خود نوشت سونح عمری : خود نمائی سے خود شناسی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی سوانح عمری لکھنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ یہ صنف اظہار اپنی ذات اور شخصیت کی جراہی خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی طرح درد آشنائی کا تقاضا کرتی ہے۔ قریبا ”دو ہفتہ پہلے ٹورونٹو میں حلقہ ارباب قلم کی دعوت پر محترم ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کا لیکچر سننے کا موقع ملا جس میں انہوں نے خودنوشت سوانح عمری یا آٹو بائیو گرافی کی باریکیوں پر گفتگو فرمائی۔ ڈاکٹر پروازی صاحب اردو زبان میں اس صنف کے پہلے محقق اور تنقید نگار ہیں۔ وہ اب تک اردو میں لکھی گئی کم و بیش تین سو پچاس سوانح عمریوں پر تحقیق مکمل کر چکے ہیں۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے کچھ اور لوگ بھی سامنے آئے ہیں مگر ڈاکٹر پروازی صاحب اس موضوع پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے لیکچر سے خود نوشت سوانح عمری کے اسلوب اور لوازمات کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔

اردو زبان میں یا ہمارے برصغیر پاک و ہند میں خود نوشت سوانح عمری کی تاریخ مغرب کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے، اس لئے تحقیق اور تنقید کا دائرہ عمل بھی قدر ے کم ہے۔ خود نوشتی کے شوق میں لکھا تو بہت کچھ گیا ہے تاہم اس صنف کے ساتھ انصاف کرنے اور اس پر تنقید کے معیار ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں مناسب یہ ہے کہ مغرب میں خودنوشت سوانح عمری کے بارے معلومات حاصل کر لی جائیں اور ان کی روشنی میں اردو میں لکھے ہوئے مواد کو دیکھا جائے۔

انسان نے اپنے شعور سے آگاہی کے ساتھ ہی اظہار کے مختلف تجربات شروع کر دِیئے تھے جس کے لئے بقول ن م راشد انسان نے مو قلم ساز اور تھرکتے پاؤں کو وسیلہ اظہار بنایا۔ اسے انفرادی طریقہ اظہار کہیے یا اجتماعی مگر خود نوشت سے بہت پہلے سوانح عمری کو واقعات کی لڑی میں پرو کر خود نمائی کے مینار پر ایستادہ کرنے کا سہرا بادشاہوں کے حصے میں آتا ہے جیسا کہ برطانیہ کے مشہور تاریخ دان ایرک ہوبسبام نے لکھا ہے۔ پرانے زمانے میں تاریخ بادشاہوں اور فاتح جرنیلوں کے عزم و ہمت اور فتوحات کی داستان تھی۔

ان داستانوں میں مبالغہ کتنا ہوا کرتا تھا یہ معلوم کرنا نہایت مشکل امر ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ بادشاہوں اور فاتحین کے واقعات کو پورے سماج کی مجموعی تاریخ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وقت کی رو پر انسان کے فہم و ادراک میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ایک تبدیلی جس کا حوالہ ضروری ہے وہ اجتماعیت سے انفرادیت کا سفر ہے جہاں سے خود نوشت سوانح عمری ”آٹو بائیو گرافی“ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

پہلے پہل خود نوشت سوانح عمری مسیحی مذہب کو قبول کرنے والوں کے تبدیلی مذہب کے ان واقعات کا بیان ہوا کرتی تھی جس میں پرانے عقیدے کی پیروی میں زندگی میں کوتاہیوں کا ذکر ہوتا تھا اور نئے عقیدے سے وابستہ ہو جانے کی خوش قسمتی کا ناز بھی تھا۔ ان کا بیانیہ بائبل کے موضوعات سے لبریز ہوا کرتا تھا کہ کس طرح ایک جرم یا گناہ کی پاداش میں آدم کو جنت سے نکالا گیا اور پھر کس طرح درماندگی زمین پر انسان کا مقدر ٹھہری۔

ان کی تحریروں میں مذہب سے متعلقہ واقعات میں مسیحیت کے حوالے سے خدا سے دوبارہ ملاپ کی باتیں ہوتی تھیں۔ وہ اپنی سوانح عمری میں حضرت یسوع مسیح کی ذات اقدس کے طفیل خدا کی رحمت تلے واپس آنے کا شکرانہ ادا کیا کرتے تھے۔ قصہ مختصر کہ ابتدائی دور کے مسیحی مذہب کے پیرو کار اپنی سوانح عمری میں اپنے اعمال میں کم مائیگی کا ذکر اور اعتراف گناہ بھی کیا کرتے تھے اور نجات کا شکر بھی۔

خود نوشت سوانح عمری کے باب میں اسلوب بیان میں پہلی تبدیلی سینٹ آگستین کی کتاب اعتراف اعمال Confessions ہے۔ اس سوانح عمری میں واقعات تو اسی طرح سے ہیں کہ جیسے ان کی زندگی میں ہوئے مگر پیرائیہ اظہار میں ایک زیریں لہر ہے۔ انہوں نے یہ سوانح عمری اس طرح سے لکھی کہ جیسے وہ اپنے آپ کو اور اپنے نامہ اعمال کو خدا کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔ اس خدا کے سامنے جو ہر چیز کو پہلے سے جانتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے سامنے واقعات میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش سے بات نہیں بنتی۔

وہ باطن ذات کے سارے رازوں سے واقف ہے۔ ان کی یہ سوچ انہیں تصنع اور خود نمائی سے دور رکھتی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں انسان کے اختیاری رویے کی بات کرتے ہیں۔ وہ تحریر میں زندگی کے ان معاملات پر غور و خوض کرتے نظر آتے ہیں جس میں ان کو اختیار تھا۔ زندگی میں جبر و اختیار کے مختلف پہلووں پر تفکر کے عنصر کو انسان ہونے کا خاصہ سمجھا جا سکتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے خود شناسی کی منزل کا آغاز ہوتاہے اسے خود نوشت سوانح عمری کے اصولوں کی خشت اول بھی کہا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں سینٹ آگستین کی خود نوشت بائیو گرافی 1600 سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی ہر آنے والی خود نوشت سوانح عمری کی پرکھ کے لئے ایک معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہمارے یہاں خود نوشت سوانح عمری کے باب میں تحقیق کا مطلب جو عرف عام میں رائج ہے وہ واقعات کو سچ، جھوٹ کے پیمانے پر جانچنا ہے اور آدھے سچ یا آدھے جھوٹ کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ہے۔ یہ نکتہ اپنی جگہ پر بہت اہم ہے اور بنیادی ہے اور اس کی اہمیت زمانہ حال اور ماضی قریب کے تناطر میں تو بہت ہی زیادہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب کوئی سوانح عمری کسی موہنجوڈارو کی کھدائی کے دوران کسی مستقبل کے حسن کوزہ گر جیسے طالب علم کے ہاتھ لگے گی تو وہ اسے کس نظر سے دیکھے گا؟

دوسرے لفظوں میں کہ مستقبل کا محقق آج کے سچ اور جھوٹ کو کیسے پکڑے گا اور یہ کیسے ممکن ہو سکے گا؟ مستقبل کے طالب علم کے لئے واقعات کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا تو عملا ”ناممکن ہو گا۔ قوی امکان ہے کہ مستقبل میں آج کی رقم کردہ خود نوشت سوانح عمری کا مطالعہ ہمارے زمانے کی تاریخ، کلچر اور فلسفے کی تفہیم میں تبدیل ہو چکا ہو گا۔

اس قیاس آرائی کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سوانح عمری کوئی دوسرا لکھے یا خود نوشت ہو، اسے روزمرہ زندگی کے واقعات سے علیحدہ کر کے فلسفے کی کتاب نہیں بنایا جا سکتا۔ خود نوشت سوانح عمری میں اسلوب اور زبان کے معیار سے اس تحریر کا ادبی مقام تو متعین ہو سکتا ہے مگر صرف زبان دانی کسی تحریر کے بقائے دوام کی ضمانت نہیں۔ خود نوشت سو انح عمری کے کچھ مزید لوازمات ہیں۔

