کرونا، مذہب اور سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا سے متعلق باقی مباحث اپنی جگہ لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وبا نے مذہب اور سائنس کے حوالے سے ہمارے بہت سے عقائد اور افعال کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک معمولی اور بظاھر بے جان سے ذرے نے سائنس کے دعوؤں اور ہمارے عقیدوں کی عمارتوں کو جس بے رحمی سے جھنجوڑا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ مذہب سے بنی نوع انسان کا ہزاروں سال پرانا اور گہرا تعلق ہے لیکن سائنس سے جدید طرز پر شناسائی محض کچھ صدیوں پہلے استوار ہونا شروع ہوئی۔ بلاشبہ ان دونوں کے مابین تضادات، کبھی جنگوں اور تصادم کی وجہ بنے اور کبھی طاقت کے حصول کی نہ ختم ہونے والی کشمکش کا اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی حوالے سے جاری ہے۔ سائنس اور مذہب انسانی معاشرت کے وہ دو پہیے ہیں جن میں آپس میں کوئی مسابقت نہیں اور دونوں انسانی اعلیٰ انسانی اقدار کے حوالے سے لازم و ملزوم ہیں۔ کرونا کے بعد کی دنیا ہمیں یہ موقع فراہم کرے گی کہ ہم سائنس اور مذہب دونوں کو ایک سلجھے ہوئے، شفاف انداز میں دیکھنے کی لیاقت پیدا کریں جیسے طوفان گرد و باراں کے بعد دھول میں اٹے پڑے شجر دھل جاتے ہیں اور سارا منظر پہلے سے کہیں زیادہ نکھر جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں اہل عقیدت نے کرونا کے حوالے سے چین پر پہلا حملہ تب کیا جب وائرس کے پھیلنے کی اولین وجہ حرام جانوروں، سانپ، چمگادڑوں وغیرہ کے کھانے کو گردانا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نہایت چابک دستی سے سنکیانگ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے ڈانڈے بھی اس وبا سے ملا دیے گئے۔ اندھی مذہبی عقیدت میں گندھا ہوا یہ نظریہ شاید پاکستانیوں میں مزید تقویت پکڑ لیتا اگر کچھ ہی دنوں میں کرونا کا وائرس ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہوا عین مسیحیت کے گڑھ اٹلی نہ جا پہنچتا۔

تھوڑے دنوں بعد ہمارے مذہبی عقیدوں میں ایک نیا ارتعاش اس وقت پیدا ہوا جب خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے خالی ہونے کی تصاویر گردش کرنے لگیں۔ عام مسلمان تو اپنی جگہ کچھ اہل علم نے بھی اس کی ایسی تشریحات کی کہ بیچارہ پاکستانی مسلمان جو پہلے ہی سہما سہما ہوا تھا مزید ڈر گیا۔ نہ جانے ہم مسلمانوں کو یہ غلط فہمی کب سے لاحق ہو گئی کہ خدا کے گھر اور نبی پاک کے مقدس روضے کی رونق اور رعنائی ہمارے دم قدم سے ہے اور اگر ان جگہوں پر انسانوں کے ہجوم میں کوئی کمی بیشی کسی وجہ سے واقع ہوتی ہے تو خدا نخواستہ ان مقدس مقامات کی حرمت، تکریم اور تقدس کو اس سے کچھ فرق پڑتا ہے۔

اندھی مذہبی عقیدت نے اس وقت مزید ایک کروٹ لی جب خانہ کعبہ کے اوپر اڑتے ہوئے پرندوں کے ایک غول کو یہ کہ کر بار بار ٹی وی پر دکھایا گیا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ معاملہ چونکہ حرم کعبہ کا تھا لہذا عام پاکستانی مسلمان خاموشی سے عقیدت بھری نگاہوں سے یہ منظر دیکھ کر اپنے ایمان کو تازہ کرتا رہا۔ تو کیا رب کائنات نے اشرف المخلوقات کی بجاے یک دم پرندوں کو اپنی اس عبادت کے لئے چن لیا اور کیا اب وہاں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی بجاے چرند، پرند، طواف اور حج کا فریضہ انجام دینے آیا کریں گے۔

وہ انسان جسے فرشتوں نے خدا کے حکم پر سجدہ کیا اور جس کو سب مخلوقات سے بہتر کہا گیا وہ مکہ کے کبوتروں سے بھی حقیر ہو گیا؟ کیا انسان کو جنت کی طرح بیت اللہ سے بھی نکل جانے کا حکم مل گیا؟ ہرگز نہیں، اس عقیدت میں لپٹی ہوئی جہالت کو پھیلانے کا ذمے دار وہ برقی میڈیا ہے جو خبر کے نام پر توجہ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی پستی میں گر سکتا ہے۔ جو کبھی کھودی ہوئی خالی قبر میں لیٹ کر خبر دینے اور کبھی لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں جھانکنے کو آزادی اظھار راے سے تعبیر کرتا ہے۔ انہی جہالت کی فیکٹریوں نے ایک مفروضے کو حقیقت بنا کر سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی۔

کرونا نے ایسی ہی اندھی عقیدت کا ایک منظر ایران میں بے نقاب کیا جہاں معصومہ قم کے مزار پر عقیدت کے شیرے میں لتھڑے ہوے ایک صاحب زبان سے روزے کی جالی چاٹ چاٹ کر کرونا کو چلینج کرتے رہے۔ آج وہی مزار جو کہ گزشتہ کئی دہایوں سے آباد تھا، جہل کی ایسی بے باک پیش قدمیوں کی بدولت بند اور ویران پڑا ہے۔ اب ہم مزار کے بند ہو جانے پر ضرور افسردہ ہوں لیکن ایسی جہالت کا بھی ماتم ضرور کیجئے جب انسان سے اس کے سب سے قابل فخر اثاثے یعنی عقل کے استعمال کی توفیق چھن جائے۔

کرونا کے بعد، وہ مناظر تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ جہاں اہل علم کی تمام تر تنبیہ کے باوجود کندھے سے کندھا ملا کر اور ٹخنے سے ٹخنہ جوڑ کر نماز پڑھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کاش پاکستان کے ان مولوی صاحب نے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے مسلمان ملک انڈونیشیا کی مسجد کی وہ تصاویر دیکھی ہوتی جہاں سینکڑوں مسلمان مسجد کے اندر سبز رنگ کے ماسک پہنے ایک دوسرے سے گز بھر کے فاصلے پر رہ کر نماز ادا کر رہے ہیں۔

ہماری مذہبی عقیدت کو ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب اذان کے الفاظ میں تحریف کی گئی۔ عرب جو اہل زبان ہیں اور ہماری طرح اذان یا خطبے کے الفاظ کو صرف متبرک سمجھ کر سنتے یا دہراتے نہیں ہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ کو سمجھتے ہیں انہوں نے اس پیغام میں ضرورت اور حالات کے مطابق رد و بدل کردیا۔ اگر وہ یہ تبدیلی نہ کرتے تو ایک طرف خکومت لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیتی اور دوسری طرف نماز کے اوقات میں اعلانیہ لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی جاتی۔ ایک تھوڑ سی بر محل تحریف نے مسئلہ حل کر دیا۔ اسی کو حکمت کہتے ہیں۔ ہمارے یہاں شروع میں اس تبدیلی پر گویا سناٹا چھا گیا اور عقیدے کی عمارت میں جنبش ہونے لگی۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر اذان کے الفاظ میں یہ تبدیلی کی بات یہاں کی جاتی تو ایک طوفان کھڑا ہو جاتا۔ سب خیر ہی رہی لیکن چونکہ کویت اور دوسرے عرب ممالک ہماری پہنچ سے دور ہیں لہذا انشاللہ یہ وقت گزر جائے گا لیکن اس کے بعد یہ محاسبہ بہت ضروری ہے کہ ہم نے کرونا کی اس وبا کے دوران مذہب کے معاملے پر کیا رویہ روا رکھا اور ہم آیندہ اپنے لئے مذہبی رواداری اور اندھی عقیدت میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *