کیچ سے رخصتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیچ میں قیام کا یہ ہمارا آخری دن تھا۔ کرونا وائرس کی دھوم نے کیچ کے تعلیمی اداروں کو تالے لگا دیے تھے۔ اداروں کے اندر صرف انتظامی امور سنبھالنے والوں کا حلیہ نظر آیا۔ مالک دور حکومت کیچ کو یونیورسٹی کا بنیاد فراہم کر گیا۔ یونیورسٹی کیمپس سے اس کا سفر اب ایک مکمل یونیورسٹی کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ یونیورسٹی کے اندر اس وقت 13 شعبے ہیں۔ آغاز کمپیوٹر سائنس، منیجمنٹ سائنس اور کامرس سے کیا گیا۔ 2013 ء کو مزید چار شعبوں انگلش، بلوچی، پولیٹیکل سائنس، اکنامکس کا قیام عمل میں لایا گیا۔

بعد میں کیمسٹری، ایجوکیشن، لا ء اور سائنسی مضامین باٹنی، بائیو کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی شامل کیے گئے۔ گوادر اور پنجگور کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی سے ملحقہ زمین پر تربت میڈیکل کالج اور ایلیمنٹری کالج کے ڈھانچے بھی زیر تعمیر ہیں جو آنے والے وقتوں میں کیچ کے شعبہ تعلیم میں مزید بہتری لانے کے لیے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تعمیرات کے اس سلسلے میں پلاننگ کا بڑا ہی عمل دخل شامل ہے۔ کیساک سے لے کر تربت یونیورسٹی اور اس سے آگے سڑکوں پر لگے اسکیمات کے بل بورڈ یقین دلا رہے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں کیچ کی پہاڑیاں بھی محفوظ نہیں رہ پائیں گی۔

یونیورسٹی کے اندر جب ہم داخل ہوئے تو خاموشی یونیورسٹی کے چاروں اطراف سراپا احتجاج تھا۔ ایڈمن بلاک کے سامنے چند گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔ گنگزار بلوچ ڈپٹی رجسٹرار یونیورسٹی ہیں۔ ان سے ملنے ہم اوپری بلاک کی جانب قدم بڑھاتے چلے گئے۔ یونیورسٹی ان دنوں میرٹ کی پامالی کے حوالے سے خبروں میں رہتی ہے۔ یہی سوال میں نے ڈین فیکلٹی آف لاء ڈاکٹر گل حسن کے سامنے رکھا جو ہمیں گنگزار بلوچ کے آفس میں جوائن کر چکا تھا۔

طویل گفتگو کے بعد ہم اس گفتگو کو یہاں شیئر کرنے سے قاصر ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے گفتگو کو آف دی ریکارڈ قرار دے کر ہمیں اسے زیر تحریر لانے سے قاصر کیا۔ ڈگری کالج آواران کا الحاق سامنے آیا۔ تو مشورہ یہ سامنے آئی کہ بجائے ڈگری کالج کے الحاق کے یونیورسٹی کے کیمپس کے حوالے سے کوششیں کی جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اب خدا جانے آواران کے مقتدر حلقوں کو یہ بات ہضم ہو پائے گی کہ نہیں۔ جو شعور و آگاہی سے ڈرتے ہیں۔

ہم یونیورسٹی کے احاطے کے اندر ٹہل رہے تھے کہ تنویر ودار (کنٹرولر آف ایگزامینیشن تربت یونیورسٹی) نظر آئے۔ گئے دنوں میں جب وہ ایس پی او کے ساتھ وابستہ تھے تو بسا اوقات آواران کا چکر لگایا کرتے تھے۔ دورانِ گفتگو ماضی کے اوراق پلٹتے گئے۔ کس طرح کیچ سے پنجگور، پنجگور سے آواران کا سفر وہ طے کیا کرتے تھے۔ اب توایک زمانہ گزر گیا آواران کے دیدار کو۔ رشتہ دار آواران میں بستے ہیں مگر آنے جانے کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔ بنیادی وجہ سڑکوں کی خستہ حالی قرار پایا اس بات پر اتفاق ہوا کہ سڑکوں کی بحالی سے آواران اورمکران کے تعلقات دوبارہ بحال ہوسکتے ہیں جس کا فائدہ نہ صرف دونوں اضلاع کو ہوگا بلکہ باقی اضلاع بھی جڑت پائیں گے۔

