فیض صاحب : بیسویں صدی کے ملامتی صوفی


\"revolutionary-poet-faiz-ahmed-faiz\"فیض صاحب بے پایاں خلوص اور محبت کے آدمی ہیں بغض و عناد اور کہنے سے نا آشنا ۔ افسانہ نگار اشفاق احمد نے ایک بار ان کو ملامتی صوفی کا لقب دیا تھا۔ ساری عمر جس قدر گالیاں فیض صاحب کو دی گی ہیں جتنا ان کو بدنام کیا گیا ہے اور جس طرح انہوں نے اس لعنت و ملامت کا کبھی جواب نہیں دیا اس کی بنا پر ان کو یقینا ایک صوفی سلسلے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

فیض صاحب کو خوب معلوم ہے کہ جو لوگ ان کے قدموں میں بیٹھنے کے لئے پیش پیش رہتے ہیں وہی ان کی عدم موجودگی میں ان کے لئے کمینی اور گھٹیا باتیں کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب نے لندن میں مجھ سے فرمایا کہ فیض بحیثیت شاعر گھٹتا چاند ہیں اب ان کے پاس کچھ کہنے کو نہیں رہا اور جو کہہ رہے ہیں بری طرح کہہ رہے ہیں چند روز بعد ہی میں نے ان صاحب کو خوشامدانہ عجز کے ساتھ فیض صاحب کے قدموں میں بیٹھے دیکھا اس شام بی بی سی کی ایک خوشگوار محفل میں میں نے فیض صاحب سے اس شخص کی منافقت کا ذکر کیا مسکرا کر بولے ” پریشان مت ہوﺅ اس قسم کی باتیں میں پچھلے چالیس سال سے سن رہا ہوں ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

”لیکن آپ کو پتہ ہے ایسے لوگ کس قدر ریاکار اور منافق ہیں۔؟ میں نے دہرایا چونکہ فیض کسی کو برا نہیں کہتے نہ غیبت میں شامل ہوتا ہیں اس لئے مسکرا کر خاموش رہے فیض صاحب کی بے پناہ قوت برداشت کا مظاہرہ بھی لندن میں ہوتا رہتا ہے۔ ایک صاحب ہیں جو متواتر بے تکان بولتے ہیں اور ہر موضوع پر بولتے ہیں جو بات ان \"maxresdefault\"کے ذہن میں آجائے اس پر لامتناہی تقریر شروع کر دیں گے ۔ سوویٹ فارن پالیسی انگلستان کا بیہودہ موسم، تازہ ترین کامیڈیNo Sex please. We are British کوئی بھی موضوع ہو انہیں بولنے سے غرض۔ ایک روز بی بی سی کلب میں انہوں نے فیض صاحب کو پکڑ لیا۔ دو گھنٹے تک فیض صاحب نے نہایت صبرو استقلال کے ساتھ انہیں جھیلا۔ اسی طرح لندن میں اردو کے متشاعروں سے بھی ان کا پالا پڑتا ہے ایک متشاعر نے اپنے مجموعہ کلام (جو اپنے خرچ سے لندن میں چھپوایا تھا) کے جشن اجراء کی متعدد تقریبیں منعقد کیں۔ یہ حضرت فیض صاحب پر بھی کرم کرتے ہیں اور فیض صاحب نہایت صبر اور سکون اور حیرت انگیز اخلاق کے ساتھ ان کا کلام بلاغت نظام سنتے رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS