہے۔ اور اب میں اپنے پیاروں کی محبت کو اپنی روح میں بھر کرکچھ دن اور خوشی خوشی پردیس کا بن باس کاٹ پاؤں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *