دو بے خوف آدمی: وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین نیب جاوید اقبال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا پچھلے دو ماہ سے خوف، شدید تناؤ کی کیفیت سے دوچار ہے، دنیا کے بڑے بڑے ممالک، بڑی بڑی معیشتیں، بڑے بڑے سپر پاور ایک مہلک وائرس کورونا سے نمٹنے اسے شکست دینے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ کورونا جس نے چین سے شروعات کی اور تباہی مچاتا اب پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، اب تک سات لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ تیس ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ یہ تعداد دن بہ دن انتہائی سرعت سے نہ صرف پھیلتی جا رہی ہے بلکہ تقریباً پوری دنیا بے بس و مجبور ہوچکی ہے کہ آخر کس طرح اس وبا اس آفت سے نمٹا جائے۔

دنیا کے وہ سپر پاور جو اس زعم میں مبتلا تھے جنہیں یہ تکبر تھا کہ ان کی طاقت کے آگے سب کچھ ہیچ ہے، وہ جب چاہیں جسے چاہیں نہ صرف ملیا میٹ کر سکتے ہیں، وہ دنیا کے بادشاہ ہیں جب چاہیں جس ملک میں چاہیں نہ صرف مداخلت کر سکتے ہیں ان ممالک پر عرصہ حیات تنگ بھی کر سکتے ہیں جس کی مثال امریکی چودھراہٹ ہے جو جب چاہتا ہے جس ملک میں چاہتا ہے مداخلت کرتا اور اس ملک پہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اقتصادی معاشی پابندیوں کے ذریعے انہیں مسائل و مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے۔

ہندستان پچھلے کئی سو دنوں سے کشمیری مسلمانوں پہ زندگی تنگ کیے ہوئے ہے، وہ مسلسل اپنے ملک کی اقلیتوں پہ طاقت کے نشے میں چُور ہوکر مظالم کے پہاڑ توڑنے انہیں کچلنے میں لگا ہوا ہے۔ مودی کی فاشسٹ حکومت ہندستان کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے جنون میں اپنے ہی عوام پر ظلم وہ ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ لیکن آج ایک وائرس نے ان فرعونوں کی فرعونیت کو چند دنوں میں خاک میں ملا دیا ہے، یہ سارے عالمی غنڈے متکبر فرعون اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ میں آ گئے ہیں پریشان بے حال ہیں کہ کس طرح خود کو اور اپنی عوام کو اس مہلک قدرتی آفت سے بچائیں، ان کے سارے اقدامات، ساری طاقت، ساری دولت جدید ترین ٹیکنالوجی وسائل ایک وائرس نے چِت کر دیے ہیں۔

دنیا کی بڑی بڑی ایٹمی معاشی اقتصادی طاقتیں کورونا وائرس کے آگے بے بس و مجبور دکھائی دے رہی ہیں۔ اس ساری خطرناک اور ناقابلِ برداشت صورتحال میں دو لوگ ایسے بھی ہیں جو ابھی تک بڑی دلیری بڑی بہادری سے اپنے اپنے مہاذ پہ ڈٹے ہوئے ہیں، اپنے ایجنڈے کے تحت بغیر کسی ڈر و خوف کے عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ کسی کورونا، کسی وبا و قدرتی آفت سے اب تک مرعوب نہیں ہوئے ہیں، ان کے رویوں میں جارحانہ پن رعونت و تکبر ابھی تک ان کے اقدامات سے ظاہر ہے وہ دو شخص پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین نیب جاوید اقبال ہیں جنہیں نہ تو کورونا کی تباہ کاریوں کا احساس ہے نہ ہی انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ یہ وبا جو دنیا کے سات لاکھ لوگوں کو بیمار کر چکی ہے، تیس ہزار سے زائد افراد کو موت کی وادیوں میں پہنچا چکی ہے، نہایت ہی تیز رفتاری سے پوری دنیا کو جکڑتی جا رہی ہے وہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

وزیراعظم صاحب اپنے متکبرانہ رویے کے باعث اپنے کسی سیاسی مخالف سے بات کرنا گوارا نہیں کر رہے، وہ اب تک اس بات سے نالاں ہیں کہ صوبوں نے لاک ڈاؤن کیوں کیا ہوا، وہ ابھی تک اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ان کی باصلاحیت حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے جو تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں وہ دنیا میں کوئی اور حکومت نہیں اٹھا سکی، وہ ابھی تک اسی خواب غفلت میں ہیں کہ ان کی حکومت کے ہوتے کورونا تو کیا کورونا کا باپ بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

وزیراعظم صاحب کی حکومت اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے بجائے آج بھی اپنے سیاسی مخالفین سے نمٹنے انہیں انتقام کا نشانہ بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ وزیراعظم ہر دوسرے روز ٹی وی پہ بیٹھ کر بے وقت کی راگنی الاپتے ہیں اور اس راگنی کے دوران جب کوئی صحافی کوئی ناپسندیدہ سخت سوال کر دیتا ہے تو گالم گلوچ برگیڈ اس صحافی کی لتیں اتارنے میں مصروف ہوجاتا ہے وزیراعظم صاحب کی نتھنوں سے دھواں نکلتا دکھائی دیتا ہے، وزیراعظم صاحب کوئی سائب مشورہ سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، ان کی سنجیدگی اور بے خوفی کا ان دلیری اور بہادری کا تو یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ہمرکاب دوسرے دلیر آدمی چیئرمین نیب جاوید اقبال صاحب کو حکم دیا ہوا ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے اپنی کارروائیاں جاری رکھنی ہیں بلکہ ان میں مزید تیزی لانی ہے۔

پھر اس دوسرے دلیر آدمی نے بھی انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے میر شکیل الرحمان کو چونتیس سال پرانے ایک پراپرٹی کے معاملے میں پکڑ کر جیل میں ڈالا پھر اسی کیس میں ملک سے باہر پہلے سے ہی اپنی زندگی کی جنگ لڑنے والے ایک ستر سالہ شخص میاں نواز شریف کو اپنے حضور پیش ہونے کے احکامات جاری کرتے ہوئے بہادری اور جرئت کی نئی تاریخ رقم کردی۔ نیب چیئرمین نے اپنے باہمت اور جری وزیراعظم کے اشارے پہ ہی سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کروا دیے کہ انہوں نے قواعد و ضوابط اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تقرری کی، جبکہ چیئرمین نیب خود یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنی تقرری کے لئے کون سے قاعدے اور قانون سمیت کن اخلاقی قدروں کا استعمال کیا تھا۔

بہرحال دنیا اس وقت جس قدرتی آفت سے دوچار ہے اس نے تمام عالمی طاقتوں کو سرنگوں کردیا ہے سب کے تکبر و رعونت طاقت و دولت کا نشہ ہرن ہو چکا، سب اپنے اپنے مذاہب عقائد و نظریات کے مطابق ربِ کائنات سے پناہ مانگ رہے ہیں اور اس قدرتی آفت سے نمٹنے اور اس کے سدِباب کی سر توڑ کوششوں میں جُتے ہوئے ہیں، اگر کسی کو اس آفت اس عذابِ الٰہی کی فکر نہیں ہے تو وہ ہمارے یہ دو سورما ہیں جو آج بھی اس قدرتی آفت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے استغفار کرنے اور مل کر اس آفت سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے کے بجائے اس تکبر و غرور میں ڈوبے طاقت و اقتدار کے نشے میں چُور اپنے سیاسی مخالفین اور آئینہ دکھانے والوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ واقعی پاکستان کے دونوں دلیر بہادر جری اشخاص کو تمغہ شجاعت ملنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *