لمحوں میں بدلتی ہوئی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کا موسم بہت خوشگوار ہے۔ زندگی ہنستی اور گنگناتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ حسب معمول صبح صبح اٹھتے ہیں۔ بچے سکول جانے کی تیاری کر رہے ہیں، میرے والد صاحب تیار ہو کر ناشتہ کی میز پر آ چکے ہیں۔ میرے والد صاحب پچھلے چار سال سے ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کی یہ عادت ہے کہ صبح صبح ناشتہ ہمارے ساتھ ہی کر لیتے ہیں۔ میری بیگم کچن میں ناشتہ تیار کر رہی ہے۔ میرے دونوں بیٹے تیار ہو کر ناشتے پر آ چکے ہیں اور اپنی والدہ کے ساتھ ناشتہ کی میز پر چیزوں کو رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ میرا بڑا بیٹا آٹھویں کلاس میں اور چھوٹا بیٹا پانچویں کلاس میں پڑھتا ہے۔ الحمدللہ خوشحال اور رعناؤں سے بھرپور زندگی گزر رہی ہے۔

صبح آٹھ بجے ہم لوگ گھر سے نکلے ہیں۔ میں گورنمنٹ کالج میں پڑھاتا ہوں ہو جبکہ میرے بیگم بھی گورنمنٹ کالج میں پروفیسر ہے۔ بچوں کو ان کے اسکول اور بیگم کو کالج چھوڑنے بعد اپنے کالج پہنچ جاتا ہوں۔ سڑکوں پر چہل پہل ہے اور زندگی سے بھرپور لوگ اپنے اپنے کام کی طرف رواں دواں ہیں۔ میٹرک کے امتحانات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بچوں اور ان کے والدین کا بہت رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ بچے مستقبل میں کامیابی کے خواب سجائے امتحانات میں مصروف ہیں جبکہ والدین اپنے بچوں کے خوشحال مستقبل کے لئے دعا گو ہیں۔

ملتان شہر میں پی ایس ایل میچ ہو رہا ہے جس میں پوری دنیا سے مختلف ٹیمیں آئی ہوئے

ہوئی ہیں۔ بچے امتحانات کی پریشانی اور پی ایس ایل کرکٹ میچ کی خوشی کو ساتھ ساتھ انجوائے کر رہے ہیں۔ ملتان ہمیشہ سے امن کا شہر رہا ہے اور اولیاء کرام کے سرزمین گردانا جاتا ہے۔ میں بھی بچوں اور بیگم کو اسکول کالج چھوڑنے کے بعد قلعہ کہنہ قاسم باغ سے ہوتا ہوا اپنے گورنمنٹ کالج پہنچ جاتا ہوں۔

13 مارچ 2020

جمعۃ المبارک کا دن ہے ہم کالج سے واپسی کے بعد گھر پہنچ کر والد صاحب کو لے کر نماز جمعہ کے لیے یے سوسائٹی کی جامع مسجد میں جاتے ہیں۔ باہر گاڑیوں کا رش تھوڑا کم ہے اور میرے بیٹا جس نے کرونا کی افواہ میڈیا سے سن رکھی ہوتی ہے کہتا ہے کہ پاپا لگتا ہے کرونا کی وجہ سے لوگ جمعہ پڑھنے نہیں آئے۔ میں اور میرے والد صاحب ہنس دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہیں بیٹا ایسا نہیں ہو سکتا۔ بیماریاں آتی رہتی ہیں لیکن عبادات نہیں رکتیں۔ شام کے وقت مختلف ذرائع سے خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں ہیں کہ تعلیمی ادارے تھے پانچ مئی 2020 تک بند کر دیے گئے ہیں۔ چائنا اور اٹلی کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔

26 مارچ 2020

مگر اس وقت حالات پوری دنیا میں بہت ہی عجیب ہیں۔ زندگی میں اپنے کسی قریبی عزیز کی موت کا دکھ سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ انسان ساری زندگی اپنے قریبی فوت شدہ عزیزوں کو یاد کرتا رہتا ہے۔ ان سے پیار کا اظہار کرتا ہے ان سے جڑی ہوئی حسین یادوں کو ہمیشہ یاد کرتا رہتا ہے۔ موت سے انسان خوف اس لیے کھاتا ہے کیونکہ موت انسان سے اس کے پیاروں کو چھین لیتی ہے اِن کو جدا کر دیتی ہے۔ موت کے بعد انسان اپنے پیاروں کو اپنے رسومات کے مطابق محبت، عقیدت اور دکھ کے ساتھ اس دنیا سے رخصت کرتے ہیں۔ مگر موجودہ دنیا کے حالات ایسے ہیں انسان انسان سے خوفزدہ ہے۔ موجودہ حالات ایسے ہیں کہ انسان جنازہ میں جاتے ہوئے ڈر رہا ہے۔ ان دنوں میں جنازہ ہوئے ہیں چند لوگوں نے شرکت کی ہے۔ انسان کی زندگی انسان سے بچنے میں ہی ہے۔

پوری دنیا میں، ملکوں میں، شہروں میں اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی انسان انسان سے دور ہوکر سہما بیٹھا ہے۔ انسان کو انسان سے خوف آرہا ہے۔ یہاں تک کہ حالات اس قدر عجیب ہیں انسان اپنے پیاروں کی موت کی رسومات میں بھی شریک نہیں ہوسکتا۔ یوں لگتا ہے جیسے موت باہر دندناتی پھر رہی ہے ہے۔ انسان کی زندگی صرف اس وقت تک محفوظ ہے جب تک وہ تمام انسانوں سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھا ہے۔ جیسے ہی وہ انسانوں میں آئے گا موت ایک دم سے اسے اس جہاں سے لے اْڑے گی۔

جیسے ہی گھر میں کسی ایک فرد کو چھینک آتی ہے ہر آدمی فورم اپنا اپنا ماسک سنبھالتا ہے، فوراً سینیٹائزر استعمال کرتا ہے یا پھر ہاتھ دھونے کے لئے باتھ روم کی طرف دوڑتا ہے۔ ایسا منظر ہے کہ جیسے ریلوے اسٹیشن پر انسان اپنا اپنا سامان پیک کرکے گاڑی کے انتظار میں بیٹھا ہے، جیسے ہی گاڑی آئے گی وہ اس میں سوار ہوکر اپنی اگلی منزل کی طرف چلا جائے گا گا اور اس کی یہ اگلی منزل موت کی وادی ہے۔ جو انسان ایک دوسرے کو دیکھنے اور چْھونے کے لیے ترستے تھے اب ایک دوسرے سے چْھپ کر بیٹھے ہیں۔ اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے آپس میں بھی ملنے اور چْھونے سے کترا رہے ہیں۔ یہ خوف ہے یا احتیاط کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

گورنمنٹ نے بھی ایک دوسرے کو ایک میٹر سے دور رہ کر بات کرنے کی احتیاطی تدبیر جاری کردی ہیں۔ انتظامی ادارے لوگوں کے اجتماعات، گروہوں اور عوامی مقامات پر ان کے اکٹھا ہونے کو ناممکن بنانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔

میڈیکل کے شعبہ سے منسلک لوگ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ مارکیٹ میں سینیٹائزر اور ماسک مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

کچھ لوگوں نے اس مشکل گھڑی میں بھی اپنے غلط رویوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اِن لوگوں نے ضرورت کی چند چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور کچھ چیزوں کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

گورنمنٹ اشیائے ضرورت کی چیزوں کو مارکیٹ میں فراہمی کی یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔

اس وقت پوری دنیا پر ایک امتحان کا وقت ہے۔

انسانیت دکھانے کا وقت ہے۔ چند لوگ مذہب کو بنیاد بنا کر شدت پسندی کا مظاہرہ کرنے کا موڈ میں ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے لہذا آپ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بات ان لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ موجودہ وبائی مرض میں صرف ایک شخص کی موت نہیں ہوگی بلکہ یہ اموات سینکڑوں سے ہزاروں تک خدانخواستہ جاسکتی ہیں۔ دوسرے کاروباری حضرات کے طرح ان لوگوں کو بھی شاید اپنے کاروبار ڈوبتے نظر آرہے ہیں۔

جبکہ دنیا بھر کے علمائے کرام نے فتٰوی جات جاری کر دیے ہیں کہ ان حالات میں آپ مذہبی اجتماعات نہیں کرسکتے اور گھر پر رہ کر اپنے مذہبی فرائض، سنت اور عبادات کر سکتے ہیں۔

ایک اچھی قوم اور اْمت ہونے کے ناتے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومتِ وقت اور علماء کرام کی باتوں پر عمل کریں اور اِن چند شر پسند عناصر کی گمراہ کن باتوں سے دور رہیں۔ ان حالات میں نیکی یہی ہے کہ ذخیراندوزی سے پرہیز کریں، غرباء اور کم آمدنی والے لوگوں کا خیال کریں۔

آپ کو کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے صرف وہ لوگ جو آپ کے زندگی سے متعلقہ ہیں مثلا آپ کے گھریلو یا ادارے کے ملازمین یا جاننے والے لوگ لوگ جن کا ان حالات میں روزگار متاثر ہوا ہے ان کا خیال رکھیں۔

ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کا بڑھانا اس وقت ایک ایسی لعنت ہے جس کا نقصان کورونا وائرس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس آفت اور وبا کے دنوں میں میں مِل جٔل کر اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے رہیں کیونکہ اس عبادات کر ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت زیادہ اہم ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ اگر ہماری قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گورنمنٹ کی ہدایات پر عمل کیا تو بہت جلد ہم اس مصیبت سے نکل جائیں گے اور پھر سے اپنی خوش و خرم اور بھرپور زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply