ٹروجن گھوڑے پرسوار جاں نثار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ahmed-noor\"

یونانیوں نے ٹروجن کی جنگ میں ایک سکیم بنائی کہ لکڑی کا ایک بہت بڑا گھوڑا بنایا جائے جو اندر سے خالی ہو۔ پھر اس میں چنیدہ فوجیوں کو بھرا جائے ، دشمن کو دھوکا دیتے ہوئے ٹرائے شہر میں گھس کر پھاٹک کھول دیے جائیں تاکہ باقی فوج اندر داخل ہوجائے اور جنگ جیت لی جائے۔ ایسا ہی ہوا۔

کچھ ایسا ہی کھیل جاری ہے۔ دوبادشاہ ہیں۔ دور چل رہا ہے۔ رادھا ناچ رہی ہے۔ بساط بچھ چکی ہے۔ بادشاہ، وزیر،توپیں، پیادے ،گھوڑے اور فیلے تیار کھڑے ہیں۔ جیت کس کی ہوگی مات کس کی ہوگی۔ کچھ کہنا مشکل ہے۔

کھیل کو دیکھتے ہوئے بظاہرمحسوس ہوتاہے کہ بادشاہ کو براہ راست مارنا ہدف نہیں ہے، البتہ بادشاہ کو شہ دے کر چاروں طرف سے اس طرح گھیر لینا ہے کہ وہ شہ سے نکل نہ پائے۔ اردگرد کے تمام قریبی خانے مخالف مہروں کی زد پہ ہوں۔ کسی صورت بادشاہ کا شہ سے نکلناممکن نہ ہو اور بادشاہ کو شہ مات ہو جائے۔

لیکن اگر بادشاہ کو گھیر نے کے باوجود شہ نہ ہو سکی اور کوئی مہرہ بھی حرکت نہ کر سکا تو پات ہو جائے گی۔ یعنی بغیر ہار جیت کے کھیل ختم بھی ہو سکتا ہے۔

بادشاہ کو گھیرنے کے لئے پیادے چلا دیے گئے ہیں جو سڑکوں پر ہیں۔ لشکری بھی تیار ہیں اور اگر کچھ بن نہ پایا تو ٹروجن گھوڑے پر سوار ایک جاں نثارآئے گا جو بادشاہ کو چاروں شانے چت کر جائے گا۔

تگ و دو جاری ہے۔ ایک وزیر کی’قربانی ‘ کے بعد دوسرے اور پھر شہزادی تک پہنچ کر بادشاہ کو ایسا گھیرنا ہے کہ اسے شہ مات ہوجائے۔ تاہم بادشاہ بھی ہر ممکن کوشش میں ہے کہ پات ہوجائے یعنی بغیر ہار جیت کے کھیل ختم ہو جائے۔

لیکن اپنے ہی سپہ سالاروں، میڈیائی مخلوق،عدلیہ اور ’کھلاڑی‘ اور ٹروجن ہارس پر سوارجاں نثارکے چنگل میں پھنسے بادشاہ سلامت کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

خبر لیک کا معاملہ آنے والے دنوں میں ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ فوج اس خبر کو رپورٹرتک پہنچانے والوں کی تاڑ میں ہے۔ جاں نثار کی پوری کوشش ہے کہ اصل لوگوں تک پہنچا جائے۔ عدلیہ نے پانامہ لیکس پر کام شروع کر دیا ہے۔ کھلاڑی کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے لیکن پوری طرح نہیں۔

بادشاہ کے لئے اصل خطرہ ٹروجن ہارس پر سوار یہ جاں نثار ہے جو اندر داخل ہوکر محل کے دروازے کھول دے گا تاکہ جیت یقینی ہو سکے۔

بادشاہ تمام چالوں سے بچتے بچاتے پات کر پائے گا یا منہ کے بل گرے گا۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments