کورونا وائرس سے متاثرہ عوام اور مخیرحضرات کا کردار


شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کورونا وائرس طبقاتی اونچ نیچ کی پرواہ کیے بغیرمساوات کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بلا تفریق امیر اور غریب پر حملہ آور ہو رہا ہے، یہ بات امیر اور صاحب ثروت افراد کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ کورونا وائرس سے جہاں امیر لوگ اپنی اور اپنی فیملی کی صحت کے لئے کوشاں ہیں وہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اردگردکے غریب اور مستحق افراد کی صحت اور روزگار کا بھی خیال رکھیں، تاکہ وہ ان حالات میں اپنا گزر اوقات کر سکیں،

دنیا بھر کی طرح کورونا وائرس پاکستان میں بھی اپنے قدم جما کر پھیلنا شروع ہو چکا ہے، ان حالات میں حکومت نے کمزور طبقے کے تحفظ کے لئے معاشی پیکج کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مکمل یا جزوی کریک ڈاون کے دوران روزانہ اجرت پر کام کرنے والے 70 لاکھ کارکنوں کو تین ہزار روپے ماہانہ فی کس مالی امداد دی جائے گی، حکومتی کوششیں اپنی جگہ ”لیکن ہم سب کے ذہنوں میں یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ رقم مستحق افراد پر پہنچ بھی پائے گی یا نہیں اور مستحق طبقہ اس رقم سے مستفید ہوسکے گا یا نہیں،

یہاں میں یہ کہنا چاہوں گی کہ حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ مخیر افراد کو آگے آنا چاہیے، ہمارا دین بھی یہی کہتا ہے کہ سب سے پہلے اپنے قریب ترین لوگوں کی مدد کی جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ آپ کا ہمسایہ کہیں بھوکا نہ سوئے، ہمارے نبی پاک ﷺ کا ا ارشاد ہے کہ وہ شخص ایمان والا نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا ہمسایہ بھوکھا رہ جائے

یہاں مخیر حضرات سے اتنی گزارش ہے کہ اپنی گلی، محلے، بلاک کی ذمہ داری لیتے ہوئے دیکھیں کہ کمزور طبقے سے متعلقہ ایسا کوئی گھر تو نہیں جہاں ضروریات زندگی موجود نہ ہوں، اگر کہیں ایساہے تو آپ حسب توفیق جتنا بھی حصہ ڈال سکیں ڈالیں، یاد رہے کہ اس کمزور طبقے میں نہ صرف دیہاڑی دار مزدور، فیکٹری ورکرز، ملازمین، سیلز مین، ہوم سروس سے جڑے ملازمین، گھریلو ملازمین اور بہت سے سفید پوش افراد کے ساتھ ایسے کرایہ دار لوگ بھی ہیں جومستقل آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکتے، مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دور میں اپنی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہوں کے ساتھ چھٹیاں دیں اور حالات بہتر ہونے پر روزانہ یا اضافی کام کروا کرپیشگی ادا کی گئی اجرت کی رقم پوری کر لیں، مالک مکان کو چاہیے کہ وہ اپنے غریب کرایہ دار سے کرایہ وصول نہ کریں، گھریلو ملازمین کو بھی تنخواہوں کے ساتھ چھٹیاں دی جائیں، مختصر یہ کہ اگر ہر صاحب ثروت افراد اپنے ساتھ جڑے ہوئے محروم طبقے کو اپنی طرف سے مدد فراہم کرے گا توان کا یہ مشکل وقت ہنسی خوشی گزر جائے گا، ایسے اقدامات سے مستحق افراد کی عزت نفس مجروح ہوگی نہ انہیں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر راشن اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء مانگنی پڑیں گی، اور یہی وہ سادہ اور آسان طریقہ امداد ہے جو ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے،

سرمایہ دار طبقے سے ایک آخری گزارش یہ ہے کہ وہ بحران کے اس دور میں روزمرہ زندگی کی اشیاء ذخیرہ کریں نہ مہنگی فروخت کریں، بلکہ اپنا منافع کم رکھ کر عام عوام تک اس کی رسائی آسان بنائیں، یقین مانیں آپ کو منافع کمانے کے اور بہت سے مواقع مل جائیں گے لیکن اللہ کے ہاں اجر کمانے کا موقع آج آپ کے پاس ہے،

Facebook Comments HS