چین کی کامیاب کورونا پالیسی اور جہاز والے اینکر کا بے بنیاد تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ھمارا یہ ماننا ہے کہ اگر آپ خود کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دوسروں کو کامیاب ہونے میں ان کی مدد کریں۔ جب باقی لوگ کامیاب ہوں گے تو وہ آپ کو کامیاب ہونے میں آپ کی مدد کریں گے“۔ یہ وہ الفاظ تھے جو دوران کلاس ایک چائینیز کلچر کی ٹیچر کی طرف سے کلاس کے دوران ہم شاگردوں کو بتائے گئے تھے۔ یہ الفاظ اس ملک میں دوران کلاس کہے گئے جو اس وقت COVID۔ 19 کی وبائی بیماری کی لپیٹ میں ہے۔

چائنہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ ملک دوسرے ملکوں پر غاصبانہ قبضے اور جنگ و جدل سے دور رہا ہے جن حضرات کو اس ملک میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ اس ملک کی ثقافت میں مثبت پہلو زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس سرزمین کے افراد جسمانی طور پر تو چاق و چوبند ہیں مگر ذہنی صلاحیتوں میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ اپنے کام سے لگاؤ؛ دیانتداری اور محنت کی وجہ سے اس قوم کا پرچم پوری دنیا میں سربلند ہوا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں منفرد مقام رکھنے کی وجہ سے دنیا کی معیشت کا پہیہ چلانے میں چائنہ کا بنیادی کردار رہا ہے۔ بدقسمتی سے ایک امن پسند ملک ہونے کے باوجود چائنہ کو بیرونی سازشوں کا سامنا رہا ہے جس کا اس نے ہمیشہ بھرپور مقابلہ کیا۔

اس کی موجودہ مثال چائنہ میں آنے والا COVID۔ 19 وبائی مرض ہے۔ جس نے نہ صرف چائنہ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چائنہ میں سب سے پہلے رپورٹ ہونے والے وبائی وائرس نے ہزاروں انسانوں کی زندگیوں کے دیے بجھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی وبائی مرض دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بہت تیزی سے پھیل گیا جہاں اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

چائنہ نے صحت کی جدید سہولیات ہونے کے باوجود موجودہ مرض کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل نظربندی کا اعلان کیا جس پر اس سے یورپ کے بیشتر ممالک بشمول امریکا سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان سب مشکلات کے باوجود چینی قوم نے تاریخ میں ایک بار پھر اپنے مہذب ہونے کا ثبوت دیا۔ اپنے ملک کی سلامتی اور لوگوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے روزمرہ کے تمام کام معطل کر کے گھروں تک محدود ہوگئے۔ ایک ذمے دار قوم کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مہینوں سے اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ اس نظربندی کے عالم میں بھی اس ملک کے عوام کو روزمرہ کی ضروریات خورونوش بغیر کسی رکاوٹ کے فراہم ہوتی رہیں۔ اشیا کی قیمتوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

کوئی ذخیرہ اندوزی دیکھنے اور سننے میں نہیں آئی۔ کسی بدنظمی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ عوام کو نظربند کرنے کے لیے کسی پولیس یا سیکیورٹی اداروں کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ حکومت کی ایک درخواست پر عوام نے بھرپور تعاون کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں نے منظم طریقے سے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی عوام کی صحت و سلامتی کے لیے دن رات کام کیا۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور اس وبائی مرض کو روکنے کے لیے کارآمد لوگوں نے دن رات ایک کرکے اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کیا۔

تمام تر قربانیوں اور مشکلات کے بعد چائنہ نے اس بیماری کے جن کو تقریباً قابو کرلیا ہے۔ اس بیماری کے جنم لیتے ہی اس ملک پر طرح طرح کے الزامات لگنے لگے۔ کسی نے اس کی وجہ جنگلی جانوروں کو بتایا تو کسی نے اس کو خود ساختہ وائرس کا نام دیا۔ دنیا کے تمام ممالک بشمول امریکا نے اس بیماری کی وجہ چائنہ کو ٹھرایا۔

چائنہ نے اپنی مستحکم اور منظم پالیسیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کو اپنے ملک میں چھوٹے پیمانے پر محدود کر دیا۔ میڈیا رپورٹز اور مجھے چائنہ میں رہتے ہوئے اس ملک کی صورتحال بہت بہتر ہوچکی ہے اور زندگی معمول کی طرف آرہی ہے۔

جبکہ امریکا جیسا ملک اس بیماری کی انتہا پر پہنچ چکا ہے اور مدد کے لیے چائنہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ صورتحال کنٹرول کرنے کے باوجود تنقید کی توپوں کا رخ چائنہ کی طرف ہے۔

پاکستان کا دوست ملک ہونے کے باوجود پاکستان کے ہی کچھ اینکرپرسن چائنہ کے خلاف بولنے سے باز نہیں آتے۔ ”جس تھالی میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے ہیں کہ مصداق کچھ حضرات بغیر تحقیق اور تصدیق کے اپنے گمراہ کن فورم پر عالمی صحت جیسے نازق معاملے پر بولنے سے باز نہیں آتے۔ عالمی ادارہ صحت کے ممبران تمام ممالک کو بارحہ اس بات کی طرف توجہ دلاتے رہے کہ اس وبائی مرض سے افرادِ عالم کی صحت کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔

وقت نے یہ بات ثابت بھی کی کہ جو قومیں ہر چیز بشمول بیماری جیسے تکلیف دہ مسئلے کا بھی مذاق اڑائیں تو وہ خود بھی ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہیں۔ جن ممالک نے COVID۔ 19 کے خطرے کو سنجیدگی سے محسوس نہیں کیا انہوں نے نقصان اٹھایا۔ پہلے چائنہ کو اس وبائی مرض کے ابھرنے پر موردِ الزام ٹھرایا گیا۔ پھر اس مرض کو قابو پانے کے باوجود بھی اس کو اس مرض کی ابتدا کے حوالے سے شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

سائنسدان اب ابھی تک اس بیماری کی ابتدا اور اس کی وجوہات جاننے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جب تک تحقیق سے کوئی حتی بات سامنے نہیں آتی تب تک کسی بھی میڈیا پرسن یا اینکر پرسن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بنا تصدیق لوگوں میں اس وبا متعلق خوف و حراس پیدا کرے یا پھر اپنی من گھڑت سوچ یا پھر جھوٹے تجزیے سے کسی ملک کو بدنام کرے۔

اس وائرس کا کوئی مذہب کوئی قائدہ کوئی قومیت یا پہچان نہیں ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا وقت ہے۔ اس مشکل وقت میں بھی اگر آپ اپنے آپ کو اور اپنی کوتاہیوں، کمی کو نا پہچان سکیں تو آپ زندگی میں اپنی اصلاح کے کسی موقعے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم ایک عرصے سے اپنے قوم ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ابھی تک اس بات کو ثابت نہیں کرسکے۔ ہر موقعے پر اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بے قابو گھوڑے کی طرح ٹانگیں مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ موت کو اپنے سامنے دیکھتے ہوئے بھی یہ ماننے سے انکاری ہیں کہ یہ ہمارے لیے آئی ہے۔

ان سب باتوں سے قطع نظر ہم اتنے کم ظرف ہوچکے ہیں کہ ہمارے بعد قائم ہونے والا ملک آج ترقی کی منزلوں کو چھو رہا ہے اور ہماری تنزلی کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنی اصلاح تو درکنار چائنہ جیسے ترقی یافتہ ملک کی کامیابی کو بھی تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ عوام اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور نبھانے کے لیے تیار نہیں اور اپنے سے کئی گنا قابل ملکوں اور حکومتوں پر تنقید کرنے کے لیے پیش پیش ہیں۔

بل گیٹس، عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر اور نیویارک ٹائمز کے سائنس اور ہیلتھ رپورٹر ڈونلڈ مک نیل جیسی شخصیات چائنہ کی صلاحیتوں کے گن گا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر موجودہ وبائی مرض کو قابو کرنے کے لیے چائنہ کی تدابیر سے لے کر صحت کے آلات تک بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بشمول امریکا COVID۔ 19 کے سامنے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اس وائرس کا مرکزی شہر ووہان اپنی رونقیں بحال کرنے لگا ہے جو کہ چائنہ کی اس وبا کے خلاف ابتدائی فتح ہے۔ اسی شہر ووہان سے مورخہ 28 مارچ 2020 کو یورپ کے لیے طبی امداد سے لیس ٹرین روانہ کی گئی جوکہ چائنہ کی طرف اٹھنے والی تنقیدی نگاہوں کو جھکا نے کے لیے کافی ہے۔

تمام ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کی قیادت اس مشکل وقت میں چائنہ کی کوششوں اور انتھک محنت کو سراہتے ہوئے اسے داد دینے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں کچھ نام نہاد اینکر پرسن یا میڈیا پرسن بلا تصدیق کے عالمی صحت کے مسئلے پر پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ حالیہ غیر یقینی کیفیت میں گمراہ کرنے والے عناصر کو قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس وبائی مرض کا سدباب کرنے کے لیے حکومت سندھ کی بروقت کوششیں قابل تحسین ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ صحت کی سہولتوں کے لیے پیش پیش نظر آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز، نرسز، افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور سیکیورٹی کے تمام اداروں کی خدمات بھی قابل تعریف ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناتے تمام شہریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس وبائی مرض کو جلد سے جلد ختم کیا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *