اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے ختم ہونا ہے، ہر وزیر کی وزارت نے کبھی نہ کبھی ختم ہونی ہے۔ ہر عروج نے زوال کا مزا چکھنا ہے۔ یہ حکومت بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس کے وزراء بھی گھروں میں بیٹھے اپنے دور اقتدار کی غلطیوں کو کوس رہے ہوں گے۔ اس کے مشیر بھی بھی اپنی موجودہ حرکتوں پر پشیمان ہوں گے۔ لیکن اس وقت ان کے کروفر پر ہنسنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں ہو گا۔

اس حکومت نے اپنے عروج میں عوام کو زوال کا جو مزا چکھا دیا ہے۔ آزادی میں غلامی کی جو یاد دلا دی ہے۔ گورننس میں اس ملک کے لوگوں کو جو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایسی حکومتوں کو راہ راست پر لانے کے لئے، صراط مستقیم پر چلانے کے لئے ایک آزاد میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس حکومت نے آزادی اظہار کا جس طرح گلا گھونٹا ہے وہ باعث عبرت ہے۔

میر شکیل الرحمن کی گرفتاری سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب آزادی اظہار کا نعرہ منوں مٹی تلے دفن ہو گیا ہے۔ اب تنقید کا ہر راستہ بند کر دیا جا رہا ہے۔ اب صحافت کی کہانی ختم کی جا رہی۔ لیکن یہ قبیح عمل مستقل نہیں ہو سکتا۔ ایسا تاریخ میں کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔ صحافی پہلے بھی بے روزگار ہوئے ہیں۔ آزادی اظہار پر پہلے بھی حملے ہوئے ہیں۔ اخبارات کو حکومت پر تنقید کا پہلے بھی شاخسانہ بھگتنا پڑا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے بہت عارضی لوگ ہوتے ہیں۔

ان کے اقدامات عارضی ہو تے ہیں۔ ان کی سوچ عارضی ہوتی ہے۔ یہ بے روزگار صحافی بھی یہیں رہتے ہیں۔ یہ آئے دن بند ہونے والے چینل بھی یہی رہتے ہیں۔ سچ بولنے والے بھی یہیں رہتے ہیں۔ حق کی آواز بلند کرنے والے بھی یہیں رہتے ہیں، بس حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ اور ایسی منتقم المزاج حکومتیں تو اقتدار کھونے کے بعد مفرور ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کہ ان کی جڑیں نہیں ہوتی۔ یہ خود رو نہیں ہوتیں۔ یہ مصنوعی تنفس سے زندہ رہنی والی حکومتیں زیادہ دیر انتقام کی پالیسی نہیں چلا سکتی۔ یہ اپنے انتقام کے ہی بوجھ سے گر جاتی ہیں۔

جنگ اور جیو کے چیف ایڈیٹر کو ایک جھوٹے الزام میں گرفتار کرنے کے کچھ فوائد بھی ضرور ہوئے ہیں۔ بات اور کھل گئی ہے۔ اب ان صحافیوں کی شکایات ختم ہو گئی ہیں جو شکوہ کرتے تھے کہ ہماری خبریں نہیں چھپتیں۔ اب ان کالم نگاروں کی شکوے دم توڑ گئے ہیں کہ ہمارے کالم نہیں چھپتے۔ اب تنخواہ نہ ملنے والے ملازمیں کا گلہ ختم ہو گیا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کے لیڈر اپنی پریس کانفرنس نہ چلنے کا شکوہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اس ایک گرفتاری سے بات واضح ہو گئی ہے کہ میڈیا کس طرح یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ چینلوں پر کس طرح دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اخبارات پر کس طرح زور زبردستی کی جا رہی ہے۔ سرکولیشن کو کس طرح روکا جا رہے۔ چینلوں کو کس طرح آگے پیچھے کیا جا رہا ہے۔ اگر اخبارات کے ایڈیٹروں سے یہ سلوک روا رکھا جا سکتا ہے تو پھر کسی کو شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو اب میڈیا کے اداروں کو آزادی اظہار کا طعنہ نہیں دینا چاہیے۔

یہ اس حکومت کی بد قسمتی ہے کہ جس شخص کو بھی حکومت کے ایماء پر نیب نے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا۔ عدلیہ نے اسی کو ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ جسے بھی بدنام کرنے کی کوشش کی عوام نے اس کو زیادہ معروف کر دیا۔ جسے بھی قید سے ڈرایا گیا وہ اور زیادہ نڈر اور بے باک ہو کر باہر نکلا ہے۔ جس کو ولن بنایا وہ ہیرو بن گیا اور گرفتار کرنے والے ایسے ولن بن گئے ہیں کہ اب کوئی ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیتا۔ تماشا بنانے والے اب خود تماشا بن گئے ہیں۔ اب گرفتاریوں سے ڈرانے والے لطیفہ بن گئے ہیں۔ بس یاد رکھیں کوئی بھی لطیفہ روز روز نہِں سنا جاتا۔ لوگ ٹھٹھے لگانے کے بعد سنجیدہ بات کے منتظر ہوتے ہیں اور ایسی سنجیدگی کم از کم اس حکومت کے پاس مفقود ہے۔

یہ دور تاریخ میں کس طرح یاد رکھا جائے گا۔ یہ جاننے کے لئے بہت زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ یہ دور اپنے انتقام کے حوالے سے جانا جائے گا۔ اپنے ظلم کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔ بیڈ گورننس اس کا نشان بنے گی۔ نا اہلی اور نالائقی اس دورکا تاریخ میں نام ہو گا۔ ظلم اور بربریت اس کا تاریخ میں اس کا مقام ہو گا۔ ابتری اور بدتری اس دور کا تاریخ میں حوالہ ہو گا۔

وقت کا کمال یہ ہے کہ یہ کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ یہ بدلتا رہتا ہے۔ جو آج صاحب اقتدار ہیں کل نہیں ہوں گے۔ اس دور کی حقیقت کا فیصلہ آج نہیں ہو سکتا۔ اس کا فیصلہ آنے والا کل کرے گا۔ اس کا فیصلہ مورخ کرے گا۔ کہ اس دور پر آشوب میں ہم نے کن تنزلیوں کو چھوا ہے؟ ہم کس پاتال میں گرے ہیں؟ ہم کہاں سے آکر کہاں آکھڑے ہوئے ہیں؟ یہ بات اس حکومت کو ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔ لیکن اب وہ وقت دور نہیں کہ جب بات سمجھ آنے والی ہے۔ اس لئے کہ اس طرح کا نفرت کا بازار ہر وقت گرم نہیں رہ سکتا۔ اس طرح انتقام کی سیاست ہر وقت نہیں ہو سکتی۔ اس طرح زبانوں پر ہر وقت تالے نہیں لگائے جاسکتے۔ ایک وقت آتا ہے کہ جب زبان خنجر چپ رہتی ہے تو لہو ٹپک کر گواہی دیتا ہے۔ اس گواہی کے لئے اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

اس وقت تمام دنیا جنگی بنیادوں پر کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اس کی ویکسین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتیں اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ غریبوں کی مدد ہو رہی ہے۔ خوراک کے ذخائر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ دنوں میں ہسپتال تعمیر ہو رہے ہیں۔ شہروں شہروں ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہاں نفرت کی سیاست اور انتقام کی رذالت ہی ختم نہیں ہو رہی۔ کبھی صحافیوں کو گھر بلا کر ان کے خلاف شرمناک ٹرینڈ چلائے جا رہے ہیں۔ کبھی سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا کی ادائیگیاں روکی جا رہی ہیں۔ جب سب انسانیت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ یاسمین راشد سوال کرنے والے کو ”بھونکنے“ کا طعنہ دے دہی ہیں۔ حکومتی چہیتے وزراء مبینہ طور پر اس ملک میں زائرین کے ذریعے کرونا امپورٹ کر رہے ہیں۔ جب ممالک سرحدیں بند کر رہیں ہم اپنی سرحدوں کو وائرس کے لئے کھول رہے ہیں۔ جب دنیا لوگوں کو گھر رہنے کا مشورہ دے رہی ہے، لاک ڈاون ہو رہا ہے، ہمارے وزیر اعظم ”کرونا ٹائیگر فورس“ بنا رہے ہیں۔

ان سب ناہلیوں پر سوال بنتا ہے۔ لیکن ابتلاء کے اس دور میں ہر سوال کرنے والے کی زبان پر تالے لگانے کی کوشش ہی حکومت کی پرفارمنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے اب یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ لوگوں کو اب اس حکومت کے انتقام سے نہیں انجام سے خوف آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 195 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *