اقصادیات کی مصنوعی ذہانت یا ریاست کی فہم و دانش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کاروباری دنیا یا کارپوریٹ ورلڈ میں فیصلے احساسات اور جذبات سے مبرا ہوکر اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ جو فیصلے ماپ تول کر، گن کر یا دیکھ کر کیا کرتے تھے وہ کلکیولیٹر یا حاسب کی ایجاد اور اس کے بعد کمپیوٹر کی آمد نے بہت ہی سہل کردیے گئے۔ مگر یہاں بات نہیں رکتی کیونکہ حساب رکھنے، اندازے لگانے، فیصلے کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کسی قسم کی بشری غلطی یا ہیومن ایرر کے احتمال کو ختم کرنے کے لئے اس میں سے انسانی عمل دخل کو ختم کردیا گیا ہے اب مصنوعی ذہانت یا آرٹفیشل ایٹیلجنس کا دور آیا جس میں آج ہم جی رہے ہیں۔

افراد کے بجائے سسٹم ہی انفرادی صحت سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک کے سارے سیاسی اور اقتصادی امور فہم و دانش کے بجائے اعداد و شمار کے تجزئے اور ذہانت کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔ اس فیصلہ سازی کے دوران معاشیات اور اقتصادیات کے منافع کا گراف ہی فیصلہ سازی کا معیار ہوتا ہے جس کو ہم ذہانت کہتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے مطابق کووڈ۔ 19 نام کا وائرس فلو کی ایک قسم ہے جس سے پندرہ سے بیس فیصد لوگ زیادہ بیمار ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے پانچ فیصد تک کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ اس حساب سے کسی ملک کی ایک کروڑ کی آبادی متاثر ہو تو ان میں سے پندرہ سے بیس لاکھ لوگ شدید بیمار ہو سکتے ہیں جن میں سے دو چار لاکھ کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ سسٹم کہتا ہے کہ بوڑھے، بیمار، لاغر اور کمزور لوگوں کا اس وبا سے مرنے کے امکانات زیادہ ہیں جن کا مجموعی قومی پیدوارمیں کوئی حصہ نہیں بلکہ اس پر بوجھ ہوتے ہیں۔

چین میں کرونا وائرس کی نشاندہی ان کے سسٹم نے نہیں کی تھی اس لئے پہلا ڈاکٹر جس نے اس وبا کی نشاندہی کی اس پر شک کیا گیا کہ وہ کسی دشمن کی ایما پر لوگوں میں ہیجان پھیلارہا ہے۔ جب تک چین کو صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوا تب کافی دیر ہوچکی تھی۔ چین کے لئے اس وبا کو ہر قیمت پر روکنا اس لئے بھی ضروری تھا کہ وہ دنیا کی برادری میں پہلے سے جاری سیاسی تنہائی کے ساتھ کاروباری لحاظ سے بھی اچھوت نہ بن جائے۔ کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لئے چین نے اپنے فوری اقتصادی نقصان پر دور رس سماجی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جس کے لئے اس نے مصنوعی ذہانت کے بجائے فہم و دانش کا سہارا لیا۔

کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے چین نے مکمل تالہ بندی یا لاک ڈاون کی حکمت عملی اپنائی۔ ایسا کرنا چین کی مجبوری اس لئے بھی تھی کہ مرنے والوں کی موت کا الزام براہ راست چینی حکومت اور اس کے نظام پر تھا جو پہلے ہی حدف تنقید ہے۔ دنیا بھر میں امریکہ اور اس کے یورپی حلیف اس وبا کو چینی وائرس کہنا شروع ہوگئے تھے اور تاریخ میں یہ نام ہمیشہ کے لئے ایک کلنک بن جاتا۔ صوبہ ووہان جہان یہ وبا پھوٹی تھی اس کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔ لوگوں کو گھروں میں مسدود کرنے سے ہفتوں تک ملک میں ایک ایمرجنسی کی صورت حال رہی جس کی وجہ سے کاروبار بند ہوا، تجارت ختم ہوگئی اور پیداوار صفر پرآگئی۔ دنیا کے چین کے ساتھ فضائی، سمندری اور زمینی رابطے ختم ہوگئے اور چین اکیلا رہ گیا جس کی وجہ سے معاشی نقصان کھربوں ڈالر تک پہنچ گیا۔

یورپ اور امریکہ کے لئے کرونا وائرس کے چین میں معاشی نقصانات بہت زیادہ اور متاثر ہونے والے اور مرنے والوں کی تعداد اور شرح موسمی اینفلونزا یا فلو سے کم تھی۔ براعظم یورپ کے ملک اٹلی میں جہاں یہ وبا سب سے پہلے پھوٹی لوگوں نے اس کو زکام سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ کرونا وائرس کے بارے میں لوگوں سے اس لئے بھی حقائق چھپائے گئے کہ اس سے یجان نہ پھیل جائے اور ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھنے والی سیاحت کو نقصان نہ پہنچے۔

حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور شخصیات نے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ اس معمولی نوعیت کی بیماری سے بالکل بھی خوفزدہ نہ ہوں۔ اس دوران اٹلی میں ایک سیاسی اجتماع بھی تھا اور ایک فٹ بال میچ بھی جس کے بعد کرونا کا وائرس بھوسے کے ڈیر میں لگی آگ کی مانند پھیل گیا۔ اٹلی میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کی شرح چین سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔

ایران میں جب کرونا پھیل رہا تھا تو وہاں بھی فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت کے اعداد و شمار سامنے تھے۔ ایران میں امریکی پابندیوں کے بعد اسہال و دست سے مرنے والے بچوں کی تعداد چین میں کرونا سے مرنے والوں کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران کے مقدس مقامات کی زیارات اقصادی پابندیوں میں جھکڑے ملک میں ایک بڑا روزگار کا ذریعہ ہے جس کا اس وبا سے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ ایرانی مذہبی قیادت ایسی معمولی وبا کی وجہ سے اپنے انقلاب کی اکتالیسویں سالگرہ اور پارلیمانی انتخابات کو متاثر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ کروناوئرس سے پھیلی وبا سے بے خوفی کا پیغام دیا گیا اور وبا نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

برطانیہ اور امریکہ کے سرمایہ دارانہ سماج میں فیصلے ہمیشہ سے کاروباری مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ امریکہ کا سرمایہ دارانہ فیصلہ سازی کا نظام ایک ایسی وبا جس کے نقصانات موسمی زکام سے بھی کم ہوں اس کے تدارک کے لئے اتنے بڑے معاشی نقصان کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ برطانیہ کے نظام فیصلہ سازی میں اب بھی کرونا وائرس کی وبا کو زیادہ نقصان دہ متعدی بیماری کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ حکمرانوں کے سامنے دو راستے تھے ایک چین کی حکومت کی طرح لوگون کی نقل و حمل کو جبری مسدود کرکے معاشی نقصان سہہ لیا جائے دوسری صورت میں لوگوں کو ان کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس فلو کا انتخاب کرتے ہیں یا گھروں میں رہ کہ تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکہ میں لیپ کا سال مہا کال ہوتا ہے جس میں امریکی عوام اگلے چار سالوں کے لئے اپنے دنیا کے سب سے طاقتور صدرکا انتخاب کرتے ہیں۔ نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل عوامی احتساب کا عمل ہوگا جس میں صدر ٹرمپ کو دوسری مدت کے لئے منتخب ہونے کے لئے اپنی کارگزاری کی بنیاد پر ووٹ لینے ہوں گے۔ ان حالات میں جب معیشت کا پہیہ جام ہو، کاروبار بند ہو اور بے روزگاری ہو تو ان کے غیر مقبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے مشیروں اور صلاح کاروں نے ان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی فلو سے بھی کم خطرے والی وبا سے نہ گبھرا کر پابندی نہ لگائے۔

پاکستان میں کرونا وائرس پر قابو پانے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں، ادارے، عوام اور خواص سب مصنوعی ذہانت پر پر مبنی ’گھبرانا نہیں‘ کی سرمایہ دارانہ حکمت عملی اور لوگوں کی آزادی کو مسدود کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے چینی طریقہ کار پر یکسو نہ ہوسکے۔ چین سے آنے والوں کے لئے تو لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی گئی مگر یورپ، سعودی عرب، عرب امارات، امریکہ اورایران سے پھیلنے والے وائرس سے پاکستان نہ بچ سکا۔ جو کام دو ماہ قبل صرف ائیرپورٹ اور زمینی رابطوں کو محفوظ بنا کر کیا جاسکتا تھا اب پورے ملک کو بند کرکے بھی نہیں ہو پارہا ہے۔

دنیا کو اپنے غیر ندائی گرداب میں لپیٹے کرونا وائرس کے تدارک پر لائحہ عمل پر صاحبان امر کی منقسم رائے نے اہل اطاعت کو بھی تقسیم کردیا۔ وزیر اعظم اور اس کے حواریوں کا کبھی دبے اور کبھی کھلے لفظوں میں تحفظات کے اظہار سے لاک ڈاؤن پر عمل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ سب سے بڑا سوال جو اس وقت پورے پاکستان کے ذہنوں میں ہے وہ یہ کیا وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اداروں کی منقسم حکمت عملی، پالیسی اور اقدامات سے وہ مقاصد حاصل ہوں گے جس کے لئے 22 کروڑ لوگوں کو ان کے گھروں میں محصور کرکے رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 217 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *