کیا ممکن ہے کہ کچھ درخت قبروں کے لیے بچ جائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے بجٹ کی آگ، کسمپرسی، دہشت گردی، سیاست بازی، حکومت کی چالاکی اور اپوزیشن کی منافقت والی شِکر دوپہر جیسی باتوں کو چھوڑ کر آج ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں والی باتیں کرتے ہیں۔ 5 جون ماحولیات کا عالمی دن ہے۔ ماحولیات کی روح ہرے بھرے درخت ہوتے ہیں۔ چلئے انہی ہری بھری روحوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ جو ہم سے پہلے پیدا ہوئے، وہ جنہوں نے ہم سے پہلے جینا سیکھا، وہ جنہوں نے سانس لینے میں ہماری مدد کی، جن کے قد ہم سے بڑے ہیں، جن کا سایہ ہمیں گہری چھاؤں دیتا ہے، وہ ہمارے دوست، پیارے دوست درخت ہیں۔

رب کائنات کی پیداکردہ یہ ایک ایسی شے ہے جو ساری کی ساری ہمارے لیے اور ہمارے آرام کے لیے بنی ہے۔ ان پر لگنے والے پھل اور پھول کھا کر ہی ہم زندہ رہتے ہیں۔ ان کے جسموں کو کاٹ کر ہم اپنے گھروں کے لیے خوبصورت فرنیچر بناتے اور چولہے کی آگ جلاتے ہیں۔ ان کو مارکر، ان کا صفایا کرکے ہم اپنے آرام دہ راستوں کے لیے کالی اور بے جان سڑکیں بناتے ہیں۔ وہ ہمارے دوست، پیارے دوست درخت ہیں جنہوں نے کبھی گلہ نہیں کیا اور ہمیشہ اپنی نسل بڑھاتے جارہے ہیں کہ انسان اپنی آسائشِ زندگی اور آرائشِ زندگی میں اضافہ کرسکے۔

وہ ہمارے دوست پیارے دوست درخت ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ انسان ہمیشہ کی طرح ناشکرا، احسان فراموش اور بے رحم ہے۔ ہمیں اتنی تکلیف بھی گوارا نہیں کہ اپنے دوست کا سرقلم کرنے کے بعد اس کی جگہ نیا بیج بو دیں تاکہ نیا جنم لینے والا درخت بچہ ہمارے بچوں کے کام آسکے۔ ذرا اندازہ لگائیے، ذرا سوچئے انسان کی خود غرضی کا۔ ہم درختوں کی ہمدردی کے گیت گاتے ہیں۔ ان کی پرورش کے لیے بڑی بڑی تنظیمیں بناکر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں۔

ان سے دوستی کے لیے دن مناتے ہیں لیکن وہ سب باتیں زبانی کلامی ہوتی ہیں۔ اکٹھا کیا گیا فنڈ ہم اجلاسوں اور پارٹیوں کی صورت میں کھا پی جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ درخت کی یاد میں دن منانے کے لیے ہم اپنے فنکشن بھی ریت بجری اور سیمنٹ کے بنے ہوئے بڑے بڑے پلازوں میں کرتے ہیں۔ آج تک شاید کبھی کسی فرد، کسی سرکاری افسر یاکسی این جی او کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ درختوں سے اپنی محبت نبھانے کے لیے ان کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کراپنی میٹنگ کریں۔

کبھی پارلیمنٹ یا کابینہ کا اجلاس درختوں کے سائے میں نہیں ہوا۔ ہم اگر غور کریں تو جنت میں باقی نعمتوں کے ساتھ ساتھ درخت بھی ہمارے ساتھی ہوں گے اور اگر مزید غور کریں تودوزخ میں کوئی درخت نہیں بلکہ ایندھن کے لیے نافرمان انسان ہی استعمال کیے جائیں گے۔ ہم جنتی علامتوں کو کتنی بے دردی سے ضائع کررہے ہیں۔ جو نہ صرف قدرت کی ناشکری ہے بلکہ انسانوں کے لیے زندہ رہنے کا ایک لازمی جزو بھی ہے۔ درخت کے لیے ہرمذہب اور ہرنظریے میں احترام پایا گیا ہے۔

مثلاً بدھا درختوں کے نیچے بیٹھ کر ہی گیان کرتے تھے۔ عیسائیت میں Christmas Tree کتنی اہمیت کا حامل ہے سب جانتے ہیں۔ اسلام میں بھی درختوں کی اہمیت اور افادیت کا بے پناہ ذکر ہے۔ Greek Mythology کے مطابق اچھے مرد اور اچھی عورتیں مرنے کے بعد خوبصورت درختوں میں بدل جاتے ہیں۔ جب 1972 ء میں اقوام متحدہ نے درختوں کی اہمیت کا دن منانے کا اعلان کیا، اگر اس وقت سے پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے ماں باپ اس کے نام کا ایک درخت لگاتے، بچے کے ساتھ ساتھ اس کی بھی پرورش کرتے توآج پاکستان ایک ہری بھری ریاست ہوتا۔

دوسرا دفاعی نقطہ نظر سے بھی ایک کیموفلاجڈ ایریا ہوتا۔ اس کام کے لیے حکومتی آرڈر یا سرپرستی کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ہمیں اپنے انفرادی رویوں اور سوچوں میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔ نئے درخت لگانا تو ایک طرف، ہم نے پہلے سے اُگے ہوئے درختوں کے ساتھ بھی مالِ غنیمت میں آئی ہوئی لونڈی جیسا سلوک کیا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر قبر کے سرہانے درخت لگائیں تو جب تک وہ ہرا بھرا رہے گا اس وقت تک مردے کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے۔ آج کل جتنی تیزی سے ہم درختوں کو سزائے موت سنا رہے ہیں، کیا ممکن ہے کہ کچھ درخت قبروں کے لئے بچ جائیں؟ یا وہ بھی ہمیں آئی ایم ایف اور World Bank کی شرائط کے تحت Import کرنا پڑیں گے جن کا اعلان وزیر خزانہ حکومتی تالیوں کے شور کے دوران بجٹ میں کیا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *