پاکستانیوں کے مغالطے صاحب طرز و فکر کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔ صاحب کتاب گزشتہ کئی برسوں سے ایک قومی روزنامے میں ”ذرا ہٹ کے“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں اور اپنے کالم کے ذریعے تعلیم بھی دیتے ہیں اور جادوئی نثر سے دل بھی لبھاتے ہیں۔ فکر انگیز نکات بیان کرکے تڑپاتے بھی ہیں۔ سلگتے مسائل کی طرف نہ صرف انگلی اٹھاتے ہیں بلکہ بہتری پر بھی اکساتے ہیں یعنی کل ملا کر وہ اپنے فہم کے عطر سے سماجی راہوں کو مہکاتے ہیں اور فکری روشنی سے آگے بڑھنے کا رستہ دکھاتے ہیں۔
صحافتی کالم حالات حاضرہ کا عکس ردعمل اور تجزیہ ہوتے ہیں۔ یہی حالات حاضرہ جب ایک مدت کے بعد تاریخ کا حصہ بننے کے بعد جب ہم اس تاریخ پر اور اس وقت کے حالات حاضرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو کوئی بات نئی نہیں لگتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آج جو کچھ ہورہا ہے وہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ کالم نگار اگرچہ ذاتی رائے رکھتا ہے اور وہ رائے کسی مخصوص واقعے یا صورتحال کے تناظر میں ہوتی ہے لیکن اس کی رائے فرد واحد کی رائے شمار نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کے ایک مکتبہ فکر کے نمائندہ اور ترجمان کی رائے کے طور پر لی جاتی ہے۔
Read more