اقبال کا شاہین


مہ دیم عباس کی عمر گیارہ برس کے قریب ہے اور اسلام آباد کے ایک سکول میں پانچویں جماعت میں پڑھتی ہیں۔ انہیں اس تقریر پر اپنے سکول میں پہلا انعام ملا ہے۔ اشعار کا انتخاب اور خیالات ان کے اپنے ہیں۔ فقروں کی تراش خراش میں انہوں نے گھر کے بڑوں سے کچھ مدد لی ہے۔ ہمارے لئے اس سے بڑی خوشی کوئی ہو نہیں سکتی کہ ہمارے بچے اپنے ذہن سے سوچنا سیکھیں۔ مطالعے، تجربے اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ خیالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اپنے ذہن کی روشنی میں سوچنا کبھی غلط نہیں ہوتا۔ جو بچے چھوٹی عمر ہی میں سوچنا سمجھنا سیکھ لیں گے، وہ اپنی زندگی میں بھی کامیاب ہوں گے اور دوسرے انسانوں کے بھی کام آئیں گے۔ شاباش بیٹا مہ دیم عباس

محترم اساتذہ کرام، معزز حاضرین اور عزیز ساتھیو\"mahdame\"

آج میری تقریر کا موضوع ہے \”اقبال کا شاہین\”۔ میں نے عام چلن سے ہٹ کر اس تصور کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ آپ انہیں غیر جانبداری سے سماعت فرمائیں گے، جذباتی ہو کر نہیں۔

محترم اساتذہ کرام، ہمارے ملک میں شروع سے ہی یہ چلن رہا ہے کہ علامہ اقبال کا نام اور ان کے اشعار کو ہر کوئی ہر موقع پر اپنے اپنے نقطۂ نظر کی حمایت میں استعمال کرتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کٹر اسلامی نظام کے حامی ہوں یا سوشلزم کے، سب کو اپنے اپنے مطلب کی کوئی نہ کوئی چیز کلام اقبال سے مل جاتی ہے۔ ایک جانب فرماتے ہیں کہ، \”مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا\”، اور دوسری جانب، \”کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر ہم نے\”۔۔

ایک بات البتہ ایسی ہے جس پر اکثر لوگوں کا اتفاق ہے۔ وہ یہ کہ اقبال کی شاعری ایسی علامات سے بھری پڑی ہے جن کے ساتھ جارحیت اور تشدد کے تصورات وابستہ ہیں۔ انہی میں سے ایک علامت \”شاہین\” نامی پرندے کی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شاہین ایک شکاری پرندہ ہے جس کی گذر اوقات کمزور اور نہتے پرندوں اور جانوروں کو چیرنے پھاڑنے پر ہے۔ علامہ اقبال کے تصور کے مطابق شاہین اپنا گھونسلہ نہیں بناتا اور پہاڑوں کی چٹانوں میں رہتا ہے، اور وہ اسے اس کی درویشی کی نشانی بتاتے ہیں۔ عزیز دوستو، کیا ایک ساتھیوں سے بیزار، خون آشام پرندے کے نام کے ساتھ، کسی بھی قسم کی درویشی کا خیال آپ کے ذہن میں آتا ہے؟ میرے لئے تو ایسا تصور کرنا بہت مشکل ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ علامہ کے کلام سے انھیں \”مقصدیت\” کا سبق ملتا ہے۔ سچ پوچھیے تو اقبال کے شاہین کا مقصدیت کے ساتھ تعلق مجھے تو ہرگز سمجھ نہیں آتا۔ فرماتے ہیں، \”پلٹنا جھپٹنا، پلٹ کر جھپٹنا۔۔ لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ\”۔ ذرا سوچیے، جھپٹنے کا مقصد خوراک حاصل کرنا نہیں بلکہ صرف اپنا لہو گرم رکھنا بتایا جا رہا ہے۔ کیا یہ کوئی ایسی صفت ہے جو ہم اپنے آپ میں، یا اپنے اس پاس کے لوگوں میں دیکھنا پسند کرتے ہوں؟ اسی خیال کو ایک اور جگہ یوں بیان کیا گیا ہے، \”جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پسر۔۔ وہ مزا شاید کبوتر کے لُہو میں بھی نہیں\” گویا کبوتر جیسے معصوم پرندے کی جان بنیادی طور پر اس لئے لی جا رہی ہے کہ شاہین صاحب کو اس پر جھپٹنے میں مزا آ رہا ہے۔

معزز حاضرین، میں سمجھتی ہوں کہ جنگل ہو یا انسانی معاشرہ، اس کا سارا حسن اس کی رنگا رنگی میں ہے۔ جس ماحول میں مختلف خیالات اور نظریات کے لوگ ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور مل جل کر رہنا سیکھ لیں، وہ سندھی رلی یا بلوچستان کی کشیدہ کاری کی طرح خوبصورت ہوتا ہے۔ اور جہاں صرف ایک ہی رنگ کو زندہ رہنے کی اجازت ہو، وہ کفن کی صورت بے رونق جگہ بن جاتی ہے۔ شاہین کی مثال کو ہی دیکھئے، جنگل کے ماحول میں شاہین کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ کبوتر اور فاختہ کو بھی زندہ رہنے دیا جاے اور ان کی ایک مخصوص تعداد ضرور باقی رہے۔ اگر سب ہی شاہین رہ گئے تو ایک دوسرے کو ہی پھاڑ کھائیں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ انسان نے غاروں میں رہنے اور کچا گوشت کھانے والے نیم حیوان سے شہروں اور دیہاتوں میں مل جل کر بسنے والی مہذب مخلوق تک بہت لمبا فاصلہ طے کیا ہے۔ خدارا، ہمیں کمزوروں کا لہو، صرف شوق کی خاطر بہانے والے نظریات سے آگے آنے دیں۔ ہماری بقا تورا بورا کی چٹانوں میں نہیں، قصہ خوانی اور انار کلی کے بازاروں میں ہے۔ ہم نے پلٹنے جھپٹنے، پلٹ کر جھپٹنے کے جنون میں بہت سا خون ناحق بہا لیا۔ اب امن کی فاختہ کو موقع دینے کا وقت ہے۔

Facebook Comments HS