سہج پکا سو میٹھا ہے
قصورہمیشہ سے میری محبتوں کا مرکز رہا ہے، ہمیشہ مجھے اس شہر سے ٹھنڈی ہوائیں ہی ملی ہیں اور جب کبھی دنیا داری کے جھمیلوں سے اکتایا تو سیدھا قصور کا رخ کیا جہاں مہر شوکت علی جیسی درویش صفت، پروفیسر غلام محی الدین جیسی زیرک و دانا، اقبال خان منج جیسی مرنجاں مرنج شخصیات کے ساتھ مجلس آرائی کی تو سارے حزن و ملال جاتے رہے، دوست اللہ کا انعام ہوتے ہیں، میں ہمیشہ سے اس معاملے میں اغنیاء کے طبقے میں شامل ہوں کہ مجھے مخلص اور شاندار دوستوں کا ہردور میں بکثرت ساتھ رہا ہے، ویسے میرے خیال میں دوست کے ساتھ مخلص، گہرا، اچھا اور سچا جیسے کسی سابقے لاحقے یا صفت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دوست ہوتا ہی وہی ہے جو سچا بھی ہو، مخلص بھی ہو پیارا بھی ہو۔
شہر قصور میرے لیے شہردوستاں ہیں، اگر میں اپنے تمام دوستوں جو قصور سے تعلق رکھتے ہیں ان کا تذکرہ شروع کردوں تو ایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہوگی، لیکن میں نے اپنے کالم کو اپنے ایکسخن وردوست کے نام کرنے کا سوچا ہے، اس دوست کا نام ہے محمد لطیف اشعر، پیشے کے اعتبار سے معلم ہے اور قومی زبان، اردو کی تدریسی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں، قصور کے مایہ ناز تعلیمی ادارے گورنمنٹ اسلامیہ کالج، قصور میں تعینات ہیں، حلقہ ارباب ادب قصور کے نام سے انہوں نے ایک ادبی و سماجی پلیٹ فارم شروع کررکھا ہے، جو ہرماہ باقاعدگی سے ایک علمی، ادبی اور سماجی مجلس برپاکرتا ہے، ہر تقریب میں کسی دانشور، شاعر، لکھاری کے ساتھ نشست رکھی جاتی ہے، جس میں اسے سنا بھی جاتا ہے اور اس کے کام کے حوالے سے بات بھی ہوتی ہے۔ لطیف اشعر یہ سب کچھ اپنے وسائل اور بل بوتے پر کرتے چلے آرہے ہیں۔
محمد لطیف اشعر موجودہ جگہ تعینات ہونے سے پہلے بابا فرید کے پاکپتن کالج میں پڑھارہے تھے، وہاں پر ان کی ملاقات ایک اور اہل دل پروفیسر نوید عاجز ہوئی، پروفیسر نوید عاجز نے ادب قبیلہ پاکپتن کے نام سے ایک ادبی پلیٹ فارم قائم کررکھا ہے، انہوں نے ایک اچھی روایت یہ قائم کی ہے کہ تمام ممبران نے کچھ مخصوص رقم مختص کرکے باہمی فنڈ قائم کررکھا ہے جو مروجہ کمیٹی سسٹم سے ملتا جلتا ہے لیکن ان کی شرائط یہ ہے کہ جس بھی ممبر کی کمیٹی نکلے گی، اس رقم سے وہ اپنی کتاب شائع کرنے کا پابند ہوگا، یوں سب ممبران صاحب کتاب ہوتے جاتے ہیں، اس تنظیم کی سرپرستی شریف ساجد جیسے استاد شاعر اور دانشور کررہے ہیں، یوں وہی بندہ ہی ممبر بننے کا اہل ہوتا ہے جو واقعی صاحب کتاب کے ٹائٹل کا حقدار ہوتا ہے۔
جب محمد لطیف اشعر پاکپتن سے قصور آگئے ان کی کمیٹی چلتی رہی، ان کو پتہ تھا کہ اب کتاب ہی شائع کرنی ہوگی چنانچہ انہوں نے ایک مشکل کام کا بیڑا اٹھا یا اور سرزمین قصور سے تعلق رکھنے والے اردو شعراء کا تذکرہ شائع کرنے کا سوچا اور اس کام میں عملی طور پر جت گئے، مرزا غالب تو شعروں کے انتخاب میں رسوا ہوگئے لیکن اشعر شعراء کرام کا انتخاب کرکے اور بھی معتبر ہوگئے۔ قصور جو کہ صدیوں سے ایک مردم خیز شہر کی پہچان رکھتا ہے، پنجابی زبان کے شکسپئیر پیر وارث شاہ جنہوں نے ہیروارث شاہ کی شکل میں اس وقت کے پنجاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ اور امرکردیا، ان کی تصنیف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خدانخواستہ اگر پورا پنجاب مٹ بھی جائے تو وارث شاہ کی تصنیف کو مدنظر رکھ سارا پنجاب دوبارہ بنایا جاسکتا ہے، انہوں نے تصوف، ادب، فلسفہ اور دوسری مروجہ تعلیم حافظ غلام مرتضی ٰ المعروف مخدوم قصوری سے حاصل کی، حالاں کہ قصور کو ہمیشہ بابا بلھے شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن بابا وارث شاہ کے گیان کے پیچھے بھی قصور کا ہی فیض کارفرما ہے۔
اشعر صاحب چونکہ میرے دوست ہیں اور میں ان کے رازوں کا محرم ہوں اس لیے جانتا ہوں کہ ان کی کتاب ”سخن وران قصور“ کس قدر محنت و مشقت کے بعد منظر عام پر آئی ہے، بعض شعراء نے شاعری کے نام پر تک بندی کررکھی تھی، کچھ نابغوں نے ایک آدھ بے وزن غزل لکھنے کا سنہرا کارنامہ سرانجام دے رکھا تھا، کچھ نے بڑے معتبر شعراء کرام کے شاگرد اطہر ہونے کا دعویٰ کررکھا تھا لیکن جب ان کا کلام حاصل کیا گیا تو وہ محض شاگرد ناہنجار کے مرتبے پر ہی فائز نظر آئے، کچھ ایسے شعرا جو دنیا سے منہ موڑ چکے تھے ان کے ورثاء نے کلام کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام کیا، اس کے پیچھے یہ وجہ تھی کہ قصور میں ایسی وارداتوں کا ریکارڈ موجود تھا کہ شعراء سے کلام لے لیا گیا، اس کے بعد وہ کسی مجموعہ میں چھپ بھی گیا لیکن چھاپنے والے وارثان سے اس کا عوضانہ طلب کرتے نظر آئے، بعض صورتوں میں کلام کے خالق کے طور پر نئے نام درج کردیے گئے، بعض شعراء کرام جو زندہ تھے لیکن ان کا طرزعمل اور ردعمل فوت شدگان والا ہی رہا یعنی ان کو پکارنے کا کوئی جواب نہ آیا۔
یہ ساری جدوجہد کوئی دوسال جاری رہی بعض مواقع پر تو لطیف اشعر نے تذکرہ چھاپنے سے تائب ہونے کا سوچا، بعض دفعہ خود کو اور دوسرے متعلقین کو کوسنے بھی دیے لیکن چونکہ ان کی نیت سچی تھی، اللہ نے ان سے کام لینا تھا سو سہج پکا لیکن میٹھا رہا۔ لہذا اس میٹھے پکوان یعنی ”سخن وران قصور“ کی گزشتہ ہفتے پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی منعقدہ ہر حوالے سے بھرپور تقریب پذیرائی میں ڈاکٹر صغریٰ صدف، علی اصغر عباس، ڈاکٹر اختر حسین عزمی، اقبال خان منج جیسی نابغہ روزگار شخصیات کے تاثرات سے یہ بات اظہر من الشمس عیاں ہوگئی کہ لطیف اشعر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے۔
سخن وران قصور ایک اہم دستاویز اور زندہ کتاب ہے، جس پر آنے والی نسلیں نہ صرف فخر کریں گی بلکہ اس کے تحقیقی رستے پر چل کر علم و ادب کے کئی نئے ابواب تک رسائی پاسکیں گی، یہ کتاب معاشرے کے چنیدہ پھول جیسے لوگوں کی فہم و فکر کا عطر اور پروفیسر محمد لطیف اشعر کی تحقیقی کاوشوں اور زرخیز ذہن کی مہک ہے جو انہوں نے صفحات کی شیشی میں محفوظ کردیا ہے، گھٹن جب سانس روکنے کے درپے ہوجائے، خوف کی پرچھائیاں جب شادمانی کے منظر کو ڈھانپ رہی ہوں، حرص، ہوس اور بداعمالیوں کا تعفن فضاء مکدرکرنے پر تلا ہو تو آپ اس عطر کو استعمال کرنا شروع کردیں، آزمودہ نسخہ ہے، خوف کی جگہ جرات، بے ہمتی کی جگہ جرات اور عزم، حزن کی جگہ نشاط و شادمانی، تعفن کی جگہ مشکبو و معطر پن پائیں گے، کیونکہ اس میں حکمت ودانائی کی باتیں درج کی گئیں اور حکمت کبھی نفرت، خوف، تعفن یا غم پیدا نہیں کیا کرتی۔ آخر میں جناب لطیف اشعر کے چند اشعار سے حظ اٹھائیے۔
ادھر صدقہ اتارا جارہا ہے
ادھر نفرت سے مارا جارہا ہے
میں ہوں منصور یا پھر کوئی سرمد
سرمقتل پکارا جارہا ہے
ہمارے حال پر بس اک نظر سے
بتاؤ کیا تمہارا جارہا ہے
حیات چندروزہ کا ترے بن
سفر بے کارسارا جارہا ہے
وہ ہاتھوں کو دبائے جارہا ہے
کہاں سمجھا اشارہ جارہا ہے
یہاں اشعر برابر ڈوبتا ہی
مقدر کا ستارہ جارہے