خود نوشت سوانح عمری وہ صنف اظہار ہے جس میں کلچر، تاریخ اور نفسیات باہم ہو جاتے ہے۔ اس کے پیرائے میں ڈرامے کی طرح واقعات کی لڑی ہے جیسے شیکسپئر کے ڈرامے کے کرداروں میں ان کے مکالمے ہیں جن میں چھپے ہوئے معانی ہیں جو تہہ در تہہ ہیں۔ سوانح عمری کا تقاضا بھی یہی ہے۔ سوانح عمری اور بالخصوص خود نوشت میں کلاسک انگریزی ناول جیسا کلچر کا بیانیہ اور حسیات بھی ضروری ہیں اور دوستووسکی کی کہانی کی طرح کرداروں کے نفسیاتی پیچ و خم بھی جس سے خود نوشت سوانح عمری ایک داستان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یوں تو ہر انسان کی زندگی ایک کہانی ہے مگر جب تک کہانی گنجینہ معانی نہ ہو اور کلچر کی حسیات اور نفسیاتی الجھنوں سے عبارت نہ ہو، اس میں میں داستان کی چاشنی پیدا نہیں ہوتی۔

آٹو بائیو گرافی لکھنے میں اور اس پیرائے میں کہانی کہنے کی راہ میں نفسیات کی پر خطر کھائی ہر دم منہ کھلے سامنے کھڑی رہتی ہے۔ اپنی ذات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بالعموم ایک خود نمائی در آتی ہے جس کا سرسری ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔ شاید معمولی خود نمائی کی حد تک تو بات قابل قبول ہو لیکن اگر خود نوشت سوانح عمری نرگسیت کا اشتہار بن جائے اور اس کی مصنوعی چمک دمک انسان کی اصلی ذات کو گہنا دے تو معلوم ہو تا ہے کہ خود آگہی کی منزل دور ہے۔ ایسی خود نوشت سوانح کے ساتھ تو غزل کا وہ مصرع بھی لکھا جا سکتا ہے کہ ”یہاں لاکھ ہم سے نہیں رہے یہاں لاکھ ہم سے گزر گئے“۔

خود نوشت سوانح عمری کی مزید بات کرنے سے پہلے نفسیات کے ایک دو پہلووں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یونانی دیو مالا میں ایک نوجوان کا ذکر ہے جس کا نام ”نارسیصس“ تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اس نے پانی میں اپنی شبیہ دیکھ لی اور خود ہی اپنی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ وہ ہر وقت اپنی شبیہ کو دیکھتا رہتا۔ اس حد تک کہ وہ اپنی شبیہ کو چومنے اور اس سے بغل گیر ہونے کی کوشش میں ندی میں ڈوب کر موت سے جا ہم کنار ہوا۔ انسانی نفسیات کے مطالعے میں سگمنڈ فرائیڈ نے اس اساطیری کردار کو کلیدی طور پر استعمال کیا ہے۔

فرائیڈ کا کہنا ہے کہ نرگسیت وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی توانائی کو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق بنانے کی بجائے اپنی ہی ذات کے اندر منعطف کر تا رہتا ہے۔ یہ ایک بیمار ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ نفسیات کے علم کی ترقی کے ساتھ اس نکتہ نظر کی سوجھ بوجھ آج کے دور میں فرائیڈ سے تھوڑی مختلف ہو چکی ہے۔ آج کل نرگسیت کے حوالے سے اس شخصی انتشار کوسمجھنے میں مدد ملتی ہے جو کبھی بیماری کا روپ بھی دھار لیتا ہے۔

کئی خود نوشت سوانح ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں واقعات کے پردے میں اپنی ذات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کو تھوڑا سا بگاڑ کر مبالغے کی آمیزش کی گئی ہے۔ یہ مبالغہ آرائی بے معنی نہیں۔ نفسیاتی طور پر اس مبالغہ آرائی کا ایک مقصد ہوتا ہے کہ مصنف کی ذات دوسرے انسانوں کے مقابلے میں اور باقی زندگی سے بڑی نظر آنے لگے۔ خود نوشت سوانح عمری کے اس طرز تحریر کو اگر کوئی محقق صرف واقعاتی نظر سے دیکھے تو وہ صرف اتنا ہی سمجھے گا کہ اس تحریر میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش ہے۔

تحقیق کا یہ دائرہ صرف تفشیش تک محدود ہے جو بہت سطحی ہے مگر ہر تحریر کے اندر ایک دوسری تہہ بھی ہوتی ہے جس کا اظہار بین السطور ہو رہا ہوتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے ایسی تحریر در حقیقت مصنف کی اس ناآسودہ خواہش کی تسکین کا بکھیڑا ہے جس میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جس طرح اس کی ذات دوسروں سے اعلی ہے، اسے ویسے ہی ارفع مقام پر فائز نظر بھی آنا چاہیے۔ ایسے مصنف اپنی تحریر میں اپنی ناکامیوں کو گھٹا کر بیان کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار اپنے علاوہ کسی اور کو ٹھہرانے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ لوگ اپنی سوانح عمری میں اپنا مرتبہ دوسروں سے بلند کرنے کا جتن کرتے ہوئے سیاسی بصیرت یا مذہبی پارسائی کا لبادہ اوڑھ لیں۔

یہ تو پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ خودنوشت سوانح عمری کا مطلب ماضی ہے جس سے زندگی کے واقعات کے بارے میں تفکر کا رویہ ضروری ہے۔ یہ ان واقعات کا ذکر جن سے دانائی کشید کی گئی ہو یا مزید کشید کی جا سکے۔ یا یوں کہیے کہ خود نوشت سوانح حیات اپنے ماضی کی ایک لڑی ہے جس میں زندگی کے معنی کو سمجھنے اور اس کی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ خود نوشت سوانح عمری نہ تو اعتراف جرم ہے اور نہ ہی زندگی کا روزنامچہ کہ جسے صحافت کے پیرائے میں لکھا جا سکے۔ اور نہ ہی یہ ذاتی ڈائری ہے۔ خود نوشت سوانح عمری میں تاریخ بھی ہے اور تفکر بھی۔ اس بات کی وضاحت کے لئے ہمیں جرمن فلسفی ہیگل کے فلسفہ تاریخ سے مدد لینی پڑے گی۔

ہیگل نے تاریخ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ واقعاتی تاریخ جسے صحافت بھی کہا جا سکتا ہے، تاریخ بحیثت تفکر اور تاریخ کا فلسفیانہ نکتہ نظر۔ ظاہر ہے کہ سوانح عمری یا خود نوشت سوانح عمری بھی ایک طرح سے تاریخ ہی ہے جس کو ہیگل کے فلسفہ تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کوئی سوانح عمری زندگی کے معنی کی تلاش میں فلسفہ سے ہوتی ہوئی مذہب کے دائرے میں چلی جائے لیکن اس وقت یہ بنیادی موضوع نہیں ہے۔

خود نوشت سوانح عمری میں تفکر کے جس پہلو کی بات ہوئی ہے، اس زاویہ نگاہ سے زندگی کا سارا فہم کارو بار زندگی کے اندر موجود ہے جس کو دریافت کرنے کی سعی آرٹ، سائنس اور فلسفہ میں نظر آتی ہے۔ شاید انسان نے یہ مضامین اسی وجہ سے دریافت کیے یا ان مضامین سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عرفان ذات کی تلاش انسان کے اندر ہی پنہاں ہے۔

تاریخ کے تناظر میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ بے شک تاریخ زندگی کے ایک بڑے دھارے کا نام ہے لیکن تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک شخصیات کے کارناموں سے عبارت یہ ہو۔ یہ بات درست تو ہے مگر کسی بھی انسان کے حادثہء پیدائش کی بنیاد مستقبل کی کوئی تاریخی مجبوری نہیں کہ جسے سوانح عمری میں ڈھالنا ضروری ہو۔ یہ درست ہے کہ سائنس کی بہت سی ایجادات شخصی زندگیوں کی سعیء پیہم کی مرہون منت ہیں جنہیں سوانح عمری کے پیرائے میں پرویا جا سکتا ہے مگر کوئی بھی سائنس دان، آرٹسٹ اور فلسفی بشمول انبیاء کے تاریخ سے باہر پیدا نہیں ہوسکتے۔ انسانیت کے ان سارے رہبروں کی ذات اور ان کے خیالات اس زمانے کی روح عصر کے تحت ہی ترتیب پاتے ہیں۔ یہ ماضی کے جڑے ہو کر بھی مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاریخ کا یہ سفر بنیادی طور پر تو دنیوی ہے مگر اس سمجھ بوجھ میں مذہب کا خاصا مقام ہے۔

اس مقام پر ایک بات کا ذکر ضروری ہے۔ خود نوشت سوانح عمری جسے ہم نے خود شناسی کا عمل کہا ہے، اس نے کلچر اور مذہب کے کیا اثرات قبول کیے۔ مذہب زندگی کے لاینحل مسائل کے بارے میں ہمیشہ سے انسان کی شعوری کاوشات کا حصہ رہا ہے اور کلچر ہر زمانے میں انسان کی مذہبی اور دنیاوی سوچ کا مجسم اظہار ہے۔

مذہبی حوالے سے مسیحی انداز فکر میں ہر انسان کی انفرادیت قائم رہتی ہے اور وہ اسی طرح اپنے ہر خاص و کم کے ساتھ اپنے آپ کو آخر کار خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔ اس کا اظہار مسیحی طرز فکر سے متعلقہ خود نوشت سوانح عمریوں میں ملتا ہے۔ اسلامی طرز معاشرت میں بھی سوانح عمری انسان کا ذاتی پیرایہ اظہار ہے۔ ہندوستان کا معاملہ مختلف ہے۔ کہتے ہیں کہ ہندو ستان کی سب سے پہلی خود نوشت سوانح عمری مہاتما گاندھی کی ہے۔ بجا کہ انہوں نے اردو میں نہیں لکھا مگر یہ سوانح عمری اپنے پیرایہ اظہار میں ہندو مذہب اور ہندوستان کے کلچر میں رچی بسی ہے۔

ہندوستان میں تاریخ یا روح عصر کا نظریہ انفرادی زندگی اور انفرادی روح بھی ہے اور مجموعی روح بھی۔ ہندو مت میں روح کو دو طرح سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک وہ روح جسے آتما کہتے ہیں۔ آتما سے مراد انفرادی روح ہے ؛ اسی کا دوسرا رخ برہما کہلاتا ہے۔ برہما سب حیات، نباتات اور جمادات میں موجود ہے۔ روح کا یہ تصو ر زمان اور مکان سے ارفع ہے۔ مظاہر فطرت بشمول انسان، برہما کی ہی تفہیم ہیں اور اس کی تجسیم آ تما کہلاتی ہے۔

اس فلسفے کے زیر اثر اگر کائنات، حیات اور جمادات اگر برہما ہی ہیں تو انفرادی سوانح عمری لکھنا اور خاص کر خود نوشت سوانح عمری جس سے انفرادیت کا جواز نکلتا ہے، بہت مشکل امر ہے۔ تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے کہ انسان اپنی سوانح میں واقعاتی اعتبار سے سچ کا دامن تھام کے رکھے، خود نمائی سے دور رہے اور باطن ذات سے شناسائی تحریر کا مقصد اولین ٹھہرے۔ اس زاویہ نگاہ سے مسیحی بزرگ سینٹ آگستین کی اپنی لکھی ہوئی سوانح اور مہاتما گاندھی کی خود نوشت جس کا نام ”سچائی کی تلاش میں تجربات“ ہے، اپنی حسیات اور کلچر کے فرق کے باوجود ایک دوسرے سے بہت قریب محسوس ہوتی ہیں۔

ان سوانح عمریوں کو پڑھنے کے بعد بہت آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ خود نوشت سوانح عمری صرف ذاتی تسکین طبع کا باعث ہی نہ ہو، اس میں دوسروں کے لئے ذاتی زندگی کے تجربات سے کشید کردہ معنی کا امرت بھی ہو ورنہ حیات و ممات کے عظیم دھارے میں زندگی تو ہر انسان کی گزر ہی جاتی ہے۔ بقول مرزا رفیع سودا:

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *