اہلیہ کی بے ساختہ خوشی: قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے خوف نے انسان کو گھروں ہسپتالوں اور کونے کھدروں میں چھپنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کو گلے ملنا، ہاتھ ملانا، بچوں کا منہ چومنا اور بیگمات، گرل اور بوائے فرینڈ سے ملنا تک ختم ہو گیا ہے۔ بھائی، بھائی کو اور ماں اپنے بچوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہے۔ آلات زر یعنی سٹاک مارکیٹس ڈوبتی جارہی ہیں۔ کروڑوں ڈالر کمانے والی ایرلائینز، بس، وین اور ٹیکسی سروس بند ہے۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکل نہیں چل رہے تو پٹرول نہیں بک رہا اور پٹرول کمپنیاں ڈوبنے والی ہیں۔ عبادت گاہیں، مندر، کلیسا اور مسجدیں بند ہو گئی ہیں۔ مسجد نبوی اور حرم شریف تک بند ہوئے پڑے ہیں۔ کہتے ہیں یہ قرب قیامت کی نشانی ہے۔

بڑے بڑے حکمران اس موذی مرض کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ کسی ملک کے وزیر، تو، کسی کے مشیر، اس مرض کا شکار ہو چکے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو نکلا۔ برطانیہ کے ہونے والے تاجدار پرنس چارلس بھی اس کا شکار ہوئے اور ملکہ برطانیہ اپنے ہی بیٹے سے کہیں دور کسی محل میں چھپنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

میرا المیہ بیماری نہیں۔ میں خود ڈاکٹر ہوں۔ میں بیماری کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ بیماری کی ابتدا سے انتہا تک ساری علامات سے واقف ہوں۔ سینکڑوں لوگوں کواس بیماری سے بچنے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے طریقے بتا چکا ہوں۔ گھروں میں، دفتروں اور کارخانوں میں وائرس سے بچاؤ کی درجنوں ورکشاپس کر چکا ہوں، لیکن اب میں گھر میں قید ہوں۔ مجھے کسی نے سزا میں قید نہیں کیا، نہ کسی نے مجھ پر تشدد کرکے قید کیا ہے، بلکہ میں نے خود اپنے آپ کو قید کر لیا ہے۔ میڈیکل کی زبان میں اسے کوارنٹین کہتے ہیں۔ میں سیلف کوارنٹین میں چلا گیا ہوں۔

کچھ دن پہلے، میرے آفس کے، میرے ہی خدمتگار کو کھانسی لگ گئی۔ پہلے دن میں نے غور نہیں کیا۔ میں ڈبل ماسک لگا کر دفتر جاتاہوں، اگرچہ مجھے پتہ ہے، یہ ماسک وائرس کو ناک میں گھسنے سے نہیں روک سکتے۔ دفتر میں ملنے والے کسی بھی شخص سے چھ فٹ فاصلہ رکھتا ہوں۔ دوسرے دن میرے چپڑاسی نے پھر میرے سامنے کھانسی کی، تو میں نے اس سے بیماری کی تفصیل پوچھی۔ اس کو رات بخار ہوا تھا۔ اس کے گلے میں خراش اور خشک کھانسی ہوئی تھی۔

اس کو پچھلے دو ہفتے میں کوئی ایرانی، سپینی یا اٹالین نہیں ملا تھا نہ اس کا کوئی رشتہ دار عمرہ کرکے آیا تھا، پھر بھی مجھے کرونا کا شک ہو گیا۔ میں نے اس کو چھٹی دے دی۔ وہ تو خوشی خوشی چلا گیا، لیکن مجھے ایک ایسے وہم میں ڈال گیا، جس نے میرا جینا دشوار کر دیا۔ مجھے شک ہو گیا کہ اس کو کرونا ہے۔ اور یہ بیماری مجھے بھی ہو جائے گی۔ میں ڈر کے مارے دفتر سے گھر منتقل ہو گیا۔ میں روزانہ فون کرکے اپنے چپڑاسی کی طبیعت کا پتہ کرتا۔

اس سے پوچھتا ”بخار تو نہیں ہوا، کھانسی خشک ہے یا بلغم والی، سانس گھٹ گھٹ کر تو نہیں آرہا۔ “ دوتین دن کی کھانسی کے بعد اس کی طبیعت بہتر ہو گئی۔ میں نے اسے کرونا ٹیسٹ کرانے کو کہا، وہ غائب ہو گیا۔ اس نے اندازہ لگا لیا ہوگا، کرونا کی تشخیص ہوتے ہی اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ یہ بات بھی قابل برداشت تھی۔ کل صبح، لیکن جب میں سو کر اٹھا تو میرے گلے میں خراش ہو رہی تھی۔ بس میرے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ اب مجھے شک پڑگیا کہ اس خدمتگار کو کرونا ہوا تھا اور اس سے وائرس مجھے منتقل ہوا ہے۔

میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ میں گھر کا بھیدی ہوں، مجھے اپنے ہسپتالوں کا پوری طرح علم ہے۔ یہ ہسپتال اتنے گندے ہیں کہ یہاں ایمرجنسی میں کچھ وقت تو گزارا جا سکتا ہے مگر پندرہ دن سماجی رابطے منقطع کرکے، یہاں رہنا، تقریباً ڈیتھ سیل میں رہنے کے مترادف ہے۔ میں نے اپنے گھر کی دوسری منزل پر موجود گیسٹ روم، جو مکمل طور پر علیحدہ ہے، منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے اپنے لئے ٹشو بکس، سنیٹائزر اور بسکٹ وغیرہ کا ذخیرہ کرلیا۔

میں نہیں چاہتا تھا، کسی کو میری وجہ سے وائرس منتقل ہو۔ ناشتے کا وقت آیا تو بیگم تلاش کرتی کرتی اوپر آئی۔ میرا یہ کمرہ میری لائبریری بھی ہے اور بوقت ضرورت گیسٹ روم بھی۔ اس نے سمجھا میں کوئی کتاب لینے آیا ہوں۔ میں نے کہا ناشتہ اوپر بھیج دو تو وہ حیران ہوئی، کہ اس سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اس کمرے میں ناشتا منگایا ہو۔ بیگم ناشتا کرانے ساتھ بیٹھ گئی، میں نے اسے کہا، آپ نیچے جائیں میں ناشتہ کرلوں گا۔

وہ چلی گئی۔ ناشتے کے بعد میں نے سارے برتن صابن وغیرہ سے دھوئے اور باہر دھوپ میں رکھ دیے۔ بیگم کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میرے برتن خود دھونے کا واقعہ زندگی میں پہلی بار پیش آیا تھا۔ وہ حیران تھی۔ ایسا کبھی ہوا نہیں تھا، اس لئے بیگم کا اصرار اور تجسس بڑھتا جارہا تھا۔ میری بے چینی بھی بڑھ رہی تھی۔ میں اس کو بتانا نہیں چاہتا تھا اور وہ جانے بغیر رہ نہیں سکتی تھی۔ آخر میں نے بیگم کو صاف صاف بتانے کا فیصلہ کر لیا۔

میں نے اسے سمجھایا کہ میں نہیں چاہتا، میری وجہ سے آپ کو یہ بیماری منتقل ہو۔ پہلے تو وہ پریشان ہوئی پھر میری بات مانتے ہوئے صابن سے ہاتھ دھوئے، ماسک پہنا اور نیچے چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں بھائی جان آ گئے۔ وہ مذہبی آدمی ہیں۔ بیگم نے شاید انہیں بتا دیا تھا۔ آتے ہی میرا ماتھا چوما، دعائیں دیں اور اللہ پر بھروسا کرنے اور کثرت سے استغفار کرنے کو کہا۔ میں نے بڑی مشکل سے واپسی پر ان کے ہاتھوں پر سینیٹائزر لگایا۔

شام تک دس ملاقاتی آئے، ہر بار ملاقاتی اور بیگم کے صابن سے ہاتھ دھلوا کر بھیجا۔ ہاتھ دھو دھو کر بیگم کے ہاتھ اکڑ چکے تھے۔ شام کو اس نے اتنی التجائیں کیں کہ مجھے نیچے آنا پڑا۔ اس دوران چار دفعہ مجھے دارچینی والی چائے پلائی گئی، دو دفعہ بیگم کی محبت میں گرم پانی پیا، دو دفعہ بھاپ لی، چار پانچ دفعہ ہاتھوں پر ڈسپوزایبل دستانے چڑھائے، جو بھی چیز کھائی، اپنے برتن خود دھوئے۔ شام تک بیگم نے تین بار گھر کے تمام فرش سرف اور ڈیٹول کے پانی سے دھوئے۔

رات تک میری اور بیگم کی بس ہو گئی۔ کہنے لگی نیچے آجاؤ۔ میں نے کہا میں کوشش کر رہا ہوں میری وجہ سے آپ کو بیماری نہ آئے۔ میں نے کہا تم نے اتنے سال مجھے جتنی محبت دی ہے، میں اس کا شکر گزار ہوں۔ میں خوش نصیب ہوں، تم جیسی محبت کرنے والی بیوی ملی۔ وہ رونے لگ گئی۔ کہنے لگی آپ کی وجہ سے جو بھی بیماری لگے، مجھے وہ قبول ہے۔ میں آپ کے ساتھ جینا اور ساتھ ہی مرنا چاہتی ہوں۔ بس تم میرے ساتھ رہو۔

ہم بہت دیر تک، شادی سے پہلے کی محبت اور شادی کے بعد کی تلخیوں کو یاد کرتے رہے۔ بچوں سے فون پر باتیں کیں۔ ہمارے بچے اگرچہ خود کفیل ہیں لیکن ہم نے اس رات ان کوکافی سارے پیسے ٹرانسفر کیے۔ ہم نے ایک دوسرے سے معافی مانگی اور نیند کی دو دو گولیں کھا کر سو گئے۔ آج صبح بارہ بجے میری آنکھ کھلی ہے۔ بیگم ابھی سوئی ہوئی ہے۔ میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ نہ مجھے بیماری کا خوف ہے نہ ہہی کسی اور چیز کا۔ میرا گلا بھی ٹھیک ہے، ذرا بھی خراش نہیں نہ ہی کھانسی آئی ہے نہ بخار ہوا ہے۔ میں نے بیگم کو اٹھایا ہے۔ اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی، میں نے زندگی میں پہلی بار اس کے لئے ناشتہ بنایا ہے۔ ہم اکٹھے ناشتہ کر رہے ہیں۔ میں نے زندگی میں پہلی بار اس کے چہرے پر جس طرح کی شادابی اور شگفتگی دیکھی ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ یہ بھی تو قرب قیامت کی نشانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply