صحیح مذہب اور صحیح سائنس کا ٹکراؤ ممکن نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حدیث میں ہے کہ علم کی دواقسام ہیں ایک علم الادیان اور دوسرا علم الابدان ہیں۔ ایک مذہب کا علم ہے جس کی بنیاد الہام پر ہے اور دوسراعلم جسموں کا یعنی دنیا میں پائی جانے والی مادی اشیاء کے مطالعہ اور تحقیق سے حاصل ہونے والا علم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انہیں ایک صورت دی۔ ایک ہیت دی۔ جو ظاہری آنکھ سے نظر آتی ہے۔ ان مخلوقات میں بے شمار خصوصیات اور خوبیاں رکھیں۔ ان کے لیے قاعدے اور قانون بنائے۔ انسان کو پیدا کیا اور اس کے اندر بے شمار نظاموں کو جمع کر دیا۔ آنکھ بنائی تو اس کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔ کس طرح آنکھ دیکھتی ہے۔ کس طرح ذہن آنکھ سے نظر آنے والی چیز کو پہچانتا ہے۔ کارنیا یا دیگر آنکھ کے نظام میں شامل اعضاء کو پیدا کیا۔

ہر عضو کے ذمہ ایک کام لگا دیا اور وہ اسی کے مطابق کام کیے جاتے ہیں۔ جس سے بحیثیت مجموعی آنکھ اپنا دیکھنے کا کام کرتی ہے۔ اسی طرح تمام اعضاء کو خدا تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے۔ دنیا میں کسی کا یہ دعویٰ نہیں کہ اس نے اپنے اعضاء خود بنائے ہیں یا کسی سائنسدان نے اسے دیے ہیں۔ بلکہ اس کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے یہ تمام اعضاء مل گئے ہیں۔ اب میڈیکل سائنس یہ شور مچاتی ہے کہ اس نے بڑی ترقی کر لی ہے۔ اِس چیز کا علاج دریافت کر لیا ُاس بیماری کا علاج دریافت کر لیا۔

اُس علاج سے کس حد تک فائدہ ہوا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن سوال تو یہ کہ اس عضو کی تخلیق اور اس کی خصوصیات کس نے پیدا کیں۔ دنیا کا بڑے سے بڑاسپیشلسٹ اس عضو کا مطالعہ کرکے اس کی خوبیوں اورخواص کو جان کر اس میں پیدا ہونے والی خرابی کے بارے میں علم حاصل کرکے اپنے آپ کو اس کا سپیشلسٹ کہلانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ ہے سائنس کی معراج۔ کبھی اس خالق کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جس کی مخلوقات کے بارے میں علم حاصل کرکے سائنسدان بن کر اپنے آپ کواس خالق کے مقابل کھڑا کر لیتے ہیں۔ یہ تو ایک انسان اور اس میں سے اس کی آنکھ کی مثال دی ہے۔ باقی اعضاء اور اسی طرح کائنات میں پائی جانے والی کھربوں مخلوقات اپنی اپنی خوبیوں اور خواص کے ساتھ ایک خالق کی طرف راہنمائی کرتیں ہیں۔

گویا جتنا علم حاصل کرتے چلے جائیں گے اتنا ہی اپنی کمزوری کا احساس بڑھتا چلا جائے گا اور خالق کی خالقیت پر ایمان زیادہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس سے پتا چلا کہ صحیح علم انسان میں عاجزی انکساری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کے عقیدہ میں مضبوطی دیتا ہے۔

اس کائنات کی تخلیق مادہ کے ساتھ اور قوانین کے مطابق ہوئی ہے۔ مادہ یا جسم نظر آتاہے اس لیے ہم اس کے بارے میں بآسانی علم حاصل کرلیتے ہیں۔ تجربہ اور مشاہدہ ہمارے علم میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اضافہ اس پر ہماری دسترس کو یقینی بناتا ہے اورسمجھا جاتا ہے بہت ترقی کر لی۔ حالانکہ غور کیا جائے تو یہ ترقی اصل میں قوانین قدرت کے مطالعہ ہو کہا جا رہا ہوتا ہے۔ قوانین قدرت بنانے کا تو سوال ہی پید انہیں ہوتا۔ جتنا زیادہ مطالعہ اتنی زیادہ ترقی۔

