تباہی کی دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کون پڑھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی تباہ کاری  تیز رفتاری سے جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے نیویارک  کو مکمل قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ سیاسی  دباؤ اور  متعدد گورنروں کی  مخالفت کی وجہ سے واپس  لے لیا ہے تاہم امریکہ میں   کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب خوف اور بے یقینی کی دھند گہری ہورہی ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات یورپ  میں بھی ہیں جہاں حکومتیں لاک ڈاؤن اور متعدد پابندیوں کے ذریعے عوام کی اکثریت کو کورونا وائرس سے  محفوظ رکھنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن اس آفت کا کوئی فوری اور آسان حال دکھائی نہیں دیتا۔

کووڈ۔19 کے انسانوں کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے علاوہ   معیشت کو درپیش چیلنجز کے سبب دنیا میں کساد بازاری اور معاشی ڈپریشن کے حالات رونما ہونے والے ہیں۔ دنیا کی چیدہ چیدہ معیشتوں  کے گروپ جی۔20 نے گزشتہ روز  عالمی معیشت کو بحال رکھنے کے لئے پانچ کھرب ڈالر  فراہم کرنے کا اعلان کیاتھا لیکن   یہ بے یقینی بدستور موجود ہے کہ یہ وسائل کون اور کہاں سے فراہم  ہوں گے۔ اس وقت دنیا کے امیر ترین ممالک اپنے لوگوں کو علاج کی سہولت دینے اور بے روزگاری کی صورت میں مالی معاونت کے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد یقینی  بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔  ایسے میں  مشترکہ مقاصد کے لئے فنڈز کہاں سے فراہم کئے جائیں گے۔ عام قیاس یہی ہے کہ     یہ رقم ان وسائل کو کہا جائے گا جو امریکہ سمیت مختلف ممالک اپنے اپنے ملکوں میں مختلف معاشی  سہولتیں دینے اور طبی  انتظام  کو بہتر بنانے  پر صرف کریں گے۔  امریکی کانگرس نے ایک روز پہلے 2200 ارب ڈالر کا ایک پیکیج امریکی عوام کے لئے منظور کیا تھا۔ اسی طرح دیگر حکومتیں بھی اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے وسائل فراہم کررہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان وسائل کو ہی  جی ۔20 ممالک  کی طرف سے فراہم کئے جانے والے  5 کھرب  ڈالر میں شمار کیا جائے گا۔   دنیا کی معیشت کو ان محدود اور  علاقائی بنیاد پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے دوبارہ اپنے پاؤں پر  کھڑا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عالمی لیڈروں کے اعلانات اور فوری اقدامات کی کوششوں کے باوجود  اس بات کا اندازہ کرنا شاید کسی بھی ماہر معاشیات کے بس میں نہیں  کہ انسانی تاریخ کے اس  سب سے بڑے اور خطرناک بحران کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔    ماہرین اور فیصلے کرنے والے  لیڈروں پر اس دباؤ کا اندازہ  جرمنی کے صوبہ  ہیسے سٹیٹ کے وزیر خزانہ تھامس شیفر کی خود  کشی سے لگایا جاسکتا ہے۔ جرمنی کا معاشی مرکز فرینکفرٹ اسی صوبے میں واقع ہے۔ شیفر گزشتہ چند ہفتوں سے کورونا وائرس کے سبب سامنے آنے وال مالی مشکلات سے نمٹنے کے لئے دن رات کام کرتے رہے تھے۔ لیکن بے یقینی اور بحران کی شدت میں  ہر دن کے ساتھ ہونے والے اضافہ کی وجہ سے وہ شاید اس دباؤ کو برداشت نہیں کرسکے۔ ان کی لاش آج ایک ریلوے لائن کے  قریب  ملی۔ پولیس کا خیال ہے کہ انہوں نے خود کشی کی ہے۔

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران  کا سب سے زیادہ اثر ان غریب ملکوں کو برداشت کرنا پڑے گا  جن کے وسائل کم اور آبادیاں زیادہ ہیں۔   یہ ممالک  کثیر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے بھی دبے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک  میں ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ  کرسٹیلانا جیورجیوا نے بتایا ہے  کہ اسے  کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 ممالک کی طرف سے معاشی پیکیجز اور قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔  پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے آئی ایم ایف سے فوری پیکیج مانگا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے علیحدہ علیحدہ ایک ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ ہفتے کے دوران بتایا تھا کہ اس کے پاس  متاثرہ معیشتوں کی مدد کے لئے 50 ارب ڈالر موجود ہیں لیکن اب اس کی سربراہ بتا رہی ہیں کہ بحران کی شدت اور غریب ملکوں کی مشکلات کے پیش نظر انہیں اس سے کہیں زیادہ وسائل  درکار  ہوں گے۔ دنیا کے تمام ممالک کو اس وقت جس شدید سماجی مشکل اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، اس کی وجہ سے  غریب ملکوں کوریلیف دینے کے لئے فنڈز اکٹھا کرنا  آسان نہیں ہوگا۔

ترقی یافتہ اور مالدار ممالک  کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے سامنے خود کو بے بس  محسوس کررہے ہیں۔ اسی  طرح یورپ کی  وہ تمام ریاستیں جنہیں اپنے طبی نظام پر بھروسہ تھا اور سرکاری وسائل کا بڑا حصہ  جہاں  صحت اور سماجی بہبود کے لئے وقف کیا جاتا ہے، اب خود کو تہی دست اور ناتواں محسوس کررہی ہیں۔ چینی کمپنی علی بابا کے ارب پتی مالک  جیک ما کی طرف سے دنیا کے جن ستر ملکوں کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ضروری  طبی ساز و سامان فراہم کیاجارہا ہے ان میں ڈنمارک اور ناروے جیسے امیر اور فلاحی نظام کے حامل ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ ملک  اس ساز و سامان کی فراہمی پر شکرگزاری کا اظہار کررہے ہیں کیوں کہ اس وقت دستانوں سے    لے کر  فیس ماسک اور دیگر حفاظتی سامان  کی فراہمی مشکل ہوچکی ہے ۔ اس سامان  کی پیداوار  کم اور مانگ زیادہ ہے۔ ہر ملک کو اس بنیادی ساز و سامان کی ضرورت ہے لیکن یہ  کسی بھی قیمت پر  دستیاب نہیں ہے۔ اب چین  متعدد ممالک کو وسیع پیمانے  پر ضروری آلات اور حفاظتی سامان فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

دنیا میں کووڈ۔19 کے پھیلاؤ اور دو سو کے لگ بھگ ممالک کے متاثر ہونے کی وجہ سے اکثر ملکوں میں  صحت  سے متعلق ساز و سامان کی پیدا وار جاری رکھنا بھی  آسان نہیں ہے۔  لاک ڈاؤن اور وائرس پھیلنے کی وجہ سے  کام کرنے والے دستیاب کرنا  ایک مشکل مرحلہ بنتا جارہا ہے۔ اسی طرح ایک طرف  مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہسپتالوں کی گنجائش   ناکافی ہوچکی ہے تو دوسری طرف  ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملہ کے اس وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ناروے جیسے چھوٹے  ملک میں ایک مرحلہ پر دس ہزار ڈاکٹر و دیگر میڈیکل عملہ  یا تو قرنطینہ میں تھا یا کورونا وائرس کا شکار ہونے کے سبب زیر  علاج تھا۔ دوسرے یورپی ملکوں اور امریکہ میں لگ بھگ ایسی ہی صورت حال  درپیش ہے۔ اس مسئلہ کو ریٹائرڈ میڈیکل  اسٹاف  کو کام پر  واپس بلا کر یا زیر تعلیم  نوجوانوں کو  مریضوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے  کر حل  کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 وائرس  کا شکار ہونے والے مریضوں کے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی تنفس بحال کرنے  والی مشینوں یا وینٹی لیٹرز کی مانگ میں زبردست اضافہ ہؤا ہے۔  امریکہ جیسا ملک بھی سب مریضوں کے لئے  یہ مشینیں فراہم  کرنا مشکل سمجھ رہا ہے۔ اٹلی میں ڈاکٹر شدید ترجیحی بنیادوں پر کسی مریض کو وینٹی لیٹر فراہم کرتے ہیں۔    فلاحی بہبود  کو ترجیح دینے والے یورپی ممالک کو   ایک ایسی سنگین اور مشکل صورت حال کا سامنا کہ  وہ سب متاثرین کو وینٹی لیٹر فراہم کرکے ان کی زندگی محفوظ رکھنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں۔ کم وسیلہ اور غریب ممالک میں یہ قلت ناقابل برداشت ہوگی۔  ان ملکوں میں جنوبی ایشیا کے سارے ممالک شامل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں لاک ڈاؤن  یا  اسی قسم کے دیگر سخت اقدامات کے تحت کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی  کوششوں   پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتہ کے دوران اچانک 21 روز کا  لاک ڈاؤن نافذ کرکے اس مشکل  سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہاں  پر   اس انتہائی اقدام کا کیا نتیجہ حاصل ہوگا۔ اگر اس طریقے سے بھارت میں کورونا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کو روکا جاسکا تو یہ کسی معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ اس طرح بھارتی عوام چند ہفتے کی مشکل کا سامنا کرکے ایک ایسی آفت سے محفوظ رہ سکیں گے جس کا سامنا کرنے کے لئے ان کی حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں۔

پاکستان میں صرف سندھ کی حکومت نے   فروری میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے  نگرانی اور روک ٹوک کا نظام استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد  علی شاہ نے ہی وزیر اعظم کی مخالفت کے باوجود صوبے میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا جس پر کسی حد تک  دوسرے صوبوں کی حکومتوں نے بھی  عمل شروع کیا ہے تاہم اس میں زیادہ تر فوج کا دباؤ شامل ہے۔  لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے اور عوام کو  سماجی دوری  کا شعور دینے کے لئے  نیم دلانہ کوششیں کی گئی ہیں۔  وزیر اعظم عمران خان  اب تک  ’منصوبہ بندی‘ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آج پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ  عجلت میں کئے ہوئے فیصلے اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ بہت سوچ سمجھ کر اقدامات کررہے ہیں۔  مسئلہ صرف اتنا ہے کہ  کورونا  وائرس پھیلنے کی رفتار،  زیادہ سوچنے اور  اور منصوبے بنانے کا وقت نہیں دیتی۔

پاکستان میں جہالت، دینی رہنماؤں کی کم علمی  و  ہٹ دھرمی اور  میل جول کے ایک خاص مزاج کی وجہ سے اب بھی عام لوگوں  کی بڑی اکثریت کو کورونا سے بچاؤ کے لئے سماجی دوری کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل نہیں ہے۔   جس طرح عمران خان یہ باور کروا رہے ہیں کہ حکومت سوچے سمجھے بغیر کیسے کوئی فیصلہ کرسکتی ہے، اسی طرح دینی رہنما  یہ ماننے پر آمادہ نہیں ہیں کہ   باجماعت نماز پڑھنے یا مساجد میں  اجتماع سے کیسے کوئی بیماری پھیل سکتی ہے۔ بلکہ   اس طرح تو  اللہ ناراض ہوجائے گا۔ اس نظریہ کی بنیاد اس عقیدہ پر رکھی جاتی ہے  کہ سب بیماریاں اور تکلیفیں اللہ  کی طرف سے آتی ہیں۔ نہ انسان انہیں پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کی مرضی و منشا کے بغیر ان کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ کورونا کی دہشت و خوف کے باوجود پاکستانی آبادی کا بڑا حصہ اس عقیدہ  کی چھان پھٹک پر تیار نہیں ہے اور نہ ہی دینی رہنماؤں کی ہٹ دھرمی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ان حالات میں  یہ معلومات دستیاب نہیں ہوسکتیں کہ  ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے کتنے لوگ کورونا وائرس کے کیریئر ہیں اور وہ اپنی لاعلمی یا لاپرواہی کی وجہ سے  کتنے لوگوں کو اس وائرس کا شکار بنا سکتے ہیں۔ اسی لئے پاکستان میں دستیاب  اعداد و شمار قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ قیاس ہے کہ  کورونا  وائرس کے متاثرین کی  نامعلوم اور پوشیدہ تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اگر کسی مدافعتی میکنزم، موسمی اثرات یا  نوجوان آبادی کی وجہ سے اس وائرس  کی ہلاکت خیزی  ایک حد کے اندر نہ رہی تو چند ہفتوں میں ملک کا نظام صحت، سماجی ڈھانچہ اور معاشی انتظام تباہ و برباد ہوسکتا ہے۔  بدقسمتی سے ملکی قیادت  اس مشکل صورت حال کا سامان کرنے کی نہ تو صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کے لئے تیا ردکھائی دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1506 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *