آخر حامد میر ہی کیوں نشانے پر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری کوئی اتنی زیادہ عمر ہے اور نہ کوئی زیادہ تجربہ لیکن جو تھوڑا بہت پڑھا ہے اور اپنے سنئیر صحافیوں سے سنا ہے پاکستان میں شاید ہی کبھی کسی منتخب جمہوری حکومت میں صحافی اتنے مشکل حالات سے گزرے ہوں گے جن کا آج کل انہیں سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔

بظاہر حکومت کی چھتری تلے صحافیوں کو سوشل میڈیا پر بدنام کیا جارہا، سینکڑوں صحافیوں کا معاشی قتل عام کیا گیا اور تو اور اب ان کی گرفتاری سے بھی دریغ نہیں کیا جارہا۔

ہم نے مارشل لائی دور کے قصے بھی سن رکھے ہیں، ان واقعات کے بارے میں بھی علم ہے جب اخبارات بغیر خبروں کے شائع ہوتے تھے۔ لیکن اگر اس دور اور موجودہ حالات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شاید مارشلائی دور اپ کو اچھا لگے کیونکہ اگر اس زمانے میں کوڑے مارے جاتے تھے تو آج اس سے بڑھ کر نہ صرف صحافی دن دہاڑے حملوں کے زد میں ہیں بلکہ ان کے خلاف حکومتی مشنری کا کھلے عام استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں کئی بار ایسا ہوا کہ ٹیلی ویژن چینلز کے لائیو ٹرانسمیشن روک دی گئی، ٹیلی وی پر اگر کوئی ایسا پرومو یا مواد چلتا ہے جس میں حکو مت کے خلاف کوئی بات ہورہی ہو تو دوسرے دن پورا پروگرام ہی روک لیا جاتا ہے بلکہ بعض واقعات میں تو ہم نے یہاں تک دیکھا کہ حکومتی اداروں کی مدد سے ٹیلی ویژن چینلز کے سکرین ہی بلیک کردیئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں اس وقت بدترین سنسر شپ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ طاقت ور اداروں کے بارے میں ایک لفظ کوئی لکھ سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے ورنہ نتائج کا مجھ سمیت سب کو بخوبی اندازہ ہے۔

میر شکیل الرحمان کو حال ہی میں نیب کی طرف سے بیس سال پرانے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ وجہ شاید یہی ہے کہ ملک کے ایک سب سے بڑے اور موثر چینل کو رام کرنا ہے۔ اس سے پہلے بھی جیو چینل جن حالات سے گزرا سب جانتے ہیں۔ چھ سال پہلے جب سنئیر صحافی حامد میر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد سے یہ چینل کئی برسوں سے مسلسل زیر عتاب رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان آج اقتدار میں ہیں لیکن جب وہ اپوزیشن میں تھے تو اس وقت بھی اپنے عوامی جلسوں میں جیو ٹی وی کے مالک کو للکار کر پکارا کرتے تھے جس سے اب یہ شک یقین میں بدل رہا ہے کہ شاید خان صاحب پہلے سے ہی اس چینل سے نالاں تھے اور گرفتاری کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہی ایک بات ہے۔

لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں انہیں بھی نہیں بخشا جارہا۔ ان میں بالخصوص حامد میر نشانے پر سرفہرست ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسا مہینہ گزرا ہوگا جس میں سوشل میڈیا پر حامد میر کے خلاف کوئی ٹرینڈ نہ بنایا گیا ہو۔ ہر مہینے دو میں انہیں کسی نہ کسی ایشو میں گھسیٹ کر ان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ کا میدان بے دریغ استعمال کیا جارہا۔ گزشتہ روز بھی روزنامہ جنگ میں ان کے ایک کالم کے شائع پر ہونے انہیں ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ اس کالم میں حکومت یا عمران خان کے خلاف کوئی ایسی بات بھی نہیں تھی لیکن پھر ان کے نام سے ایک ٹرینڈ دو دنوں تک چلتا رہا جس میں ان کے خلاف انتہائی قابل اعتراض اور ناروا زبان کا استعمال کیا گیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حامد میر ہی کیوں نشانے پر ہیں، کیا اس کی وجہ حکومت پر تنقید ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ بھی ہوسکتی ہے؟
خود حامد میر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ چونکہ آج کل وہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ پیش پیش ہیں تو شاید اس وجہ سے حکومت اس بات سے نالاں نظر آتی ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے میں مسلسل حامد میر کے کالمز اور پرگرام دیکھتا آیا ہوں۔ وہ زیادہ تر ان حساس موضوعات پر لکھتے یا پروگرام کرتے رہے ہیں جن پر عام طور پر پاکستان میں لکھنا آسان نہیں سمجھا جاتا یا با الفاظ دیگر ان پر لکھنا دل گردے کا کام قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے کالمز بیشتر اوقات لاپتہ آفراد، میڈیا کی آزادی، سنسر شپ، ججوں کے خلاف کیسز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہوتے ہیں اور ان موضوعات کی حساسیت کا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ شاید مجھ سمیت زیادہ تر صحافی ان موضوعات کو کسی مصلحت کی وجہ سے ٹچ نہیں کررہے لیکن شاید حامد میر کے لیے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم زیادہ تر صحافی ان کی موقف کی تائید ضرور کرتے ہیں۔

لیکن اس کے علاوہ بھی ایک ایسے صحافی جس کے ٹویٹر پر ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ فالورز ہوں ان کے خلاف بے بنیاد ٹرینڈ چلانے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا بلکہ سنجیدہ حلقوں میں الٹا مخالفین کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ حامد میر پاکستان کے پہلے صحافی اور ملک کی تیسرے شخصیت ہیں جنہیں ٹویٹر کی دنیا میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ دیگر دو مقبول ترین شخصیات میں عمران خان اور اسد عمر شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *