مشاہیر کے خطوط بنام عطا الحق قاسمی

عطاء الحق قاسمی ایک عہد کا نام ہے۔ ایسا عہد جس میں تہذیب ہے، تابناکی ہے، وسعت ہے، برداشت ہے، علم ہے، حلم ہے اور ابلاغ اور گیان کا وفور ہے۔ آپ چھ دہائیوں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں اور کسی بھی موقع پر ان کے تخیل کے قلمرو میں سرمو انحطاط نہ آیا ہے۔ آج بھی ”روزن دیوار“ قاری کی اولین ترجیح اور مطمح نظر ہے۔ آج بھی وہ ادبی و سماجی تقریب کامیاب اور کامران

Read more

مکتب عشق، محبت، وارفتگی، عشق اور جڑت کی کہانی ہے

سید شبیر احمد کا تعلق میاں محمد بخش کی جنم بھومی کھڑی سے ہی ہے۔ اکنامکس میں گریجویٹ ہیں اور پیشے کے لحاظ سے بینکر رہے لیکن شخصیت اور ذوق کے اعتبار سے وہ محقق، لکھاری، سماج سیوک اور دانشور ہیں۔ گرچہ راقم کی شاہ صاحب سے محض ایک ہی ملاقات ہے، لیکن اس اکلوتی ملاقات میں ہی بندہ ان کی وضع داری، متانت اور پہلو دار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کی علمی و تحقیقی گفتگو سے بہت

Read more

دوستوں کے درمیان وجہ دوستی پروفیسر محمد اکرم سعید

کسی عاشق صادق نے نشیب و فراز کی کئی منزلوں سے گزرنے کے بعد غم عاشقی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کی بدولت ان منزلوں کی مسافت نصیب ہوئی، سچ پوچھیں تو یہ غم عاشقی اور روگ محبت تو بعض جگہوں پر محض زیب داستان کے لیے بھی پیدا کر لیے جاتے ہیں لیکن تیسری دنیا میں ایک اور بھی غم ہے جو مستقل ہے اور شاید مستقل ہی رہے گا اور اس غم کا نام ہے غم

Read more

نانک اور ننکانہ

مجھے فخر ہے کہ میرا اس دھرتی سے تعلق ہے جہاں آج سے نصف صدی پہلے ایک دانشور، فلاسفر، سفرنامہ نگار، شاعر اور مصلح نے جنم لیا۔ تب وہ جگہ غیر معروف تھی لیکن وہ ہستی کیا ظاہر ہوئی کہ وہ جگہ لاکھوں انسانوں کے لیے سراپا تقدس بن گئی۔ 29 نومبر 1469، رائے بھوئے کی تلونڈی نامی علاقے میں ایک ہندو مہتہ کالو اور ترپتا دیوی کے ہاں ایک لعل پیدا ہوتا ہے۔

اس لعل کی چمک دمک اس کے خاص ہونے کی پہچان بچپن سے ہی کروادیتی ہے۔ آج دنیا اس لعل کو بابا گورونانک کے نام سے جانتی ہے اور رائے بھوئے کی تلونڈی، آج ننکانہ صاحب کے نام سے راحت القلوب ہے۔

Read more

محمد وسیم شاہد کی کہانیاں

آج سرزمین بلوچستان کی ایک خوبصورتی، ایک انعام اور فن و حکمت کے چشمے کا ذکر آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے، جس سے تعمیر و اصلاح انسانی کے سوتے پھوٹتے ہیں، ہزاروں سال پرانی زرخیز تہذیب کے وارث بلوچستان کئی طرح کی خوبصورتی اور قسم ہا قسم کے انعامات اپنے دامن مالدار میں سموئے ہوئے ہے۔ یہاں فطری ماحول کی فراوانی ہے، سنگلاخ پہاڑ، ریتلے صحرا، چٹیل میدان، سرسبزوشاداب وادیاں، مکران سے جڑی سات سو کلو میٹر

Read more

خدمت خلق کرنے والوں کو سلام

پاکستان اس وقت کرونا سمیت کئی طرح کی آفات و بلیات میں گھرا ہوا ہے، کرونا تو ایک نہ دن اللہ کے فضل و کرم سے چلاہی جائے گا لیکن دوسری آفات و بلیات جو کہ ہمیں کیکڑے کی طرح جکڑچکی ہیں وہ باید و شاید ہی جائیں۔ آفات و بلیات کے نام یہ ہیں ناجائز منافع خوری، عدم احساس، نا اہلی، ضد، تعصب، نالائقی، بداحتیاطی، فتوے بازی وغیرہ وغیرہ۔ ایک طرف آزمائش کی گھڑی ہے دوسری طرف ہم نے

Read more

نظر کرم کی دیر ہے

مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ دوسری چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو، فرصت کو مصروفیت، مال کو تنگدستی، صحت کو بیماری، جوانی کو بڑھاپے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ لمحہ موجود میں ہم جس ابتلاء اور غیر یقینی میں گھرے بیٹھے ہیں، ذرا ماضی قریب میں نگاہ دوڑائیں تو ہم لوگ کس قدر خوشحال اور شاداں تھے لیکن چونکہ ہم نے یہ کرونا والی مصیبت اور اس

Read more

سہج پکا سو میٹھا ہے

قصورہمیشہ سے میری محبتوں کا مرکز رہا ہے، ہمیشہ مجھے اس شہر سے ٹھنڈی ہوائیں ہی ملی ہیں اور جب کبھی دنیا داری کے جھمیلوں سے اکتایا تو سیدھا قصور کا رخ کیا جہاں مہر شوکت علی جیسی درویش صفت، پروفیسر غلام محی الدین جیسی زیرک و دانا، اقبال خان منج جیسی مرنجاں مرنج شخصیات کے ساتھ مجلس آرائی کی تو سارے حزن و ملال جاتے رہے، دوست اللہ کا انعام ہوتے ہیں، میں ہمیشہ سے اس معاملے میں اغنیاء

Read more

محبتوں کا سفیر

زندگی میں اکثر وبیشتر ایسی شخصیات سے واسطہ پڑتا ہے، جن سے مل کر، جن سے بات کرکے، جن کے کارنامے اور کام دیکھ کر آپ ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، آپ کا زندگی پر اعتبار قائم ہوجاتا ہے، بندہ ایک وقت ضرور سوچتا ہے کہ ضرور کوئی نہ کوئی طلسم اس بندے کی ذات سے جڑا ہوا جو ہرکوئی کچے دھاگے سے جڑا چلا آتا ہے، بظاہر عام سے دکھنے والے گوشت پوست کے انسان اپنے اندر

Read more

کپتان سرفراز کے ارادے اور بابا بشیر کے صدمے

بابا بشیر احمد ہمارے نئی پڑوسی ہیں، وہ حال ہی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے ہیں، بابا جی کسی سرکاری محکمے سے ریٹائرڈ ہیں، اکثر آتے جاتے میری ان سے علیک سلیک ہوجاتی ہے، انہوں نے ایک دودفعہ میرے ہاتھوں میں کتابیں، میگزین اور اخبارات وغیرہ دیکھے تو پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا، چنانچہ تب سے وہ قابل مطالعہ مواد مستعار لیتے اور واپس کرتے رہتے ہیں، بعض دفعہ تو مجھے پاس ہی بٹھا لیتے ہیں

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے اور مرشد

پاکستانیوں کے مغالطے صاحب طرز و فکر کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔ صاحب کتاب گزشتہ کئی برسوں سے ایک قومی روزنامے میں ”ذرا ہٹ کے“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں اور اپنے کالم کے ذریعے تعلیم بھی دیتے ہیں اور جادوئی نثر سے دل بھی لبھاتے ہیں۔ فکر انگیز نکات بیان کرکے تڑپاتے بھی ہیں۔ سلگتے مسائل کی طرف نہ صرف انگلی اٹھاتے ہیں بلکہ بہتری پر بھی اکساتے ہیں یعنی کل ملا کر وہ اپنے فہم کے عطر سے سماجی راہوں کو مہکاتے ہیں اور فکری روشنی سے آگے بڑھنے کا رستہ دکھاتے ہیں۔

صحافتی کالم حالات حاضرہ کا عکس ردعمل اور تجزیہ ہوتے ہیں۔ یہی حالات حاضرہ جب ایک مدت کے بعد تاریخ کا حصہ بننے کے بعد جب ہم اس تاریخ پر اور اس وقت کے حالات حاضرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو کوئی بات نئی نہیں لگتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آج جو کچھ ہورہا ہے وہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ کالم نگار اگرچہ ذاتی رائے رکھتا ہے اور وہ رائے کسی مخصوص واقعے یا صورتحال کے تناظر میں ہوتی ہے لیکن اس کی رائے فرد واحد کی رائے شمار نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کے ایک مکتبہ فکر کے نمائندہ اور ترجمان کی رائے کے طور پر لی جاتی ہے۔

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے اور مرشد

"پاکستانیوں کے مغالطے” صاحب طرز و فکر کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوا ہے، صاحب کتاب گزشتہ کئی برسوں سے ایک قومی روزنامے میں ”ذرا ہٹ کے“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں اور اپنے کالم کے ذریعے تعلیم بھی دیتے ہیں اور جادوئی نثر سے دل بھی لبھاتے ہیں، فکر انگیز نکات بیان کرکے تڑپاتے بھی ہیں، سلگتے مسائل کی طرف نہ صرف انگلی اٹھاتے

Read more

ادھوری کہانیاں

سجاد جہانیہ وہ شخصیت ہے کہ جس کی وجہ سے اس کالم نگار کا حرف، لفظ، قلم، قرطاس سے رابطہ ہے، ان کی مہربانیاں اس طور ہیں کہ میرے دل میں موجود ان کے لیے جذبہ محبت بالکل ختم ہی ہوگیا اور۔ ۔ محبت سے اگلے درجے عقیدت میں تبدیل ہوگیا ہے۔بقول انور مسعود: خدا کی قسم محبت نہیں عقید ت ہے تم سےدیار دل میں بہت احترام ہے تیرا

Read more

ہیروز کی تلاش

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہرسال تین دسمبر کو خصوصی افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، آج راقم اسی حوالے سے آپ سے مخاطب ہوکر کچھ گوش گزار کرنا چاہتا ہے، تاکہ ہم خصوصی افراد کے حوالے سے کچھ نہ کچھ مثبت اور مفید کردار اداکرسکیں۔ معزز خواتین و حضرات! ہر قوم کے اپنے ہیروز ہوتے ہیں، جن کے نقش قدم پر چلنا، قوموں کا افتخار ہوا کرتا ہے، ان کی پیروی قوموں کو عظمت اور

Read more