ایک زمانہ وہ تھا جب آواران مکران کے لیے بطور گزارگاہ کام آتا تھا۔ کراچی کوئٹہ جانے کے لیے یہاں کا باشندہ اسی روٹ کو استعمال میں لے آیا کرتا تھا۔ دوسری جانب کاروباری ذرائع کے لیے پنجگور کو آواران سے ملانے کے لیے دراسکی روٹ آباد ہوا کرتا تھا۔ شب کے کسی پہر بھی آواران مکران روٹ خالی نہیں ہوا کرتا تھا۔ ہوٹلز آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ روٹ وقت کے ہاتھوں بندش کا شکار ہو گیا۔ مضبوط رشتوں کا شیرازہ جب بکھر جاتا ہے تو اس پر نوحہ کنان ہونا پڑتا ہے۔ مگر زمینی بندھنوں کے ٹوٹنے کا احساس نہ ہی آواران والوں کو ہوا اور نہ ہی مکران والوں نے اس صورتحال کو محسوس کیا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

وہ آواران جو کسی زمانے میں جب ”کولواہ“ ہوا کرتا تھا تو اس کا تاریخی رشتہ مکران کے ساتھ استوار تھا۔ پنجگور اور کولواہ ایک ہی حلقہ ہوا کرتا تھا اسی حلقے کی نشست پر آخری بار نیپ ممبر عبدالکریم منتخب ہوئے۔ نیپ حکومت خاتمے کے بعد جب حکومت کی بھاگ دوڑ جام کے ہاتھ میں آئی تو نیپ کا انتقام اس نے کولواہ کی مکران سے علیحدگی کی صورت میں کرکے لے لیا۔ مگر پانچ دہائی پار کرنے کے باوجود آواران جھالاوان کے ساتھ اپنا رشتہ استوار نہ کرپایا اور نہ ہی اجنبی پن ختم کر پایا ہے۔

زبان، بود و باش، رشتے ناتے سب حوالوں سے کولواہ کا تاریخ اب بھی مکران سے جڑا ہوا ہے۔ دوسرا وار اس کی نام کو تبدیل کرکے لیا گیا 1991 کو جب اسے ضلع کا درجہ دیا گیا تو کولواہ کا تاریخی نام ہٹا کر اسے فقط دو ندیوں کے ملاپ کی وجہ سے آواران کر دیا گیا۔ ڈاکخانہ کولواہ اور قاضی کولواہ اس بابت سابقہ نام کی گواہی دینے کے لیے اب بھی کافی ہیں۔

آبسر کیچ میں واقع علاقہ آج بھی کولواہی بازار کے نام سے مشہور ہے۔ ذریعہ معاش کا حصول ہو یا مسکن کی تلاش کیچ کی سرزمین نے کولواہ کی اس افرادی قوت کو اپنے اندر سمو لیا۔ یہ لوگ کولواہ سے نقل مکانی کرکے یہاں آگئے اور آباد ہوگئے۔ ہماری کوشش تھی کہ یہاں کے مکینوں کے ساتھ وقت بتا کر ان سے حال حوال کیا جاتا مگر وقت کی قلت یہاں بھی آڑے آئی۔ اور ہم ان سے مل نہیں پائے۔ ہماری خواہش تھی کہ ڈیلٹا سکول کو دیکھ پاتے مراد اسماعیل سے مل پاتے مگر وقت کی قلت نے اسے بھی ناممکن بنا دیا۔ البتہ بلوچستان اکیڈمی ضرور دیکھ پایا مگرصدر دروازے پر لگا بھاری بھرکم تالا ہمیں اندرونی حصے کے مشاہدے سے محروم کر پایا۔

اگلے روز جب ہم کیچ کو الوداع کہہ کر کراچی کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو کیچ میرے لیے مانند محبوبہ بن چکا تھا اور میں اپنا دل وہیں چھوڑ آیا تھا۔ کیچ سے کراچی تک کا سفر طے کرتے ہوئے سڑک کے آر پار ہمیں آبادی بہت ہی کم نظر آئی۔ جبکہ کیچ سے آواران تک ایک بہت بڑی آبادی جو شہرک، شاپک، سامی، کلگ، ہیرونک، تجابان، ہوشاب، کیچی تنک، آشال، بیدرنگ، ڈنڈار، ہور، گیشکور، مالار، بزداد، تیرتیج، سگک بلور، شاپکور، مچی، شندی، گشانگ، کنیچی، مرہ میں آباد ہے اس روٹ کے روٹھ جانے سے معاشی اور سماجی بحرانوں کی زد میں آیا۔ جس کا نقصان نہ صرف اہلِ آواران کو ہوا بلکہ وہ علاقے جو کیچ کی ایریا میں شامل ہیں تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر تکلیف کا یہ منظر مکران اور آواران کے موجودہ سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہے۔

بنتے رشتے کس طرح ٹوٹ جاتے ہیں۔ خیالات و سوالات ذہن کو اپنی آماجگاہ بنا چکا تھا۔ نور خان بزنجو کا آواز کانوں میں پڑتا ہوا سنائی دے رہا تھا۔ اور ہم پسنی کو کراس کر چکے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *