مصلحت کی آڑ میں پنپتے مافیاز


سچائی اور ایمانداری دین اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں، قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو حقوق العباد کا خیال رکھتا ہو، دھوکہ، فریب، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ نہ کرتا ہو، حرام کی کمائی سے بچتا ہو اور حلال و حرام اشیاء میں تمیز کرتا ہو، لیکن افسوس کہ ہم میں وہ تمام برائیاں سرایت کر چکی ہیں جن سے ہمیں اللہ تعالی اور اس کے پیارے نبی رسول پاک ﷺ ؐ نے منع فرمایاہے، ہم اسلامی تعلیمات کو یکسر فراموش کر کے ہوس زر اور فرضی مرتبہ کے حصول کے لئے شیطان کے جال میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔

ہم اپنے ہی لوگوں کو ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کر نے کے ساتھ حرام، بیمار اور مردار جانوروں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اورناپ تول میں کمی ہمارا وتیرہ بن چکا ہے، ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو چند روپے بنانے کی خاطر اشیاء کا ذخیرہ کر کے پریشانی اور ذہنی اذیت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر مسلم ممالک میں یہ برائیاں موجود ہی نہیں، وہاں ذخیرہ اندوز اور ملاوٹ کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جاتا ہے، جبکہ ہمارے وطن عزیز میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث کالی بھیڑیں سزاؤں سے بچ جاتی ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان میں قانون و انصاف امیر اور غریب کے لئے مختلف ہے، اسی وجہ سے قانونی شکنی کے رجحان کو فروغ مل رہا ہے۔ ہر شخص اپنے تئیں خود مختار بنا بیٹھا ہے، دولت کے حصول کی حرص میں جس کے بس میں جو آتا ہے بغیر کسی روک ٹوٹ کے کر گزر رہا ہے، اس سے قطع نظر کہ اس کا عمل کتنا ہی غیر قانونی و غیر اخلاقی کیوں نہ ہو، ملک بھر میں ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، بیمار اور مردار جانوروں کی فروخت کا دھندہ اپنے عروج پر ہے اور اصلی و ملاوٹی اشیاء میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ انتطامیہ خاموش تماشیائی بنی سب کچھ ہوتا دیکھ رہی ہے۔

عوام کی صحت، تعلیم اور اُن کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمے داری ہے، لیکن اگر ہمارے ملک میں ان تینوں شعبوں کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال انتہائی افسوس ناک دکھائی دیتی ہے۔ صارفین کو پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ جو کچھ وہ کھا رہے ہیں یا خرید رہے ہیں، اس قابل ہے کہ اُسے کھانے پینے کے لئے استعمال کیا جاسکے؟ گلی، محلے، بازار تو ایک طرف تعلیمی اداروں کے باہر شکرین ملا شربت اور گندے گولے فروخت ہو رہے ہیں، حتا کہ ملاوٹ زدہ دودھ سے معصوم بچوں کی صحت تباہ کی جارہی ہے۔

دکانوں پر پان، گٹکے کی نت نئی اقسام کھلے عام فروخت ہورہی ہیں جن سے نوجوان نسل بڑی تیزی سے بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہے۔ اسپتالوں میں جائیں تو کئی نوجوان مضرِصحت اشیاء استعمال کر کے زندگی کی آخری سانسیں لیتے دکھائی دیتے ہیں، اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے مضر صحت اشیاء کی فروخت روکنے میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

آخر حکومت کب اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حرکت میں آئے گی اور کب عوام کو اصلی صاف شفاف اشیاء کھانے کو میسر آئیں گی۔ عوام ایسے متعدد خواب آنکھوں میں سجائے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں، مگرحکمرانوں کی ترجیح عوام کے مسائل کے تدارک کی بجائے بار بار حصول اقتدار رہا ہے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پستے رہیں یا ملاوٹ زدہ اشیاء کھا کر موت کو گلے لگاتے رہیں، اُنہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو بھی آئے ڈیڑھ سال ہو گیا ہے، مگر عوام تو وزیر اعظم کے گھبرانہ نہیں کے لالی پاپ کے سہارے ایک کے بعد ایک بحران بھگت رہے ہیں۔

عوام کی قسمت میں اچھے دنوں کی آس واُمید کے سواتو کچھ بھی نہیں ہے، اسی شدت انتظار میں رمضان کی آمد آمد ہے، اس مقدس مہینے میں ویسے ہی اشیاء خوردونوش کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ اس موقع پر ایک طرف ذخیرہ اندوز موقع کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ ناقص اشیاء فروخت کر کے عوام کی بے بسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہر سال رمضان المبارک سے قبل قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام تک خالص اشیاء کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن آخر میں ہوتا وہی ہے جو ہمیشہ سے دیکھتے آ رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے اور اس میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ترمیمی آرڈیننس پر ایمانداری اور خلوص نیت سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اگر اس قانو سازی کے بعد بھی سیاسی و سماجی مصلحتیں آڑے آگئیں تو اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو اس سے پہلے قوانین کا ہوا ہے۔ ملک میں ذخیرہ اندوزی سے لے کر ملاوٹ مافیا کی من مانیاں تک سب انتطامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف بلا تفریق، خوف و خطر جب تک قانون کی عملداری کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، مثبت نتائج کی توقع کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کی کئی مہم جوئی شروع کی گئیں تھی، لیکن وہ اس لئے ناکام ہوئی کہ چھوٹی مچھلیوں کو پکڑنے اور چھوڑنے کا کھیل کھیلا جاتا رہا اور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا، بلکہ انہیں اپنے چھتر چھائے میں تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے۔

یہ امر باعث شرم ہے کہ ایک طرف عوام کورونا وائرس کے عذاب سے گزرہے ہیں تو دوسری جانب ذخیرہ اندوز اور ملاوٹ مافیا سر گرم عمل ہیں، جبکہ انتطامیہ بے حسی کی تصویر انجان بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ دور حکومتوں میں ملاوٹ مافیا کے خلاف مہم جوئی کے دعوؤں کی طرح موجودہ حکومت بھی یقین دہانی کروارہی ہے کہ چھوٹے دکانداروں کے ساتھ ساتھ ملاوٹ کرنے والی بڑی جگہوں کی نشاندہی کر کے وہاں بھی چھاپے مارے جائیں گے اور اس انسانیت دشمن کاروبار میں ملوث افراد کو بلا تفریق نہ صرف پابند سلاسل کیا جائے گا، بلکہ قانون کے مطابق انہیں سخت سزائیں بھی دی جائیں گی۔

ہر دور حکومت میں ملاوٹ کے خلاف مہم چلاتے وقت یہی باتیں کی جاتی رہی ہیں، مگر انتظامیہ نے ہمیشہ اپنی دوغلی پا لیسی سے حکومتی دعوؤں کوناکام بنایا ہے۔ عوام ایسی باتیں سننے کے عادی ہو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود تحریک انصاف حکومت سے پرُاُمید ہیں کہ وہ تبدیلی کے نعرے کو عملی شکل میں لانے میں کا میاب ہو جائے گی، اگر چہ اس وقت کورونا وائرس وبا کے مقابلے میں مصروف حکومتی عہدارین کے لئے دیگر عوامی مسائل کی جانب توجہ مبزول کرنا مشکل ہے، مگر یہ مسئلے ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور انہیں کسی سیاسی و سماجی مصلحت کی نظرنہیں ہو نا چاہیے، کیو نکہ ان کے مشترکہ تدارک سے ہی عوام کو حقیقی رلیف مل سکتا ہے۔

Facebook Comments HS