ایک تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے قوانین قدرت۔ دوسرا ہے قانون شریعت۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ بنائی وہ کس طرح کام کرتی ہے۔ ان قوانین قدر ت کا مطالعہ کر کے جان لیا جاتا ہے۔ اس آنکھ کا کام ہی دیکھنا ہے لیکن کیا اس آنکھ پر کوئی پابندی بھی ہے۔ ایک چیز انسان کو ملی ہے وہ مالک سمجھ کر اس کوجیسے مرضی استعمال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے حالانکہ اس کی تخلیق میں اس کا ذرابرابر حصہ نہیں۔

ایک چیز قدرتی طور پر مل جانا مالک بنا دیتا ہے تو جس خالق نے ہمیں تخلیق کیا ہے اس کا ہم پر قانونی حق بہت زیادہ ہے۔ تواس حقیقی مالک نے آزادی دی ہے کہ جو مرضی دیکھو یا کچھ پابندی لگائی ہے۔ اس نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ بعض چیزوں کو دیکھتے ہوئے احتیاط کر لو۔ غض بصر سے کام لو۔ وہ کام جو ذہنی انتشار کا باعث بنتے ہیں اور انسان کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں ان مواقع پر نظر کے استعمال میں احتیاط کرو۔ ان قوانین کا نام قوانین شریعت ہیں۔

جس کو مذہب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان قوانین پر عمل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ جزا دیتا ہے اور نافرمانی کی صورت میں سزا دیتا ہے۔ اب جن باتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس پر عمل ضروری ہے اور جس سے منع کیا ہے اس سے رک جانا یہی مذہب اور یہی شریعت ہے۔ پس قانون قدرت تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور قانون شریعت اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فعل اور قول میں کوئی تضاد نہیں ہوسکتا۔

سائنس اللہ تعالیٰ کے فعل کے مطالعہ کا نام ہے اور مذہب اللہ تعالیٰ کے قول کے مطالعہ اور اس پر عمل کا نام ہے۔ فعل بظاہر نظر آرہا ہوتا ہے اور تجربہ اور مشاہدہ سے اس کے بارے میں آگاہی نسبتاً آسان ہے اس لیے سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ سب سے صحیح علم ہے اور اس کے مقابل پر مذہب کچھ نہیں ہے۔ حالانکہ سائنس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جتنی تبدیلیاں اپنے اندر کی ہیں کسی اور چیز نے نہیں کیں۔ تجربہ اور مشاہدہ میں جتنی ترقی ہوتی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ سائنس میں تبدیلیاں آتی جاتی ہیں۔

حیرت اس بات پر ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کا علم حتمی اور یقینی ہے۔ ایک وقت میں سائنس یہ کہتی تھی کہ زمین چپٹی ہے پھر سائنس نے کہا کہ زمین گول ہے۔ کبھی کہا دنیا میں چار طاقتیں اور قوتیں کام کرتی ہیں اور کبھی کہا تین کرتی ہیں۔ صرف ان حقائق کے متعلق سائنس کی رائے حتمی ہوتی ہے جس کے بارے میں تجربہ او رمشاہدہ یقینی گواہی دے دے۔ لیکن تجربہ اور مشاہدہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ بدل رہا ہے۔ پہلے زمانے میں مشاہدہ بہت محدود تھا ا ب دور بین اور خوردبین سے مشاہدہ بہت لطیف ہوچکا ہے جس سے نئے نئے حقائق سامنے آرہے ہیں۔

اس لیے کسی چیز کے متعلق ہمارا علم اور ہماری سائنس سو فیصد حتمی نہیں ہے۔ ایک چیز کے متعلق کوئی رائے حتمی ہوتی ہے لیکن بعد میں نئے نئے حقائق متعارف ہوتے ہیں۔ جب ایٹم دریافت ہوا تو سمجھا گیا کہ اب سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں۔ لیکن ایٹم کے مطالعہ نے ہی بتایا کہ اس سے آگے اور بھی جہان ہیں۔ ہمارے نظام شمسی کے مطالعہ نے بتایا کہ کہکشاں کیا ہے لیکن کہکشاں کے مطالعہ نے بتایا کہ کائنات میں ہماری زمین کی حیثیت ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں۔ سائنس تو نام ہی ہے ترقی کا۔ مطالعہ کرتے جائیں ترقی ہوتی جاتی ہے۔

اب آتے ہیں قانون شریعت کی طرف۔ شریعت اللہ تعالیٰ کے کلام پر مبنی ہوتی ہے جو قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ اس میں تبدیلی اللہ کے کلام کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے کلام میں کسی چیز کے متعلق بتا دیا جائے تو وہ تبدیل نہیں ہوتا۔ خاص طور پر قانون قدرت کے متعلق کوئی چیز بتائی جائے تو وہ تبدیل نہیں ہوتی۔ خواہ ہمارے تجربہ اور مشاہدہ اس کے متعلق فی الحال قطعی اور یقینی نہ ہو۔ یہ مضمون اتنا لمبا ہے کہ اس لیے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ ابھی تک تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعہ جو سائنس قطعی اور یقینی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے صحیح کلام یعنی قرآن کریم کے خلاف نہیں ہے۔

لیکن ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم مذہب اور سائنس میں بظاہر کوئی تضاد دیکھتے ہیں تو غیر مذہبی سائنس اور مذہبی مذہب کو ترجیح اور فوقیت دیتے نظر آئیں گے۔ اور فریقین مذہب اور سائنس کو دشمن قرار دیتے ہیں۔ یہ رویہ مذہبی لوگوں اورغیر مذہبی لوگوں دونوں طرف سے سامنے آتا ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سائنس جس کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہوتی ہے اس میں بھی اختلا ف نظر آتا ہے۔ صرف ایک میڈیکل فیلڈ میں ہی ابھی تک بے شمار تبدیلیاں ہوتی نظرآرہی ہیں۔ حالانکہ پوری دنیا میں شاید اس میڈیکل کے شعبہ میں سب سے زیادہ تجربات ہوتے ہیں۔ ایک انسانی جسم ہی ہے جس میں پایا جانا والا نظام دنیا کے ہر کنارے میں پائے جانے والے انسان میں ایک جیسا ہے۔ جو تجربہ ایک کنارے پر ہوتا ہے اس کی بنیا د پر حاصل ہونے والے نتائج پر دوسرے کنارے پر رہنے والے شخص کا بھی علاج کیا جا تا ہے۔

اس قدر وسیع تجربات کے باوجود بیماریوں کے علاج میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ بیمار شخص کوشش کرتا ہے کسی اچھے ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائے۔ اگر سائنس اپنی بنیادیں مضبوط رکھتی ہے تو کیوں سارے ڈاکٹر ایک جیسا علم اور مہارت نہیں رکھتے۔ کیوں ہم کسی عام ڈاکٹر سے علاج نہیں کرواتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کسی سپیشلٹ کو تلاش کرتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ بے شک سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں حتمی نتائج سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی جس کا علم زیادہ ہوگا جس کا تجربہ زیادہ ہوگا وہی صحیح علاج اور صحیح راہنمائی کرسکتا ہے۔

اگر علاج ہوجائے تو ٹھیک اور اگر علاج نہیں ہوتا تو کوئی بھی سائنس کو برا بھلا نہیں کہتا یا سائنس کا قصور نہیں نکالتا۔ لیکن مذہب کے معاملہ میں ہم اپنی اس روش کو تبدیل کر لیتے ہیں۔ کسی بھی مذہبی مسئلہ میں کسی بھی عالم دین کو دین کا عالم سمجھ لیتے ہیں اور اس کی کہی ہوئی بات کو بحیثیت مجموعی مذہب کی طرف منسوب کرکے مذہب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اگر وہ بات ہمیں بری لگتی ہے۔ ہم یہ کوشش ہی نہیں کرتے کہ ہم کسی ایسے سپیشلسٹ کو تلاش کریں جو ہماری صحیح راہنمائی کر سکے۔ بغیر سوچے سمجھے مذہب کو ہی برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

سائنس کے حوالے سے اختلاف سامنے آئے تو سائنسدانوں کا قصور لیکن مذہب کے معاملے میں مذہب ہی برا بنتا ہے۔ سائنس کے حوالے سے یہ اصول ہے، جس کا علم زیادہ وہ صحیح سائنس دان حالانکہ حتمی وہ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن مذہب کے معاملے میں کوئی بھی مولوی کچھ بھی کرے مذہب کے حوالے سے وہ حتمی بن جاتا ہے اور بدنام مذہب ہوتا ہے۔ مذہب اور سائنس کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ حالانکہ صحیح سائنس اور صحیح مذہب میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *