صحیح مذہب اور صحیح سائنس کا ٹکراؤ ممکن نہیں

حدیث میں ہے کہ علم کی دواقسام ہیں ایک علم الادیان اور دوسرا علم الابدان ہیں۔ ایک مذہب کا علم ہے جس کی بنیاد الہام پر ہے اور دوسراعلم جسموں کا یعنی دنیا میں پائی جانے والی مادی اشیاء کے مطالعہ اور تحقیق سے حاصل ہونے والا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام…

Read more

پاکستانی حکومت ”ایک قسمت پوڑی“

بچپن میں دکانوں سے کاغذ کی پڑیا ”قسمت پوڑی“ کے طور پر ملا کرتی تھی۔ ایک چھوٹے سے کاغذ میں لپٹی ہوئی چار آنے کی ایک قسمت پوڑی۔ ایک چھوٹا سا بسکٹ جو ویسے خریدے جاتے تو چار آنے کے دس مل جاتے لیکن اس قسمت پوڑی میں سے ایک نکلتا اور اگر قسمت ساتھ دیتی تو کبھی کبھار اس میں ایک اسٹیکر اور کبھی اسی طرح کی کوئی اورچیز۔ جو شاید الگ خریدی جاتی تو چار آنے کی بآسانی مل جاتی۔ تو بچپن میں اس قسمت کے ”کھیل“ سے بہت لطف اندوز ہوتے۔گھر والوں کے شاید کتنے کی چار آنے خرچ کردیتے لیکن اس قسمت پوڑی سے نکلنے والی ایک آدھ چیز کو بڑے فخر سے گھر والوں کو دکھاتے کہ دیکھیں ہماری قسمت کتنی ا چھی ہے کہ ہماری قسمت پوڑی سے یہ انعام نکلا۔

Read more

دہشت گردی کو شکست دینا ممکن ہے

دہشت گردی کے بھوت نے پوری دنیا میں دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ اس کو ختم کرنے کی بات تو ہوتی ہے لیکن اس کو ختم کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اس سے مزید دہشت گردی پھیلتی ہے۔ سالوں پر سال گزر رہے ہیں مگر یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا۔اس کے ختم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کو ایک مذہب سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جب مذہبی آمیزش ہو تو دنیا خود بخود تقسیم ہوجاتی ہے۔ اس لیے سوچ کا دھارادہشت گردی سے ہٹ کر مذہب کے خلاف ہوجاتا ہے۔ اب مذہب ایسا معاملہ ہے جس میں دخل اندازی سے کبھی بھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ مذہب تبدیلی کوئی آسان کام نہیں۔ اس لیے جب اس الزام کی فضا یہ بنا دی جائے کہ ایک مذہب دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے تو اس مذہب کے ماننے والے کبھی بھی اس بنیاد پر اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے کیونکہ ان کا مذہب تو اس دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔

Read more

”نچ کے یار مناون دے“

منانے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریق یہ ہے کہ ”نچ کے یار مناون دے“ اس کو تصوف میں ایک خاص رنگ میں لیا گیا۔ فی الحال مدنظر یہ نقطہ نظر نہیں۔ لیکن دنیا میں کسی کو منانا باقاعدہ ایک فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو اس فن میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں…

Read more